’ترکی اور کردوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بچوں کی طرح لڑنا ہی تھا‘

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا گیا —فائل فوٹو: رائٹرز
امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا گیا —فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترک اور کرد افواج کو ہلاکت خیز مقابلے میں لڑائی کی اجازت دی کیوں کہ دونوں بچوں کی طرح ہیں جنہیں ایک دوسرے سے لڑنا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ٹیکساس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے جو کیا وہ غیر روایتی تھا، میں نے کہا تھا کہ وہ کچھ دیر بعد لڑ پڑیں گے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایسا ہے ’جیسے کسی مجمعے میں 2 بچے ہوں، پہلے آپ انہیں لڑنے دیتے ہیں اور اس کے بعد آپ انہیں الگ کرتے ہیں‘۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ کچھ دن تک لڑے اور یہ بہت خطرناک تھا‘۔

ہی بھی پڑھیں:’بیوقوف نہ بنیں‘، ٹرمپ کا شام میں حملوں پر اردوان کو خط

ریلی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ’امریکی خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا گیا‘۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم وہاں گئے اور ہم نے کہا کہ ہمیں تعطل چاہیے اور کرد بہت زبردست تھے وہ تھوڑا بہت پیچھے ہٹنے والے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم داعش کو اچھے طریقے سے پابند رکھنا چاہتے ہیں، ہم ان میں سے مزید کو تلاش کریں گے اور ترکی اس کے لیے تیار ہے‘۔

امریکی صدر کے اس بیان پر داعش مخالف اتحاد کے سابق نمائندہ خصوصی بریٹ میک گرگ نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا ’2 بچوں‘ کی طرح لڑنے والا بیان ’بے ہودہ اور جاہلانہ‘ ہے۔

مزید پڑھیں: شام میں کرد ٹھکانوں پر حملے، امریکا نے ترکی پر پابندیاں لگادیں

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’2 لاکھ بے گناہ افراد دربدر ہوئے، سیکڑوں ہلاک ہوئے، جنگ جرائم کی معتبر اطلاعات ہیں، داعش کے قیدی فرار ہوگئے، امریکا انخلا کررہا ہے اور اپنی ہی پوزیشنز پر بمباری کررہا یا انہیں روس کے حوالے کررہا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ) مجمعے میں 2 بچے لڑرہے ہیں'۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال مشرقی علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا کر کے کردوں کے خلاف ایک ہفتے پر محیط حملے کو ہوا دی تھی۔

شام میں جنگ سے ہونے والے جانی نقصانات پر نظر رکھنے والی سیریئن آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق ترکی کے حملوں کے نتیجے میں درجنوں شہریوں سمیت 5 سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ 3 لاکھ شہری دربدر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی، امریکا شمال مشرقی شام میں جنگ بندی پر راضی ہوگئے، مائیک پینس

مذکورہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے وفادار ساتھیوں کی جانب سے بھی اس الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ ان کے ایک ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلہ کرد جنگجوؤں کو دھوکا دینا تھا جنہوں نے حالیہ سالوں میں داعش کے خلاف لڑائی میں گہرے زخم کھائے ہیں‘۔

بعدازاں 17 اکتوبر کو امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ مذاکرات کے بعد ترکی نے سرحد کے ساتھ محفوظ علاقوں سے کردش اتحادی افواج کے انخلا کی صورت میں کارروائی معطل کرنے اور حملہ روکنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔