افغانستان: نماز جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکا، 62افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

دھماکے کے وقت مسجد میں 350 سے زائد نمازی موجود تھے— فوٹو: رائٹرز
دھماکے کے وقت مسجد میں 350 سے زائد نمازی موجود تھے— فوٹو: رائٹرز

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 62 نمازی جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوغیانی نے خبرایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے اندر رکھے دھماکا خیز مواد کے نتیجے میں کئی دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

مزید پڑھیں: افغان صدارتی انتخاب کے دوران 85 شہری جاں بحق ہوئے، اقوام متحدہ

انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت جلال آباد سے 50کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع ہسکا مینا کے علاقے جودارا میں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد نمازی تھے۔

ضلع ہسکا مینا کے ہسپتال میں موجود ڈاکٹر کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 62 سے تجاوز کرگئی ہے۔

ننگریار کی صوبائی کونسل کے رکن سہراب قدیری نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک دھماکے میں زخمی ہونے والے 100 سے زائد افراد کو ہسپتال لایا جا چکا ہے۔

علاقے میں ڈیوٹی پر معمور ایک مقامی پولیس اہلکار تیزاب خان نے کہا کہ امام صاحب کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی کہ اچانک دھماکا ہوا اور ان کی آواز آنا بند ہو گئی، میں موقع پر پہنچا تو درجنوں افراد مسجد کی تباہ شدہ چھت کے ملبے تلے دبے ہوئے جاں بحق اور زخمی افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ابھی تک کسی نے بھی دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن صوبہ ننگرہار میں طالبان اور داعش کے شدت پسند گروپ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں انتہائی متحرک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'افغانستان میں تشدد کی نئی لہر پاکستان میں مزید مہاجرین کی آمد کا باعث بن سکتی ہے'

عینی شاہدین کے مطابق زوردار دھماکے کے فوراً بعد چھت زمین بوس ہو گئی البتہ اب تک دھماکے کی نوعیت کا علم نہیں ہو سکا۔

مقامی افراد کے مطابق جس وقت دھماکا ہوا، اس وقت نماز جمعے کی ادائیگی کے لیے 350 سے زائد افراد مسجد میں موجود تھے۔

ایک عینی شاہد 65سالہ حاجی امانت خان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دھماکے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے اور زخمیوں اور لاشوں کو کئی ایمبولینسوں میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

یہ دھماکا ایک ایسے موقع پر ہوا جب ایک دن قبل جمعرات کو ہی اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جولائی سے ستمبر کے دوران افغانستان میں پرتشدد واقعات خصوصاً شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جو ناقابل قبول ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور میں افغان قونصل خانے کی احتجاجاً بندش پر افسوس ہے، دفترخارجہ

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سبب یہ تاثر بھی جنم لے رہا ہے کہ افغانستان میں 18سال سے جاری اس جنگ میں کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور کوئی بھی فریق اس میں فاتح نہیں ہو گا۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تادا میچی یاما موتو نے کہا شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں اور مذاکرات کے ذریعے سیز فائر اور مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں افغانستان میں شہریوں کی ہلاکت میں 42فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، رواں سال یکم جولائی سے 30ستمبر تک افغانستان میں ایک ہزار 174 شہری جاں بحق اور 3ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

پاکستان کا انسانی جانوں ضیاع پر افسوس

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں جمعے کی نماز کے دوران بم دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور غم کا اظہار کیا۔

وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مسجد جائے امن ہے اور ایسے مقام پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔