’ آزادی مارچ‘ کے پیشِ نظر پولیس کی انسداد فسادات مشقیں

اپ ڈیٹ نومبر 01 2019

ای میل

سٹی پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس نے آزادی مارچ کے دوران عوام اور املاک کو تحفط فراہم کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں — فائل فوٹو: فیس بک
سٹی پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس نے آزادی مارچ کے دوران عوام اور املاک کو تحفط فراہم کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں — فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے دوران امن و امان سے متعلق کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کے تحت پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں سیکڑوں مسلح اور عام پولیس کی انسداد فسادات مشقیں ہوئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سٹی پولیس افسر محمد فیصل رانا کی قیادت میں مشقوں کے انعقاد سے متعلق 4 حصوں پر مشتمل ایک منٹ کی ویڈیو بھی پولیس کی جانب سے جاری کی گئی جس میں پولیس اہلکاروں کو پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں جمع ہوتے دکھایا گیا تھا۔

ویڈیو میں دکھائی جانے والی مشق میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا جبکہ اہلکاروں کو ایک گروہ انسداد فسادات کے آلات لے کر قریب ہی کھڑا ہوا تھا۔

پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو کے دوسرے حصے میں سی پی او کو آنسو گیس کے دھوئیں سے بچنے کے لیے ماسک پہنے اور لٹ پروف جیکٹ پہنے دیکھا گیا جو انسداد فسادات اسکواڈ سے ان کی تیاریوں کے متعلق پوچھ رہے تھے۔

مزید پڑھیں: آزادی مارچ: 'ہم حکومت کے ہر انتہائی قدم کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں'

خیال رہے کہ آزادی مارچ کے دوران راولپنڈی پولیس کی معاونت کے لیے صوبہ پنجاب کے دیگر اضلاع سے مزید 5 ہزار اہلکار بھی طلب کیے گئے ہیں۔

ویڈیو میں پولیس اسکواڈ کو حفاظتی ہیلمٹس، شلیڈز اور بیٹنز پہنے ہوئے دیکھا گیا۔

پولیس کی ان مشقوں سے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑگئیں کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مظاہرین اسلام آباد میں دھرنا دیں گے لیکن پولیس نے دعویٰ کیا کہ کسی کو بھی امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اسی لیے پنجاب کانسٹبلری اور دیگر اضلاع سے مقامی پولیس کی معاونت کے لیے 5 ہزار اضافی پولیس اہلکاروں کو بلایا گیا ہے۔

اس حوالے سے سٹی پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس نے آزادی مارچ کے دوران عوام اور املاک کو تحفط فراہم کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فسادات سے نمٹنے کے لیے طلب کیے جانے والے تمام آلات ضلعی پولیس نے فراہم کردیے تھے۔

علاوہ ازیں پولیس نے 120 کنٹینزر منگوا کر شہر کو سیل کرنے کا ہنگامی منصوبہ بھی تیار کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا اپوزیشن کو 'آزادی مارچ' کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ

اس حوالے سے ترتیب دیے گئے سیکیورٹی پلان کے مطابق اسلام آباد جانے والی سڑکوں اور داخلی راستوں کو کنٹینرز کے ذریعے بند کیا جائے گا۔

پولیس نے متعلقہ حکام سے رینجرز کی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ فوج اسٹینڈ بائی پر رہے گی۔

راولپنڈی پولیس نے کیڑنگ، ٹینٹ سروس اور ٹرانسپورٹرز کی فہرستیں بھی تیار کرلی ہیں اور انہیں مظاہرین کو کھانا اور دیگر خدمات فراہم کرنے سے روکے جانے کا امکان ہے۔

ڈان اخبار کی علیحدہ رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ میں امن و امان کی خراب صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب کے 36 اضلاع میں 800 سے ریزورز قائم کیے گئے ہیں۔

راولپنڈی میں 120، اٹک میں 80، لاہور میں 50، رحیم یار خان میں 18 اور ملتان میں 16 ریزورز قائم کیے گئے ہیں۔

آزادی مارچ

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرے گی۔

اپوزیشن جماعت کے سربراہ کا اس آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد 'وزیراعظم' سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان 'جعلی انتخابات' کے ذریعے اقتدار میں آئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اس لانگ مارچ کے لیے پہلے 27 اکتوبر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں اسے 31 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا، ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منایا جاتا ہے، لہٰذا اس روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے حکومت کی 7 رکنی کمیٹی تشکیل

اس آزادی مارچ کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے جے یو آئی (ف) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔

ابتدائی طور پر کمیٹی کے رکن اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے ملاقات کے لیے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو اس ملاقات کی اجازت دی تھی۔

تاہم 20 اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پارٹی کے وفد کو صادق سنجرانی سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ اب اپوزیشن کی مشترکہ رہبر کمیٹی کرے گی۔

علاوہ ازیں 21 اکتوبر کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سے مذاکرات پرامن مارچ کی یقین دہانی کے بعد ہوں گے۔