ڈیوس کپ: بھارت کا نسبتاً کمزور ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2019

ای میل

پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیوس کپ کے میچز 29 اور 30نومبر کو کھیلے جائیں گے— فائل فوٹو: اے پی
پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیوس کپ کے میچز 29 اور 30نومبر کو کھیلے جائیں گے— فائل فوٹو: اے پی

پاکستان میں شیڈول ڈیوس کپ کے میچز کے لیے بھارتی ٹیم کے سینئر کھلاڑی دستبردار ہوگئے ہیں جس کے بعد بھارتی ٹینس فیڈریشن نے جونیئرز اور سابق کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشین اوشیانا گروپ ون کے مقابلے اسلام آباد کے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں 14 اور 15 ستمبر کو شیڈول تھے۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت ڈیوس کپ ٹائی کی نئی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے سبب ان مقابلوں کو ملتوی کردیا گیا تھا اور اب یہ مقابلے 29 اور 30نومبر کو منعقد ہوں گے۔

بھارت نے ان مقابلوں کو پاکستان سے منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جس کا فیصلہ 3نومبر کو سامنے آئے گا۔

بھارت کے موجودہ اسٹار کھلاڑیوں مہیش بھوپتی اور روہن بوپنا نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر پاکستان جانے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد بھارتی حکام نے نسبتاً کمزور ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن نے جن کھلاڑیوں کے ویزا کے لیے پاکستان کو درخواست دی ہے ان میں 46سالہ لینڈر پیس کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے پاکستان جانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی خدشات: پاک بھارت ڈیوس کپ ٹائی نومبر تک ملتوی

لینڈر پیس نے آخری میچ اپریل 2019 میں کھیلا تھا جب انہوں نے چین کے خلاف ڈبلز میچ میں کامیابی حاصل کر کے تاریخ رقم کی تھی۔

جن دیگر کھلاڑیوں کے نام ویزا کے لیے بھیجے گئے ہیں ان میں سکیتھ منینی، ارجن کاڈھے، وجے سندر پرشانتھ سری رام بالاجی، سدہارتھ راوت اور منیش سریش کمار شامل ہیں۔

پاکستان میں میچز کے انعقاد کے حوالے سے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن اپنا حتمی فیصلہ 4نومبر کو سنائے گی جس کے بعد کھلاڑیوں کے ناموں کے حوالے سے آخری فیصلہ کیا جائے گا۔