دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ابوبکر بغدادی مارا گیا، ٹرمپ

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2019

ای میل

ٹرمپ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس میں ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کا اعلان کیا—فوٹو:اے پی
ٹرمپ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس میں ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کا اعلان کیا—فوٹو:اے پی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو شام میں امریکی فوج نے ایک آپریشن میں ہلاک کردیا۔

واشنگٹن میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘فوج نے ایک کمپاؤنڈ میں تقریباً 2 گھنٹے تک کارروائی کی اور مشن کی تکمیل کے بعد انتہائی حساس مواد اور معلومات جمع کی گئیں جو داعش کے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق تھیں’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘بغدادی کی ہلاکت امریکا کی دہشت گرد رہنماؤں کے خلاف امریکا کا عزم ہے اور ہمارا مقصد داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مکمل خاتمہ ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ ماہ ہم نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو مارا جو لوگوں، ہمارے ملک اور دنیا کے بارے میں برے ارادے رکھتے تھے لیکن اب ہم نے انہیں مکمل طور پر تباہ کردیا ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:ایک مرتبہ پھر داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کا دعویٰ

امریکی صدر نے کہا کہ ‘بغدادی میرے صدر بننے سے قبل بڑے عرصے سے سرگرم تھے لیکن امریکا کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے میرے احکامات تھے کہ ان کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور ایک مرتبہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ ہم داعش کے باقی ماندہ دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے’۔

داعش کے دہشت گردوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ بعض معاملات میں انتہائی بزدل ہیں اور بعض معاملات میں بے رحم دہشت گرد ہیں، انہوں نے معصوم امریکیوں کا قتل کیا’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شہریوں کی زندگیوں کو ختم کیا گیا، لیبیا، مصر اور دیگر علاقوں میں عیسائیوں کو مارا گیا اور یزیدیوں کی نسل کشی کی گئی، دنیا نے جبری طور پر مذہب کی تبدیلی اور سر قلم ہوتے دیکھا جو بغدادی کا خاصہ تھا لیکن اب اس بغدادی کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

کارروائی میں تعاون کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ کارروائی صرف دوسرے ممالک اور لوگوں کی مدد سے ممکن ہوسکی جس کا اعتراف ضروری ہے’۔

مزید پڑھیں:داعش سربراہ ابوبکر بغدادی کا نائب امریکی حملے میں ہلاک

امریکی صدر نے کہا کہ ‘میں روس، ترکی، شام اور عراق جیسی اقوام اور شام کے مخصوص حلقے کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ایک خطرناک کارروائی تھی’۔

قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ابوبکر البغدادی کو شام میں کارروائی کے دوران مارا گیا تاہم باقاعدہ اعلان امریکی صدر کی جانب سے متوقع تھا۔

ایک امریکی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا تھا کہ ابوبکر البغدادی کو رات گئے ایک چھاپے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایک اور عہدیدار کا کہنا تھا کہ ابوبکر البغدادی کو شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں مارا گیا تاہم داعش کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کرسکتے کیونکہ اس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ عراق اور شام کے وسیع علاقے پر داعش نے جون 2014 میں قبضہ کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی فضائی حملے میں داعش کا نائب سربراہ ہلاک

ابوبکر البغدادی نے خلیفہ ہونے کا اعلان کیا تھا، اس کے بعد متعدد مرتبہ ابوبکر البغدادی کے زخمی اور ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہیں، تاہم کبھی ان خبروں کی تصدیق نہ ہو سکی تھی۔

مارچ 2017 میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ابو بکر البغدادی امریکا کی اتحادی افواج کی مدد سے عراقی فورسز کی جانب سے موصل میں شروع کیے گئے آپریشن کے دوران مبینہ طور پر فرار ہوگئے ہیں جبکہ انہوں نے فرار ہونے سے قبل موصل جنگ کی کمانڈ مقامی کمانڈر کے سپرد کردی تھی۔

بعد ازاں جون 2017 میں روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ شام کے شہر رقہ میں روسی فضائیہ کی بمباری میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

عراقی وزارت داخلہ کے حکام نے 13 فروری 2018 کو دعویٰ کیا تھا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی زندہ ہیں اور ایک فضائی کارروائی میں زخمی ہونے کے بعد وہ شام کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

میڈیا میں 2014 میں رپورٹس آئی تھیں کہ لبنان میں ایک خاتون اور ایک بچہ قید ہیں جن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ اور بچہ ہے۔

مزید پڑھیں:ابوبکر البغدادی کا بیٹا شامی فوج سے لڑتے ہوئے ہلاک

اپریل 2019 میں امریکا نے شام، افغانستان سمیت دیگر ممالک میں پرتشدد کارروائیوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر ڈھائی کروڑ ڈالر (3 ارب 54 کروڑ 15 لاکھ روپے) کا انعام مقرر کیا تھا۔

اسی دوران ابو بکر البغدادی 5 سال میں پہلی مرتبہ ان کی تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں منظر عام پر آئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں داعش کی جانب سے قرار دیا گیا تھا کہ ان کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے بیٹے شامی فوج سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

ابو بکر البغدادی کے بیٹے کی ہلاکت کی خبر تنظیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سامنے آئی تھی جس میں ایک نوجوان کی تصویر، جس کے ہاتھ میں رائفل تھا، بھی شیئر کی گئی اور اس کا نام حذیفہ البدری بتایا گیا۔