منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز اشتہاری قرار

اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2019

ای میل

نیب سلمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہا ہے—فائل فوٹو: ڈان
نیب سلمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہا ہے—فائل فوٹو: ڈان

لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کے ایک مرتبہ پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دے دیا۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر سماعت کی۔

اس دوران نیب پراسیکیوٹر حافظ اسد اللہ اعوان کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تمام متعلقہ اداروں نے رپورٹ جمع کروادی ہے کہ سلمان شہباز کی تمام جائیداد قرق کرلی ہیں۔

واضح رہے کہ عدالت نے سلمان شہباز کی تمام جائیدادوں کو قرق کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: سلمان شہباز کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

نیب کی جانب سے عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں متعدد مرتبہ طلبی کے باوجود سلمان شہباز پیش نہیں ہو رہے۔

اس دوران انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دیا جائے، جس پر عدالت نے نیب کی یہ درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دے دیا۔

ساتھ ہی عدالت نے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو، سلمان شہباز اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں نیب کا یہ موقف رہا کہ منی لانڈرنگ کیس میں سلمان شہباز کو 6 مرتبہ کال اپ نوٹس جاری کیے گئے، تاہم وہ نیب تحقیقات میں شامل نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ عدالت میں نیب کی جانب سے درخواست میں بتایا تھا کہ چیئرمین نیب نے سلمان شہباز کی گرفتار کے لیے وارنٹ جاری کرچکے ہیں، تاہم وہ ملک سے باہر فرار ہوچکے ہیں۔

سلمان شہباز کے ضبط کیے گئے اثاثے

دوران سماعت نیب کی جانب سے سلمان شہباز کی جائیداد و اثاثوں کی تفصیل پیش کی گئیں۔

نیب نے بتایا کہ سلمان شہباز کی 16 کمپنیز میں موجود 2 ارب سے زائد مالیت کے شیئرز ضبط کرلیے گئے ہیں، اس کے علاوہ نیب نے سلمان شہباز کے 3 مختلف بینک اکاونٹس میں موجود 41 لاکھ سے زائد رقم بھی ضبط کرلی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سلمان شہباز کے 2 مختلف بینک اکاونٹس میں موجود 4 ہزار سے زائد امریکی ڈالر بھی ضبط کرلیے گئے ہیں جبکہ احتساب کے ادارے نے مختلف مقامات پر سلمان شہباز کی ملکیت میں موجود 209 کینال 10مرلے زرعی اراضی بھی ضبط کرلی ہے۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے سلمان شہباز کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور پولیس کو 10 اگست تک انہیں ہر حال میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملزمان کا شہباز شریف، ان کے بیٹوں کیلئے منی لانڈرنگ کا اعتراف

نیب نے پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اعوان کے توسط سے احتساب عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ سلمان شہباز منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں ملوث ہیں، لہٰذا عدالت ان کی گرفتاری کا حکم دے۔

بعد ازاں 10 اگست کو نیب کے زیر حراست 2 وعدہ معاف گواہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

ملزمان نے اعتراف کیا تھا کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کی ایما پر پاکستان میں 24 لاکھ ڈالر سے زائد رقم ٹی ٹی کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب نے شہباز شریف کے بڑے بیٹے حمزہ شہباز کو پہلے ہی گرفتار کر رکھا ہے اور ان کے ریمانڈ میں کئی بار توسیع کی جاچکی ہے۔