خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے، تعداد 59 ہوگئی

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2019

ای میل

پولیو کی بڑی وجہ والدین کا بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے سے انکار ہے — فائل فوٹو: شٹراسٹاک
پولیو کی بڑی وجہ والدین کا بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے سے انکار ہے — فائل فوٹو: شٹراسٹاک

خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں رواں سال 10 ماہ کے دوران پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 59 تک پہنچ گئی۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) خیبرپختونخوا کے مطابق پولیو کے حالیہ کیسز پائی ضلع ٹانک اور سرائے نورنگ ضلع لکی مروت سے رپورٹ ہوئے۔

ای او سی کے مطابق ضلع ٹانک میں 14 ماہ اور لکی مروت میں 9 ماہ کے بچے پولیو سے متاثر ہوئے اور دونوں ہی بچوں کو حفاظتی قطرے نہیں پلائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے

ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق متاثرہ بچوں کے فضلے کے نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ میں پولیو کی تصدیق ہوئی۔

صوبے بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 59 ہوگئی—فوٹو: سراج الدین
صوبے بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 59 ہوگئی—فوٹو: سراج الدین

ای او سی کے مطابق رواں سال کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیو کیسز کی تعداد 59 ہوگئی ہے جس کی بڑی وجہ والدین کا بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے سے انکار ہے۔

کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط نے کہا کہ چیلنجز اور مشکلات کے باوجود حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 10 ماہ کے دوران پولیو کے 77 کیسز رپورٹ

انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہر بچے تک پہنچنا ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔

صوبے بھر سے رپورٹ کیے گئے 58 کیسز میں سے 23 ضلع بنوں سے، ضلع لکی مروت سے 12، ضلع شمالی وزیرستان سے 8، ضلع تورغر سے 7، ضلع ہنگو سے 2 اور چارسدہ، ڈیرہ اسمٰعیل خان، شانگلہ، باجوڑ اور خیبر اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع سے ایک، ایک کیسز رپورٹ کیے گئے۔

دوسری جانب صوبہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور جامشورو سے مجموعی تعداد میں 9 کیسز سامنے آئے۔

صوبہ بلوچستان سے قلعہ عبداللہ، جعفرآباد، ہرنائی اور کوئٹہ کے اضلاع سے 7 کیسز اور صوبہ پنجاب میں لاہور اور جہلم سے پولیو کے 5 کیسز رپورٹ کیے گئے۔