کرپشن کینسر ہے، خاتمے کیلئے بڑی سرجری کی ضرورت ہے، چیئرمین نیب

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2019

ای میل

چیئرمین نیب نے کہا کہ ملکی معیشت کے زوال میں کرپشن کا بہت بڑا ہاتھ ہے —فوٹو: ڈان نیوز
چیئرمین نیب نے کہا کہ ملکی معیشت کے زوال میں کرپشن کا بہت بڑا ہاتھ ہے —فوٹو: ڈان نیوز

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہر صوبے نے بڑھ چڑھ کر کرپشن میں حصہ لیا، جہاں وسائل تھے وہاں کرپشن ہوئی اور جہاں نہیں تھے، وہاں پہلے وسائل پیدا کیے گئے پھر کرپشن کی گئی۔

سکھر میں نیب افسران سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے زوال میں کرپشن کا بہت بڑا ہاتھ ہے، کرپشن کینسر کی طرح ہے جس کے خاتمے کے لیے بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: حقیقی اور جعلی تاجر کمیونٹی کے فرق کو سمجھنا ہوگا، نیب چیئرمین

ان کا کہنا تھا کہ نیب فرائض کی ادائیگی میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرے گا اور ملک کی بہتری کے لیے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔

انہوں نے پھر دہرایا کہ ’نیب سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتا‘۔

چیئرمین نیب نے بتایا کہ نیب کے مختلف عدالتوں میں ایک ہزار 235 ریفرنسز زیر التوا ہیں جس میں 900 ارب روپے کی خطیر رقم ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ دو برس میں ثابت کیا ہے کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نیب ریفرنس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچاتا لیکن واضح رہے کہ ریفرنس کا دائر کرنا ہی دراصل منطقی انجام ہوتا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ججز کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ انصاف کے حصول میں کم وقت لگے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب نے تاجروں کے تحفظات کو بے بنیاد قرار دے دیا

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ’میں خود 35 برس عدلیہ کا حصہ رہا اور اس دوران ہم نے متعدد مرتبہ ارباب اختیار کو ججز کی تعداد بڑھانے پر زور دیا‘۔

تفتیشی افسران کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم دستاویزی شواہد پر منحصر ہوتے ہیں اور تفتیشی افسران کا کام ترتیب وار شواہد کو جمع کرنا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل تحقیقات میں تاخیر سے متعلق جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا تھا کہ ’وائٹ کالر کرائم لاہور سے شروع ہوتا ہے، اسلام آباد پہنچتا ہے، اسلام آباد سے دبئی اور دوسری ریاستوں میں چلا جاتا ہے اور ایک صبح آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ تمام جائیداد اور فارم ہاؤسز تو یورپ یا برطانیہ یا امریکا یا آسٹریلیا میں موجود ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے آگے متعلقہ پراسیکیوٹر عدالت میں ریفرنس پیش کردیتے ہیں اس طرح نیب کا 90 فیصد کام مکمل ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں: 'چیئرمین نیب کے انٹرویو کا مقصد اگر سیاست کو بدنام کرنا تھا تو وہ پورا ہوگیا'

چیئرمین نیب نے کہا کہ ’نیب کو قدم قدم پر احتساب کا سامنا ہوتا ہے‘۔

انہوں نے اقرار کیا کہ ’دو ریفرنس بہت مضبوط تھے لیکن تفتیشی افسران کی جانب سے دستاویزات میں کمی کی وجہ سے ریفرنس غیر موثر ہوا‘۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ مجھ پر جو بھی الزام لگایا جائے گا اس پر میں کچھ نہیں کہتا لیکن نیب پر کوئی انگلی اٹھے گی یا الزام لگے گا تو ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میرے فرائض میں شامل ہے میں اپنے ادارے کا مکمل دفاع کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’افسران کی لاپرواہی، غفلت اور بدنیتی برداشت نہیں کی جائے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ چند تفتیشی افسران ایسے ہیں جنہیں معاملات کی ابتدائی معلومات تک نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'چیئرمین نیب کے انٹرویو کا مقصد اگر سیاست کو بدنام کرنا تھا تو وہ پورا ہوگیا'

چیئرمین نیب نے بتایا کہ ’سکھر میں افسران سے متعلق چند شکایات موجود ہیں، میں پہلے خود تفتیش کروں گا اور اگر افسران ملوث ہوئے تو ان کے خلاف انکوائری شروع ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں کسی دھمکی، لالچ اور دباؤ میں نہیں آتا، صرف کیس کے میرٹ کو دیکھتا ہوں‘۔