جب سانپ کے کاٹنے پر کسان نے اپنی انگلی ہی کاٹ دی

31 اکتوبر 2019

ای میل

— فوٹو بشکریہ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ
— فوٹو بشکریہ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ

اگر کوئی زہریلا سانپ ڈس لے تو آپ فوری طور پر کیا کریں گے؟ کیا متاثرہ حصے کو کاٹ کر پھینک دیں گے؟

ویسے تو یہ ردعمل بہت زیادہ انتہاپسندانہ ہی سمجھا جاسکتا ہے مگر چین میں ایک کسان نے ایسا ہی کیا۔

ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ ژجیانگ کے ضلع شانگیو کے ایک گاﺅں میں ایک زہریلے سانپ نے 60 سالہ کسان کو انگلی پر ڈس لیا اور اسے جو واحد راستہ جان بچانے کے لیے سمجھ میں آیا وہ انگلی کاٹ لینا تھا، جس کے بعد اس نے قریبی شہر میں ہسپتال کا رخ کیا۔

مگر وہاں جب ڈاکٹروں نے مریض کا علاج شروع کیا تو یہ دل توڑ دینے والا انکشاف کیا کہ کسان کو اپنی انگلی کاٹنے کی ضرورتر نہیں تھی۔

جس سانپ نے کسان کو کاٹا تھا، وہ پٹ وائپر کہلاتا ہے جس کے بارے میں مقامی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب یہ سانپ ڈس لے تو وہ 5 قدم چلنے کے بعد زہر کے اثر سے گر کر مرجاتا ہے۔

اسی خیال کے پیش نظر زہر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کسان نے فوری طور پر اپنی شہادت کی انگلی کو کاٹ دیا اور پھر زخم پر پٹی لپیٹ کر 80 کلومیٹر دور ہینگزو میں واقع ہسپتال پہنچا۔

اس کسان کا نام زینگ بتایا گیا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت ٹھیک ہے اور کسی قسم کی خطرناک علامات جیسے سانس لینے میں مشکلات، سردرد یا مسوڑوں سے خون آنے وغیرہ کا سامنا نہیں ہوا۔

ڈاکٹر یوآن چینگدا کے مطابق کسان کو اپنی انگلی کاٹنے کی ضرورت نہیں تھی، درحقیقت وہ سانپ بہت زیادہ زہریلا نہیں تھا۔

اس طرح کے سانپ کی مختلف اقسام کا زہر خون کے خلیات کو نقصان پہنچا کر جریان خون کا باعث بنتا ہے اور بڑی جسامت کے سانپ انسانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔

چین میں سانپ کے ڈسنے پر کسان جیسے ردعمل کا اظہار غیرمعمولی نہیں بلکہ سانپ ڈسنے کے بعد علاج کے حوالے سے زیادہ معلومات نہ ہونے کے باعث لوگ زخم کے مقام کو کاٹ کر وہاں سے خون چوستے ہیں تاکہ زہر نکل سکے جو کارآمد نہیں ہوتا۔