وزیراعظم کا کرتارپور آنے والے سکھ یاتریوں کیلئے خصوصی رعایتوں کا اعلان

اپ ڈیٹ 01 نومبر 2019

ای میل

افتتاحی دن اور گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر زائرین سے کوئی واجبات بھی وصول نہیں کیے جائیں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
افتتاحی دن اور گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر زائرین سے کوئی واجبات بھی وصول نہیں کیے جائیں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کےذریعے بھارت سے پاکستان آنے والے سکھ زائرین کے لیے بڑی رعایتوں کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کرتارپور زیارت کے لیے آنے والوں کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اس کے لیے صرف درست شناختی دستاویزات ہی کافی ہوں گی۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کے لیے 10 روز قبل اندراج کروانے کی بھی ضرورت نہیں۔

وزیراعظم نے اپنی ٹوئٹ میں مزید اعلان کیا کہ کرتارپور راہداری کے افتتاحی دن اور گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر زائرین سے کوئی واجبات بھی وصول نہیں کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کرتارپور راہداری 9 نومبر کو عوام کیلئے کھول دی جائے گی، وزیراعظم

خیال رہے کہ اسلام آباد اور دہلی کے مابین طویل اور دشوار مذاکرات کے بعد بالآخر 24 اکتوبر کو کرتارپور راہداری فعال کرنے کے سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے اور رواں ماہ کی 9 تاریخ کو وزیراعظم خود اس کا باضابطہ طور پر افتتاح کریں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کیے گئے معاہدے کے تحت روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔

18 نکات پر مشتمل معاہدے کے تحت 5 ہزار سکھ یاتری، انفرادی یا گروپ کی شکل میں پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک نارووال میں کرتارپور آسکیں گے۔

مزید پڑھیں: نوجوت سدھو کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے

مزید یہ کہ حکومت پاکستان یاتریوں کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ جاری کرے گی اور ہر یاتری سے 20 ڈالر سروس فیس وصول کی جائے گی، تاہم سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔

معاہدے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ راہداری بند کرنے کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کو نوٹی فکیشن کے ذریعے آگاہ کریں گے۔

کرتار پور سکھوں کے لیے اتنا اہم کیوں؟

کرتار پور پاکستانی پنجاب کے ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے علاقے میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔

پاکستان نے کرتارپور میں گردوارے پر بے پناہ ترقیاتی کام کیے ہیں—تصویر: عمران خان فیس بک
پاکستان نے کرتارپور میں گردوارے پر بے پناہ ترقیاتی کام کیے ہیں—تصویر: عمران خان فیس بک

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ 3 سے 4 کلومیٹر کا ہے۔

سکھ زائرین بھارت سے دوربین کے ذریعے ڈیرہ بابانک کی زیارت کرتے اور بابا گرونانک کا جنم دن منانے کے لیے ہزاروں سکھ زائرین ہر سال بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس کرتار پور ڈیرہ بابا نانک سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی۔

سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہر سال بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر سکھ بھارتی سرحد کے قریب عبادت کرتے ہیں اور بہت سے زائرین دوربین کے ذریعے گردوارے کی زیارت بھی کرتے ہیں۔

کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ

خیال رہے گزشتہ برس اگست میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔

انہوں نے اس تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملے اور ان سے غیر رسمی گفتگو کی تھی۔

اس حوالے سے سدھو نے بتایا تھا کہ جب ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان گرو نانک صاحب کے 550ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق سوچ رہا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان فوج کے سربراہ اس ایک جملے میں انہیں وہ سب کچھ دے گئے جیسا کہ انہیں کائنات میں سب کچھ مل گیا ہو۔

بعد ازاں بھارت کے سکھ یاتریوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ برس 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس میں شرکت کے لیے نوجوت سدھو خصوصی طور پر پاکستان آئے تھے۔

جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین کرتار پور راہداری کے ذریعے آنے والے زائرین کے لیے انتظامات کے حوالے سے سمجھوتے کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور 20 اکتوبر کو معاہدہ طے پاگیا۔

بعدازاں حکومت پاکستان کی جانب سے ابضابطہ طور پر گرونانک کے 55ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے خواہشمند سکھ یاتریوں کے 9 نومبر کو راہداری کا افتتاح کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔