ایران کا افزودہ یورینیم کی پیداوار میں 10 گنا اضافے کا اعلان

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2019

ای میل

ایران نے رواں برس جوہری معاہدے کے برخلاف جوہری پیداوار میں اضافے کا اعلان کردیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
ایران نے رواں برس جوہری معاہدے کے برخلاف جوہری پیداوار میں اضافے کا اعلان کردیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

ایران نے امریکا کی جانب سے 2015 کے معاہدے سے دست برداری کے بعد یورینیم کی پیداوار میں مزید 10 گنا اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اعلان کیا کہ ایران نے دو نئے جدید سینٹری فیوجز بھی قائم کردیے ہیں جن میں سے ایک زیر آزمائش ہے۔

علی اکبر صالحی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افزودہ یورینیم کی پیداوار 5 کلو گرام یومیہ تک پہنچ گئی ہے جو دو ماہ قبل 450 گرام یومیہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نئے سینٹری فیوجز نصب کررہا ہے، عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی انجینئرز نے‘کامیابی کے ساتھ آئی آر 9 پروٹوٹائپ کی تعمیر کی ہے جو ہماری نئی مشین ہے، اس کے علاوہ ایک اور آئی آر ایس کے نام سے نئی مشین بھی تیار کرلی ہے، یہ تمام اقدامات صرف دو ماہ میں عمل میں آئے ہیں’۔

واضح رہے کہ ایران نے رواں برس مئی میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور دوبارہ پابندیاں عائد ہونے کے ٹھیک ایک سال بعد تمام معاہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی اقدامات کے بعد ایران نے ردعمل کے طور پر تین اہم اقدامات اٹھائے ہیں اور معاہدے کے دیگر فریقین کو خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدے کے حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے تو مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس ان پابندیوں کے حوالے سے ایران کے مطالبات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔

ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ اعلان کے فوری بعد یورپی یونین نے خبردار کیا کہ معاہدے پر ان کی حمایت کا انحصار ایران کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر ہے۔

مزید پڑھیں:ایران یورینیم افزودگی کی حد سے تجاوز کر گیا

یورپی یونین کے ڈپلومیٹک چیف فیڈریکا موگیرینی کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ایران پر بدستور زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے اقدامات کو بغیر کسی تاخیر واپس لے لیں اور جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے مزید اقدامات سے باز رہے’۔

برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘یورپی یونین معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے اور ہم مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ جوہری معاہدے پر ہمارا عزم ایران کی جانب سے مکمل پاسداری پر منحصر ہے’۔

یاد رہے کہ یکم جولائی کو ایران نے کہا کہ تھا کہ اس نے معاہدے کے برخلاف 300 کلو افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کردیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر مزید کہا تھا کہ یورینیم کے ذخیرے میں 3 اعشاریہ 67 فیصد کا اضافہ کرلیا ہے۔

امریکا اور دیگر طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت ایران یورینیم کے ذخیرے کو اس حد سے تجاوز نہیں کرسکتا تھا تاہم امریکی پابندیوں کے نتیجے میں پڑنے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے کی خاطر ایران نے بھی جوابی وار کیا تھا۔