پری انجینئرنگ کے طلبہ کو پری میڈیکل میں جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ

نومبر 05 2019

ای میل

200 گھنٹے کا پریکٹیکل ورک مکمل کرنا آسان کام نہیں لہٰذا نوٹی فکیشن پر عملدرآمد مشکل ہوگا، ایف بی آئی ایس ای— فائل فوٹو: اے پی پی
200 گھنٹے کا پریکٹیکل ورک مکمل کرنا آسان کام نہیں لہٰذا نوٹی فکیشن پر عملدرآمد مشکل ہوگا، ایف بی آئی ایس ای— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: وزارت تعلیم نے پری انجینئرنگ کے طلبہ کو بائیولوجی (حیاتیات) کا پرچہ اضافی مضمون کے طور پر دینے کے بعد پری میڈیکل میں گروپ میں جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔

وزارت برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ فیصلہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر طلبہ کی جانب سے کی جانے والی شکایات کے بعد کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ شکایات موصول ہونے کے بعد مذکورہ معاملہ متعلقہ ڈائریکٹریٹس اور قومی نصاب کونسل(این سی سی) کے سامنے اٹھایا گیا تھا۔

این سی سی کی منظوری کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ایف ایس سی پاس کرنے والے پری انجینئرنگ کے طلبہ اگر بائیولوجی کا اضافی مضمون پاس کرلیں تو پری میڈیکل گروپ میں جاسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں وزارت تعلیم سے جاری نوٹی فکیشن اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گزشتہ روز تقسیم کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ' ہائر ایجوکیشن اسکول سرٹیفکیٹ (ایچ ایس ایس سی) میں نیشنل اسکیم آف اسٹڈیز کو ایچ ایس ایس سی کوالیفائی کرنے کے لیے ضروری مضامین رکھنے والے پیکج کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے'۔

مزید پڑھیں: مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ڈائریکٹوریٹ قائم

اس وقت پری میڈیکل گروپ کے طلبہ کو پری انجینئرنگ گروپ میں جانے کے لیے ریاضی کے مضمون کا اضافی پرچہ دینے کی اجازت حاصل ہے لیکن پری انجینئرنگ گروپ کے طلبہ کو پری میڈیکل گروپ میں جانے کے لیے بائیولوجی کے اضافی مضمون کا پرچہ دینے کی اجازت نہیں'۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ 'طلبہ کو انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی) سے پری میڈیکل اکولینس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے لیے اے لیول بائیولوجی کا امتحان دینے کا کہا جاتا ہے'۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ' انجینئرنگ گروپ پاس کرنے والے طلبہ کی آسانی اور اس فرق کو ختم کرنے کے لیے قومی نصاب کونسل نے تعلیم سے متعلق موجودہ رولز/پالیسی/ اسکیم کا جائزہ لیا اور پری انجینرنگ گروپ کے طلبہ کو پری میڈیکل گروپ میں جانے کے لیے بائیولوجی کا اضافی امتحان دینے کی اجازت دی'۔

فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) کے چیئرمین ڈاکٹر اکرام علی نے وزارت تعلیم کی جانب سے نوٹی فکیشن کے اجرا کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی تک نوٹی فکیشن نہیں دیکھا لیکن وزارت تعلیم کی جو بھی ہدایت ہوگی اس پر عمل کیا جائے گا۔

فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین نے کہا کہ نصابی اسکیم کے مطابق ایف ایس سی میں بائیولوجی میں 200 گھنٹے کا پریکٹیکل ورک بھی شامل ہے تو بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ طلبہ پریکٹیکل کا کام کیسے مکمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کوئی تعلیمی بورڈ پری انجینئرنگ سے پری میڈیکل بورڈ میں جانے کی سہولت فراہم نہیں کررہا، جب ہم اس پر عملدرآمد کریں گے تو ہم ایسا کرنے والے پہلے بورڈ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی نصاب کونسل کا پہلا اجلاس، حکومتِ سندھ کی عدم شرکت

ایف بی آئی ایس ای کے ایک اور عہدیدار نے کہا کہ 200 گھنٹے کا پریکٹیکل ورک مکمل کرنا آسان کام نہیں لہٰذا نوٹی فکیشن پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔

وزارت تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں 30 تعلیمی بورڈز ہیں اور ایف بی آئی ایس ای کے علاوہ دیگر بورڈز صوبائی حکومتوں کے ماتحت آتے ہیں۔

ایف بی آئی ایس ای کے عہدیداران کی جانب سے تحفظات کے اظہار پر وزارت تعلیم کے عہدیدار نے کہا کہ ان کا کام صرف امتحان لینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'بورڈ کا کام امتحان لینا ہے اور قابلیت ثابت کرنا طلبہ پر ہے، پری انجینئرنگ پاس کرنے کے بعد طلبہ آسانی سے بائیولوجی کے اضافی مضمون کے پریکٹیکل کا کام کرسکتے ہیں'۔

عہدیدار نے کہا کہ 'طلبہ بورڈ کی جانب سے لیے جانے والے امتحان میں حصہ لیں گے اور اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے تو پاس ہوجائیں گے، اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، طلبہ کو آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے'۔


یہ خبر 5 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی