یمنی حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2019

ای میل

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے معاہدے کا اعلان کیا — فوٹو: اے ایف پی
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے معاہدے کا اعلان کیا — فوٹو: اے ایف پی

یمن کی عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے سعودی عرب کی مصالحت میں ملک کے جنوبی حصے میں سرگرم علیحدگی پسندوں کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق 'ریاض معاہدے' کا مقصد یمن میں خانہ جنگی کے دوران ہونے والے تصادم کا خاتمہ ہے۔

ریاض میں معاہدے پر دستخط کی تقریب میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود تھے جنہوں نے معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ 'اس معاہدے سے یمن میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جبکہ سعودی عرب فریقین کے ساتھ کھڑا ہے۔'

سعودی میڈیا پر چلنے والی رپورٹس اور حکام نے کہا کہ 'یہ سعودی عرب کے لیے خوشی کا موقع ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کے قریب ہو گئے ہیں، معاہدے کے تحت علیحدگی پسندوں کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کو کئی وزارتیں دی جائیں گی، جبکہ جنوبی شہر عدن میں حکومتی رِٹ بحال ہوگی۔'

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا یمن میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے یمن مارٹِن گِرفتھ نے فریقین کو معاہدے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے یمن میں اس خانہ جنگی کے خاتمے میں مدد ملے گی جس نے ملک کو تباہ کردیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 'معاہدے پر دستخط یمن میں تصادم کے پرامن حل کی طرف بڑھنے کے لیے ہماری مشترکہ کوششوں کا اہم حصہ ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'جنوبی اسٹیک ہولڈرز کو سننا ضروری ہے تاکہ سیاسی کوششوں کے زریعے ملک میں امن قائم کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ 'ایس ٹی سی' کی ذیلی سیکیورٹی بیلٹ فورسز نے اگست میں عدن کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا جو 2014 میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ہاتھوں یمن کے دارالحکومت صنعا کا کنٹرول کھونے کے بعد مشکل میں گھری حکومت کے لیے بیس کا کام کر رہا تھا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ: یمن جنگ بندی کی نگرانی کیلئے کمیشن کی منظوری

کئی سالوں تک حوثیوں کے خلاف مل کر لڑنے والے علیحدگی پسندوں اور حکومتی فورسز کے درمیان تصادم نے یمن کے مکمل طور پر تباہ ہونے کے خطرے کو جنم دیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں علیحدگی پسندوں اور یمنی حکومت کے درمیان سعودی عرب کی مصالحت میں جدہ میں بالواسطہ مذاکرات جاری تھے جس کے نتیجے میں معاہدہ عمل میں آیا۔

معاہدے کی تقریب میں یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی اور ایس ٹی سی کے سربراہ آدروس الزبیری نے بھی شرکت کی۔