کراچی:ریڈ زون میں احتجاج، سرکاری کالجوں کے 47 پروفیسر گرفتار

07 نومبر 2019

ای میل

سرکاری کالجوں کے اساتذہ نے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا—فوٹو:ڈان نیوز
سرکاری کالجوں کے اساتذہ نے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا—فوٹو:ڈان نیوز

کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے دینے کی کوشش کرنے والے سرکاری کالجوں کے پروفیسر اور لیکچراروں سمیر 47 اساتذہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

ایس ایس پی جنوبی شیراز نذیر کا کہنا تھا کہ 44 مرد اور 3 خواتین پروفیسر اور لیکچراروں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

سرکاری کالجوں کے اساتذہ ان کی ترقیوں میں تاخیر کے خلاف احتجاج کررہے تھے جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے ان کے مطالبات کو منظور کرتے ہوئے سمری بھی منظور کردی تھی لیکن اس پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

سندھ بھر میں جاری احتجاج کے سلسلے میں کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والے ڈاکٹر ضاالدین روڈ میں 200 سے 250 کے قریب پروفیسرز نے احتجاج میں حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: احتجاج کرنے والے اساتذہ پر پولیس کا لاٹھی چارج، واٹر کینن کا استعمال

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (ایس پی ایل اے) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کی کال دی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں احتجاج کی کوشش کرنے والے اساتذہ سے پولیس حکام نے مذاکرات کیے اور جگہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے انکار کیا جبکہ ریڈ زو میں احتجاج پر پابندی ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے انہیں گرفتار اس لیے کیا تاکہ روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے’۔

حکام نے کہا کہ پولیس نے اساتذہ کو نماز مغرب کے بعد گرفتار کیا تاہم پولیس نے کوئی لاٹھی چارج یا واٹرکینن استعمال نہیں کیا اور نہ ہی آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

ایس پی ایل اے نے پولیس کی کارروائیوں اور گرفتاریوں کے خلاف صوبے بھر میں تعلیمی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر احتجاجی طور پر بازوں میں سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔

پروفیسرز کا اجلاس

قبل ازیں ایس پی ایل کی رابطہ کمیٹی ٹائم اسکیل کے معاملے پر کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہوئی اور پروفیسر انور منصور کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا،

یہ بھی پڑھیں:کراچی میں اساتذہ کا احتجاج اور دھرنا، متعدد مظاہرین گرفتار

اجلاس کے بعد پروفیسروں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کی کوشش جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی جس نے انہیں روکا تاہم مظاہرین ریڈ زون تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور پی آئی ڈی سی ہاؤس کے سامنے دھرنا دے دیا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسروں کا کہنا تھا کہ ‘جمہوری دور میں سندھ کے لیکچراروں اور پرفیسروں کو پولیس اور صوبائی حکومت کی جانب سے غیرمتوقع رویوں کا سامنا ہے’۔

ایس پی ایل اے کے عہدیداروں نے کہا کہ اسکولوں کے ہزاروں اساتذہ کو 2010 میں ٹائم اسکیل دے دیا تھا لیکن کالج کے لیکچرار اور پروفیسر تاحال اپنے قانونی حق سے محروم ہیں۔

انہوں نے اپنے مطالبات کی منظوری اور اس حوالے سے نوٹی فکیشن کے اجرا تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

ایس پی ایل اے کا پولیس کارروائی کی مذمت

دوسری جانب ایس پی ایل اے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے نماز مغرب کے دوران ان پر چڑھائی کی اور متعدد پرفیسروں اور لیکچراروں کو گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا حالانکہ وہ نماز ادا کررہے تھے۔

اعلامیے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار پروفیسروں میں انور منصور، عبدالجبار، ملوک، بینظیر جونیجو، لالہ رخ بلوچ، زکیہ، راحیلہ میمن اور ماریا ابڑو بھی شامل ہیں۔

گرفتاری سے بچنے والے دیگر اساتذہ ریڈ زون سے واپس کراچی پریس کلب پہنچے اور دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم کا اظہار کیا۔