'ہمیں اشتعال دلایا تو 24 گھنٹے میں شکست ہوجائے گی'

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2019

ای میل

ہمیں سنجیدگی سے آنے والے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز
ہمیں سنجیدگی سے آنے والے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے انتخابی دھاندلی پر حکومت کی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اشتعال دلایا تو چوبیس گھنٹے میں شکست ہوجائے گی۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'ہمیں سنجیدگی سے آنے والے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے، کئی روز سے آزادی مارچ اسلام آباد میں براجمان ہے اور مطالبات کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہمارے آزادی مارچ پر اعتراض کرنے والوں کو 2014 میں ڈی چوک پر دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں تھا، ہم پر کیوں اعتراض کیا جارہا ہے، عوام کے مطالبے کو ماننا پڑے گا اور ہم نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 126 دن کے دھرنے کی تصویر دنیا کے لیے بڑی دلکش تھی، تم نے مذہبی دنیا سے متعلق غلط تصویر دنیا کے سامنے رکھی تھی جبکہ آج بھی ڈی چوک پر دھرنے کی بدبو محسوس کی جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم آپ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے کہ آپ نے سیاسی جمود کو توڑا اور دنیا کو بتا دیا احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ مزید نہیں چل سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج ایران ہمارے مقابلے میں بھارت کو اہمیت دے رہا ہے، موجودہ حکومت نے چین کی سرمایہ کاری کو غارت کر دیا اور اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جبکہ افغانستان کے ساتھ بھی اعتماد قائم نہیں رکھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ: کسی غیرآئینی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ آج فیکٹریاں، ملیں، یونٹس بند ہو رہے ہیں، لاکھوں مزدور بےروزگار ہو رہے ہیں، پیداواری ادارے بند ہونے سے مارکیٹ میں اشیا ناپید، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، پیٹرول بھی مہنگا کر دیا گیا ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ تمام دفاتر اور بیوروکریسی جمود کا شکار ہوگئی ہے، پاکستان کا ایک ایک دن انحطاط کی طرف بڑھا ہے اور جتنا وقت اس حکومت کو ملے گا روز کی بنیاد پر نیچے جاتے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کی حکومت آئی تو ترقی کی شرح آدھی رہ گئی، پہلی بار پاکستان میں ایک سال میں 3 بجٹ پیش کیے گئے، پہلی بار اسٹیٹ بینک نے بیان جاری کیا کہ وہ 1 ارب روپے کے خسارے میں چلا گیا، ہمارا منشور صوبائی خود مختاری کی بات کرتا ہے، لوگوں کو توقع نہیں تھی کہ مذہبی جماعت کا منشور اتنا ترقی پسند ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے میدان پورے ملک کی معیشت کو اناج مہیا کرتے ہیں لیکن افسوس ہماری ماضی کی غلط پالیسوں کی وجہ سے بھارت نے پانی روک لیا ہے، یہ ہمارے اس ملک کا انجام کیا جارہا ہے، جب تک کشمیر کمیٹی ہمارے پاس تھی کسی مائی کے لعل کو آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں تھی، آج کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے اور اس پر آنسو بہا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کیا وزارت داخلہ انکار کر سکتی ہے کہ اسرائیل کا طیارہ پاکستان میں نہیں اترا، اسرائیل خائف ہے کہ آزادی مارچ نے اس کی 40 سال کی سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا، کب تک چھپاتے رہو گے، ہم جانتے ہیں تم نے کیا کیا ہے اور کیا کر رہے ہوں جبکہ یہ آزادی مارچ ہی نہیں بلکہ آنے والے وقت میں ایک انقلاب کی نوید دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں آئے روز محلاتی سازشوں سے پاکستانی عوام کی قسمت سے کھیل رہی ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی ہے تو عوام کی آواز کو سننا ہوگا، یہ ملک سرمایہ داروں، جاگیر داروں اور بیوروکریسی کا نہیں ہے جبکہ آئین پاکستان کے عوام کی مرضی سے بنے گا۔

مزید پڑھیں: آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں پارلیمانی کمیٹی بنا دیتے ہیں جو دھاندلی کی تحقیقات کرے گی، پارلیمانی کمیٹی بنے ایک سال ہو گیا، 95 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو قانونی فارم پر نتائج نہیں ملے، ہم نے چور کو دن دہاڑے چوری کرتے پکڑا اب کہتا ہے کہ تحقیقات کر لیں میں چور ہوں یا نہیں۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ کئی لوگ دہشت گردی کے نام پر اٹھائے گئے اور لاپتہ ہیں، کیا کسی ادارے کو یہ حق حاصل ہے کہ شک کی بنیاد پر کوئی 12، 12سال غائب رہے، لوگوں سے کیوں جھوٹ بولا جا رہا ہے سچ اور حقائق کی طرف آؤ، دبیز پردوں میں سیاست چلے گی تو یہ مشکلات آئیں گی، انصاف نہیں ہوگا اور ظلم ہوگا، ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں لیکن ملک کو اصول کی بنیاد پر چلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کوئی کمیشن نہیں مانتے، کمیشن بنانے کی تجویز مسترد کرتے ہیں اور نئے الیکشن چاہتے ہیں، تم چاہتے ہو دھرنا ختم ہونا چاہیے تو اعلان کردو اور خود بھی مشکل سے نکل جاؤ، ہمیں اشتعال مت دلاؤ اشتعال دلایا تو 24 گھنٹے میں شکست ہو جائے گی اور اگر یہ ہجوم آگے بڑھا تو تمہارے کنٹینرز کو ماچس کی ڈبیا کی طرح اٹھا کر پھینک دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ کب اٹھنا ہے، تمہارے وزرا جھوٹ بولتے ہیں، جو بھی فیصلہ ہوگا پوری قیادت مل کر فیصلہ کرے گی، مذاکراتی کمیٹی کی آنیاں جانیاں چلتی رہیں گی اور ہم لطف اندوز ہوتے رہیں گے جبکہ مجھے ان چراغوں میں تیل نظر نہیں آرہا۔