شہباز شریف نے جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے ہیں— فوٹو: اسکرین شاٹ
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے ہیں— فوٹو: اسکرین شاٹ

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حکومت کے خلاف 'آزادی مارچ' کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن پہنچے جہاں ملاقات میں لانگ مارچ میں (ن) لیگ کی شرکت کے حوالے سے بات چیت کو حتمی شکل دی گئی اور مسلم لیگ (ن) نے مولانا کو اپنی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

مزید پڑھیں: پاکستان فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے جو ہمیں لانگ مارچ میں بھرپور سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم اس پر ان کے شکر گزار ہیں اور 31 اکتوبر کو عوام لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں کے قائدین اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور آئندہ اقدامات کے فیصلے بھی مشترکہ طور پر کرنا چاہیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ حکومت ناجائز بھی ہے اور نااہل بھی ہے اور ان کے لب و لہجے اور زبان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح وہ ایک طرف ہم سے مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تضحیک، گالیاں، مذاکرات اور سنجیدگی کبھی بھی اکٹھا نہیں ہو سکتے اور اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے استعفیٰ دے جس کے بعد اگلے اقدامات کے لیے ہم مذاکرات کر سکتے ہیں کیونکہ استعفے کے بغیر مذاکرات کرنا ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اس موقع پر شہباز شریف نے حکومتی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداروں نے عمران خان کی حمایت اس لیے کی کیونکہ انہیں امید تھی کہ ملک ترقی کرے گا لیکن وزیر اعظم ناکام ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے نمٹنے کی تیاری کرلی

انہوں نے کہا کہ اداروں کی جتنی حمایت اس حکومت کو ملی، اگر اس کی 25 فیصد حمایت کسی اور حکومت کو مل جاتی تو ملک ترقی کی شاہراہ پر دوڑ رہا ہوتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک عوام کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے اور نئے انتخابات ہونے چاہئیں اور ہم بھی اپنے قائد نواز شریف کی ہدایت کے مطابق 31اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال تباہی کے دہانوں تک پہنچ چکی ہے، سرمایہ کاری ختم ہو چکی ہے، مہنگائی عروج پر اور علاج عام آدمی کے لیے ناپید ہو گیا ہے اور حکومت نے ادویہ کی قیمتیں اتنی بڑھا دی ہیں کہ عوام سسک رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال اس وقت بدترین سطح پر ہے اور ورلڈ بینک نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ ترقی کی شرح 2.4 تک آ چکی ہے۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

اس موقع پر شہباز شریف نے واضح کیا کہ 27 اکتوبر کو یوم سیاہ ہے اور بھارتی ظلم، زیادتی اور بربریت کا سامنا کرنے والے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کے لیے ہم پوری طرح یکسو ہیں اور اس دن پوری قوم کے ساتھ مل کر ہم کشمیر کی آزادی کے لیے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اپنی آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار کہتی ہے کہ ہمیں معیشت خراب حالت میں ملی لیکن جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو معیشت کی بہت اچھی حالت تھی اور اگر آج بھی شفاف الیکشن کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کو قوم کی دوبارہ خدمت کا موقع ملے تو 6 مہینے میں معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک سے بیماری، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے دن رات محنت کریں گے۔

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27 اکتوبر کو حکومت کے خلاف اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف حکومت کی جانب سے یوم سیاہ منائے جانے کے پیش نظر انہوں نے تاریخ کو تبدیل کرتے ہوئے 31 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'مولانا فضل الرحمٰن کی مکمل حمایت کرتے ہیں'

مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

لاہور میں چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی سے ملاقات میں آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمٰن حکومت کے خلاف آزادی مارچ کے سلسلے میں تاجروں سے بھی ملاقات کریں گے۔