53 ارب بیرلز پر مشتمل تیل کا نیا ذخیرہ دریافت کر لیا، ایرانی صدر

اپ ڈیٹ 10 نومبر 2019

ای میل

ایران کے جنوبی صوبے خوزستان میں تیل کا نیا کنواں دریافت کیا گیا ہے، حسن روحانی — فائل فوٹو/اے پی
ایران کے جنوبی صوبے خوزستان میں تیل کا نیا کنواں دریافت کیا گیا ہے، حسن روحانی — فائل فوٹو/اے پی

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے جنوبی حصے میں تقریباً 50 ارب بیرل سے زائد خام تیل کا نیا ذخیرہ دریافت کر لیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا نے گزشتہ سال ایران کے عالمی قوتوں سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہوتے ہوئے اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں۔

حسن روحانی نے صحرائی شہر یزد میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے جنوبی صوبے خوزستان میں تیل کا نیا کنواں دریافت کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران، سعودیہ تنازع سے خطے میں غیرمعمولی غربت بڑھے گی، عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ 'نئی دریافت کے بعد ایران کے 150 ارب بیرل کے ذخائر میں 53 ارب بیرلز کا اضافہ ہوا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'میں وائٹ ہاؤس کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی عائد کیے جانے کی وجہ سے ملک کے رضاکار اور انجینئرز 53 ارب بیرلز کے ذخائر دریافت کر سکے ہیں'۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارے 'فارس' کے مطابق نئے دریافت شدہ ذخائر اس حالت میں ہیں کہ ان سے کم خرچ میں تیل نکالا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ملک کے علیحدہ معیار ہونے کی وجہ سے بتائے گئے اعداد و شمار میں فرق ہو سکتا ہے۔

ایران کے پاس خام تیل کا دنیا کا چوتھا بڑا ثابت شدہ ذخیرہ اور دنیا کا دوسرا بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا افزودہ یورینیم کی پیداوار میں 10 گنا اضافے کا اعلان

اس نئے تیل کے ذخیرے کو شامل کرنے کے بعد ایران دنیا کا دوسرا بڑا تیل کا ذخیرہ رکھنے والا ملک بن سکتا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی 'تسنیم' کی رپورٹ کے مطابق تیل کا نیا کنواں 2400 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جو تقریباً 80 میٹر تک گہرا بھی ہے۔

واضح رہے کہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کے بعد سے اس معاہدے میں شامل جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس اور چین سمیت دیگر ممالک اسے بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے اب تک ایسا کوئی ذریعہ ظاہر نہیں کیا ہے جس کے ذریعے ایران اپنا تیل بیرون ممالک کو فروخت کر سکے۔

امریکی پابندیوں کے بعد سے ایران نے بھی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کی حد عبور کرنی شروع کردی ہے۔