پاکستان نے اپنی معیشت مستحکم کرلی، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب ہمارے سامنے دوسرا بڑا چیلنج نوجوانوں کو روزگار دینا ہے—تصویر: ڈان نیوز ٹی وی
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب ہمارے سامنے دوسرا بڑا چیلنج نوجوانوں کو روزگار دینا ہے—تصویر: ڈان نیوز ٹی وی

وزیراعظم عمران خان نے چین کی کمپنیوں کے ساتھ ٹائروں کی تیاری کے لیے طے پانے والے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی معیشت کو مستحکم کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کم تھے اور روپے پر سخت دباؤ کے باعث اس کی قدر میں مسلسل کمی ہورہی تھی جس کو مستحکم کرنے پر انہوں نے اپنی معاشی ٹیم کو سراہا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت روپیہ مارکیٹ ریٹ پر موجود ہے اور اسے مستحکم کرنے کے لیے ڈالر استعمال نہیں کیا جارہا اور گزشتہ 3 ماہ کے عرصے میں اس کی قدر بہتر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور پاکستانی معیشت کو مستحکم دیکھا جارہا ہے جس کے اثرات اسٹاک ایکسچینج میں بھی دکھائی دے رہے ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری بھی آنے لگی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گزشتہ حکومتوں کا 2.1 ارب ڈالر قرض ادا کر دیا، مشیر خزانہ

وزیراعظم نے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ، ایشیئن ڈیولپمنٹ فنڈ اور عالمی بینک کے سربراہان نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان درست سمت میں گامزن ہے اور پاکستان کاروبار کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والے ممالک کی درجہ بندی میں 28 درجے بہتری ہوئی ہے، جو ریکارڈ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اگلا چیلنج نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے جس کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جیسے جیسے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا معیشت ترقی کرے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی معیشت کی شرح نمو مقررہ اندازوں سے بڑھ جائے گی اور کہا کہ ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہتر سے بہتر آسانیاں فراہم کررہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب ٹائر پاکستان میں ہی تیار کیے جائیں گے جو اس سے قبل اسمگلنگ کے ذریعے آتے تھے اور پاکستان میں نہ بننے والی اشیا لانے کے لیے ڈالر خرچ کیے جاتے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان ملازمتوں کیلئے کاروباری اصلاحات کرے، عالمی بینک

چنانچہ اس اقدام سے نہ صرف وہ ڈالر بچیں گے جو درآمدات پر خرچ کیے جائیں گے بلکہ یہاں اسے اشیا برآمد کی جائیں گی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث روپے پر دباؤ پڑتا ہے اور اس کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے لہٰذا درآمد ہونے والی ہر شے مہنگی ہوجاتی ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ خسارے کو کم کرنے کے لیے ہم نے درآمدات کم کردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ عوام کے لیے روزگار کا ہر موقع ہم خود فراہم کریں اور سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی منصوبوں سے معاشی استحکام شروع ہوگیا، آئی ایم ایف مشن

ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کی آسانیوں کے درجے میں بہتری ایک مسلسل جدو جہد کا نتیجہ ہے جس کے لیے ہر شعبہ کام کررہا ہے جس میں برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب جس طرح کے ہیں اس سے قبل کبھی نہیں تھے اور چین جوائنٹ وینچرز کے سلسلے میں پاکستان کی مدد کررہا ہے جبکہ چینی قیادت خود چینی صنعت کے پاکستان جانے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کریں اور چین بیلٹ روڈ منصوبے کے تحت ہمیں موقع فراہم کررہا ہے جبکہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔