’نواز شریف کو شک کے بغیر جانے دیں گے تو زرداری بھی جانے کا کہیں گے‘

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر افغان جنگ کا حصہ نہ بنتے تو آج ٹیکنالوجی میں ہم بہت آگے ہوتے —فوٹو: ڈان نیوز
فواد چوہدری نے کہا کہ اگر افغان جنگ کا حصہ نہ بنتے تو آج ٹیکنالوجی میں ہم بہت آگے ہوتے —فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنے قائد نواز شریف کی صحت پر سیاست نہ کرے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ نواز شریف کوئی ایسی گارنٹی تو دیں کہ ٹھیک ہوکر وہ واپس آجائیں گے۔

اسلام آباد میں پہلے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی تمام معاملات پر گہری نظر ہے اور انسانی بنیاد پر کابینہ نے نواز شریف سے متعلق معاملے کا جائزہ لیا ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج نہ ہوسکا، لندن روانگی میں تاخیر

انہوں نے کہا کہ کابینہ میں کل طویل اجلاس ہوا جس کے بعد کابینہ نے نواز شریف کو انسانی بنیادوں باہر جانے کی اجازت دی۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی کہہ رہی ہے کہ ماضی میں کوئی ایسی مثال نہیں ہے، سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی واپسی کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں جبکہ حیسن نواز اور حسن نواز بھی واپس نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پیسے معاف نہیں کر سکتے، یہ پاکستانیوں کا پیسہ ہے، نواز شریف سیکیورٹی بانڈز دیں اور جب وہ واپس آئیں گے تو پیسے واپس مل جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج نواز شریف کو شک کے بغیر جانے دیں گے تو کل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور رہنما خورشید شاہ بھی باہر جانے کا کہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی طبیعت ناساز، نیب دفتر سے سروسز ہسپتال منتقل

انہوں نے کہا کہ ہم مثال اور توازن قائم کررہے ہیں جبکہ یہ مثال باقی لوگوں کے لیے بھی ہوگی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عدالت ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی یل) سے نام نکال دے تو ہمارا کوئی مسئلہ نہیں لیکن اب ساری ذمہ داری ہم پر ڈال دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور ہماری جانب سے کوئی تاخیر نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تاخیر ہو رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں روز نئے لطیفے سننے کو ملتے ہیں، وہ جہاں جہاں نکلنا چاہتے ہیں نکلیں ہم دیکھنے کے لیے بیٹھے ہیں۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پہلے آرٹیفیشل انٹیلجنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1952 میں پاکستان میں پی سی آئی آر بنایا گیا جو دنیا کا بہترین ادارہ بن گیا تھا۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف، نواز شریف کے ساتھ ملاقات سے ’گریزاں‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان سویت یونین اور امریکا کے بعد پہلا راکٹ ’رہبر‘ خلا میں بھیجنے والا ملک تھا لیکن پھر افغانستان کی جنگ میں جانے کی ہم سے غلطی ہوگئی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ہم افغان جنگ کا حصہ نہ بنتے تو آج ٹیکنالوجی میں ہم بہت آگے ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فائنر آپٹک شروع کرنے والا پہلا ملک تھا اور ماضی میں سویلین اور ڈیفینس سیکٹر الگ الگ ٹیکنالوجی پر کام کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی ڈی اور ایئرفورس کی ٹیکنالوجی کو سویلین سیکٹر میں استعمال نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے سال ٹیکنالوجی کا 50 فیصد بجٹ بڑھائیں گے۔