ٹماٹر دنیا کی سب سے مہنگی کرنسی؟

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

نایاب ہوتے ٹماٹروں پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر منفرد تبصرے سامنے آنے لگے۔ — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک
نایاب ہوتے ٹماٹروں پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر منفرد تبصرے سامنے آنے لگے۔ — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک

ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر جہاں عوام سراپا احتجاج ہیں وہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر منفرد تبصرے کیے جارہے ہیں۔

ملک بھر میں گزشتہ چند ہفتوں سے ٹماٹر کی قیمتوں کو جیسے پَر لگ گئے ہیں اور مختلف مارکیٹوں میں عام طور پر بے قیمت سمجھی جانے والی یہ سبزی 250 روپے سے 300 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہی ہے۔

حکومت اور انتظامیہ ٹماٹر کی قیمت میں اس ہوشربا اضافے کی وجہ اس کی فصلیں خراب ہونے اور اگلی فصل کی تیاری میں چند ہفتے باقی ہونے کے باعث مارکیٹ میں اس کی کم دستیابی کو قرار دے رہی ہے۔

عوام جہاں ٹماٹر کی آسمان سے باتیں کرتی قیمت پر سر پکڑے ہوئے ہیں تو وہیں حکومت کے کچھ وزرا اور مشیر عوام کی اتنی بڑی تکلیف سے ناآشنا نظر آتے ہیں اور چند حکومتی اہلکار تو اس حوالے سے عوام کے زخموں پر نمک بھی چھڑک رہے ہیں۔

اس کی تازہ مثال مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے منڈی میں ٹماٹر کی قیمت کو 17 روپے فی کلوگرام بتایا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ منڈی کہاں ہے تو وہ مسکراتے ہوئے چل دیئے۔

ٹماٹر کی قیمت کو لے کر تو اب لطیفے بنائے جانے لگے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کئی میمز اور مزاحیہ تصاویر زیر گردش ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کوئی ٹماٹر کو دنیا کی سب سے مہنگی کرنسی قرار دیتے ہوئے اسے پرس میں سنبھال کر رکھنے کی تجویز دے رہا ہے۔

تو کوئی شادی کی پیشکش کے لیے سونے کی انگوٹھی کی جگہ ٹماٹر کے استعمال کا مشورہ دیتا نظر آرہا ہے۔

ٹوئٹر پر ایک ایسی تصویر بھی زیر گردش ہے جس میں ماں اپنے بیٹے کو کسی صورت ٹماٹر کسی کو نہ دینے کی تلقین کر رہی ہے۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے حوالے سے یہ میم بھی دیکھی جارہی ہے کہ 'ٹماٹر کی جگہ آلو کو سرخ رنگ کر دیں، سال کو کیا پتہ کہ یہ آلو ہے یا ٹماٹر۔'

کوئی کہہ رہا ہے کہ خواتین اب ٹماٹر کی بالیاں بھی پہن سکتی ہیں، تاہم اسے چوروں کی نظر سے دور رکھا جائے۔

تو کوئی ٹماٹر کے بائیکاٹ کی مہم چلاتا نظر آرہا ہے۔