میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ کیا تبدیلی پسند آئی، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2019

ای میل

بلاول بھٹو نے ٹوئٹ میں کہا کہ میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ کیا تبدیلی پسند آئی —فائل فوٹو: ڈان نیوز
بلاول بھٹو نے ٹوئٹ میں کہا کہ میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ کیا تبدیلی پسند آئی —فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر کہا ہے کہ میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ کیا تبدیلی پسند آئی۔

بلاول بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'اب نہ امپائر کی انگلی، نہ جعلی تبدیلی، صرف اور صرف عوام کی آواز چلے گئی'۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پرانی ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں انہیں کہتا سنا جاسکتا ہے کہ 'جو سلیکٹڈ ہیں، میں ان سے پوچھوں گا کہ کیا آپ کو امپائر کی انگلی پسند آئی؟'

انہوں نے مزید کہا کہ 'جنہوں نے سلیکٹ کیا، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو تبدیلی پسند آئی؟'

واضح رہے بلاول بھٹو کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت کی ضمانتی بانڈ کی شرط کو مسترد کردیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے میں وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روح کو برقرار رکھا۔

اسلام آباد میں اٹارنی جنرل انور منصور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ ہمیں نواز شریف کی واپسی کی ضمانت حلف نامے کی صورت میں مل گئی۔