عمر کے ساتھ جسمانی طور پر متحرک رہنا جان لیوا امراض سے بچائے

19 نومبر 2019

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی طور پر متحرک رہنا ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔

یہ بات جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سییﺅل نیشنل یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وقت کے ساتھ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں سے دور ہوجانے والے افراد میں دل اور خون کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 60 سال سے زائد عمر کے11 لاکھ سے زائد مردوں اور خوایتن کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔

یہ ڈیٹا نیشنل ہیلتھ انشورنس سروس کے ایک ہیلتھ انشورنس سروے سے حاصل کیا گیا تھا جو جونبی کوریا کے 97 فیصد افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔

اس سروے میں لوگوں کا 4 سال میں 2 بار طبی معائنہ کیا گیا تھا اور ان افراد کا ڈیٹا اس نئی تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے حاصل کیا۔

محققین نے دن بھر میں 30 منٹ یا اس سے زائد وقت تک کی جسمانی سرگرمی جیسے تیز چہل قدمی، باغبانی یا سیڑھیاں چڑھنے کو متعدل جبکہ 20 منٹ تک جاگنگ، سائیکل چلانا اور ایروبک وغیرہ سخت ورزش کا حصہ قرار دیا۔

انہوں نے جنوری 2013 سے دسمبر 2016 کے دوران دل کے امراض اور فالج سے جڑے کیسز کے ڈیٹا کا تجزیہ بھی کیا۔

تحقیق کے اختتام تک امراض قلب یا فالج کے ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے اور محققین کا کہنا تھا کہ 60 سال کی عمر کے بعد معتدل یا سخت جسمانی سرگرمیاں برقرار رکھنا جان لیوا امراض سے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

ان کے مطبق ڈیٹا کے تجزیے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہفتے میں 3 یا 4 بار معتدل یا سخت جسمانی سرگرمیاں امراض قلب اور فالج کا خطرہ 11 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہوئے۔