اپوزیشن کا الیکشن کمیشن سے غیرملکی فنڈنگ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2019

ای میل

اکرم درانی نے کہا کہ میڈیا رہبر کمیٹی سے متعلق من گھڑت خبریں نشر کرنے سے گریز کرے —فوٹو: ڈان نیوز
اکرم درانی نے کہا کہ میڈیا رہبر کمیٹی سے متعلق من گھڑت خبریں نشر کرنے سے گریز کرے —فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما اور رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے مقدمے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچائے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کو یادداشت پیش کرنے سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں رہبر کمیٹی کا غیر رسمی اجلاس ہوا اور اس کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں اپوزیشن رہنماؤں میں اکرم درانی، مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال، پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر اور نیربخاری نے مظاہرے میں شرکت کی۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر آمادہ

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان احتساب سے کیوں بھاگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی تباہی اور پارلیمنٹ کی بے توقیری کی موجودہ مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو تشویش ہے کہ کیس کیوں التوا ہے، بعض کیسز روزانہ کی بنیاد پر سننے جاتے ہیں اور قومی احتساب بیورو (نیب) ہفتے میں تین مرتبہ طلب کرتی ہے۔

اکرم درانی نے کہا کہ رہبر کمیٹی کے تمام اراکین کی جانب سے مشترکہ طور پر الیکشن کمیشن میں تحریری یاداشت پیش کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا رہبر کمیٹی سے متعلق من گھڑت خبریں نشر کرنے سے گریز کرے‘۔

اکرم درانی نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس گزشتہ 5 برس سے التوا کا شکار ہے اور انصاف کا نعرہ لگانے والے کیوں ڈر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت ان کیمرا چاہتی ہے اور مذکورہ مقدمہ اپوزیشن جماعت نے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے بانیوں میں سے ایک فرد نے دائر کیا۔

انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ غیر ملکی فنڈنگ کیس روزانہ کی بنیاد پر زیر بحث لائیں۔

تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس کے درجنوں بے نامی اکاؤنٹس ہیں، احسن اقبال

اس موقع پر رہبر کمیٹی کے رکن اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ فنڈنگ کیس میں وزیراعظم عمران خان تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، گزشتہ کئی برس سے انہوں نے خود کو کلین ثابت کرنے کے لیے پورے ملک میں تباہی مچائی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ آج معلوم ہوا کہ تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس کے درجنوں بے نامی اکاؤنٹس ہیں اور ان میں امریکا، بھارت اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے رقم منتقل کی گئی۔

احسن اقبال نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کو پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا کرپشن کا اسکینڈل قرار دیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے دو خدشات کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی بہت محنت کرکے کوشش کررہی ہے کہ الیکشن کمیشن کی مدت ختم ہوجائے تاکہ مقدمے کی کارروائی غیر موثر ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر آمادہ

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دو ممبران پر اتفاق رائے نہیں کیا گیا اور اگلے مہینے چیف الیکشن کمشنر بھی ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔

احسن اقبال نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمشنر اپنی مدت میں مذکورہ کیس کو منطقی انجام تک پہچائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کسی بھی رہنما کے خلاف مقدمات ہیں، اس کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ کیسے جھوٹے مقدمات قائم ہوتے ہیں‘۔

غیر ملکی فنڈنگ کیس کا پس منظر

وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے سابق رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کی نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار ہوگئی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

18 جنوری 2019 میں اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے ای سی پی میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک بھر میں 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس استعمال کررہی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے شیڈول بینکوں سے حاصل کی جانے والی معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں جس میں یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کے ملک کے مختلف شہروں میں کل 26 بینک اکاؤنٹس ہیں لیکن الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی معلومات میں صرف 8 کے بارے میں بتایا گیا۔

یکم اکتوبر کو ای سی پی نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں راز داری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

10 اکتوبر 2019 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات مسترد کردیے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

7 نومبر کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے مذکورہ فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے کے باعث 10 اکتوبر کے حکم کا کوئی قانونی جواز نہیں لہٰذا اسے معطل کر کے غیر ملکی فنڈنگ کی اسکروٹنی کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کو بھی کام سے روکا جائے۔