جسم میں ایک پروٹین کی سطح میں اضافہ جلد موت کا خطرہ بڑھائے، تحقیق

21 نومبر 2019

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

ہارٹ اٹیک سے منسلک سمجھے جانے والے پروٹین کی مقدار میں معمولی اضافہ بھی قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امپرئیل کالج لندن کی اس تحقیق میں ڈھائی لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ٹروپونین نامی پروٹین کی سطح میں اضافے سے اگلے 3 سال میں موت کا خطرہ 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔

اور محققین کے مطابق یہ خطرہ 18 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں 10 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

یہ پروٹین دل کے پٹھوں میں پایا جاتا ہے اور عام طور پر جسم میں پٹھوں کے کھچاﺅ کو ریگولیٹ کرتا ہے اور یہ اس وقت دوران خون میں خارج ہوتا ہے جب دل کو کسی طرح کا نقصان پہنچ جائے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں اس پروٹین کی مقدار میں اضافے کے اثرات کا جائزہ حقیقی دنیا کے لاکھوں مریضوں میں لیا گیا۔

اس پروٹین کے بڑھنے سے مریضوں میں امراض قلب یا ہارٹ اٹیک سے جڑی علامات سامنے آنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے مگر وہ ادویات جیسے statins سے خطرہ کم کرسکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈاکٹروں کو اس معلومات سے ایسے مریضوں میں موت کے خطرے کو پہچاننے میں مدد ملے گی جن کا ٹروپونین لیول بڑھ گیا ہو، اور آغاز میں ہی مریضوں کے موثر علاج کو ممکن بنایا جاسکے گا۔

تحقیقی ٹیم نے ہزاروں مریضوں کے دل کی شریانوں کے ڈیٹا کا جائزہ لای جنہوں نے 5 بڑے ہسپتالوں سے ٹروپونین ٹیسٹ کرایا تھا۔

ان مریضوں کو عمر کے مطابق گروپس میں تقسیم کیا گیا اور ان کے پروٹین کے نتائج کا موازنہ 3 سال میں آنے والے نتائج سے کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک کی تشخیص نہ ہونے پر بھی ٹروپونین کی سطح مٰں اضافے سے موت کا خطرہ بڑھ گیا۔

80 سال سے زائد عمر کے 45 فیصد مریض جن میں اس پروٹین کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا، کی موت 6 ماہ سے 3 سال کے دوران واقع ہوئی۔

مگر محققین یہ جان کر حیران ہوئے کہ جن افراد میںٹروپونین کی سطح بہت زیادہ بڑھ گئی، ان میں موت کا خطرہ کم ہوگیا جس کی ممکنہ وجہ ایسے افراد کی جانب سے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے سرجری کرانا تھا، جس سے دوران خون بہتر اور بچنے کی شرح بڑھ گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ عمر سے قطع نظر ٹروپونین کی سطح میں اضافہ ایسی علامت ہے جسے بالکل بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امراض قلب کے علاج کے حوالے سے بہت پیشرفت ہوچکی ہے مگر پھر بھی یہ دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔