اسٹیٹ بینک کا شرح سود 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

اسٹیٹ بینک نے جولائی میں شرح سود 13.25 رکھنے کا  فیصلہ کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز
اسٹیٹ بینک نے جولائی میں شرح سود 13.25 رکھنے کا فیصلہ کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اگلے دو ماہ کے لیے شرح سود 13 اعشاریہ 25 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے شرح سود کو برقرار رکھا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا یہ فیصلہ مہنگائی کے حوالے سے کیے گئے حالیہ اقدامات کے اثرات کا نتیجہ ہے جو ایک طرف بلند ترین سطح پر ہے اور دوسری طرف اس کے نتیجے میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جو متوقع طور پر عارضی ہوگا۔

مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی، شرح سود 13.25 فیصد برقرار

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق مالی سال 2020 کے حوالے سے مہنگائی کی شرح بدستور 11 سے 12 فیصد پر برقرار ہے جو زری پالیسی کو برقرار رکھنے کی ایک وجہ بھی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ اور مالی حوالے سے بہتر فیصلوں کے باعث مارکیٹ کی صورت حال بتدریج بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے۔

شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے لیے مانیٹری کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے اقدامات کو زیر غور لایا جو مہنگائی اور زری پالیسی پر مبنی تھے۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 16 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے 13.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو بعد ازاں 16 ستمبر کو بھی برقرار رکھی گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 'زری پالیسی اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے کہ نتائج زیادہ تر توقع کے مطابق رہے اور مالی سال 2020 کے لیے افراط زر کے حوالے سے 16 جولائی 2019 کو منعقدہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی'۔

یہ بھی پڑھیں:شرح سود میں مزید ایک فیصد اضافہ، 13.25 فیصد ہوگئی

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'زر پالیسی کمیٹی کا خیال تھا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر زری پالیسی کا فیصلہ موجودہ مہنگائی کو کم کرکے اگلے دوسال کے دوران 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے مناسب تھا'۔

شرح سود کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ ‘شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے لیے زری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ اجلاس سے اب تک کے اہم معاشی حالات، حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زری کیفیات اور مہنگائی پر غور کیا'۔