سی پیک، پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرے گا، امریکا کا انتباہ

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2019

ای میل

معاشی اصلاحات کی جائیں تاکہ امریکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب ہوں—فائل فوٹو: اے پی پی
معاشی اصلاحات کی جائیں تاکہ امریکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب ہوں—فائل فوٹو: اے پی پی

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ پہلے سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے، بدعنوانی میں اضافے کا سامنا کرنے والے پاکستان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا جبکہ منافع اور روزگار چین کو ملے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک ’غیر معمولی‘ تقریر کرتے ہوئے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی سب سے اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ یہ کثیر الارب (ملٹی بلین) ڈالر منصوبہ پاکستانی معیشت کے لیے ادائیگی کے وقت مشکلات کا سبب بنے گا۔

سی پیک پر تنقید اور پاکستان کو پیشکش پر چین کا امریکا کو جواب

معاون سیکریٹری ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان کے لیے امداد نہیں بلکہ مالی معاملات کی ایسی شکل ہے جو چین کی سرکاری کمپنیوں کے فوائد کی ضمانت دیتا ہے جبکہ پاکستان کے لیے اس میں انتہائی معمولی فائدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، سی پیک میں کرپشن کے الزامات میں احتیاط کرے

ایک عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ خصوصی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب واشنگٹن اور اسلام آباد مسائل کا شکار اپنے باہمی تعلقات کی تجدید کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایلس ویلز کا مزید کہنا تھا کہ ’سی پیک‘ کا انتہائی مہنگا اور واحد منصوبہ کراچی سے پشاور تک ریلوے کے نظام کو بہتر کرنا ہے، جس کی ابتدائی لاگت 8 ارب 20 کروڑ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ انہوں نے لاگت میں کمی کے لیے بات چیت کر کے اسے 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کروالیا، جس سے 2 ارب روپے کی بچت ہوگی کیوں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور اتنے زیادہ قرضوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں: سی پیک کے 11 ترقیاتی منصوبے مکمل، 11 پر کام جاری

تاہم حالیہ میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ اب اس منصوبے کی لاگت 9 ارب ڈالر تک جاپہنچی ہے تو پاکستانی عوام کو سی پیک کے سب سے مہنگے منصوبے کی قیمت اور اس بات کا علم کیوں نہیں کہ قیمت کا تعین کس طرح کیا جارہا ہے۔

امریکی عہدیدار نے چین کے مالیاتی طریقہ کار کے پاکستان پر ہونے والے طویل مدتی اثرات پر بھی بات کی اور اسلام آباد پر زور دیا کہ نئی حکومت پر پڑنے والے اس بوجھ کا جائزہ لیا جائے جس میں چینی حکومت کا قرض 15 ارب ڈالر جبکہ چین کا کمرشل قرض 6 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔

ایلس ویلز نے پاکستان کے لیے یہ بات جاننے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ چین قرضے دے رہا ہے امریکا کی طرح امداد نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قرضوں کی ادائیگیاں موخر بھی کردی جائیں تو بھی یہ پاکستان کی معاشی ترقی کی صلاحیت پر اثر انداز ہوں گی اور وزیراعظم عمران خان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو ناکارہ کردیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک کے تحت شروع ہونے والے توانائی کے بڑے منصوبے ملتوی

معاون سیکریٹری نے سی پیک منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی پر براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے کی لاگت اور بدعنوانی کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے جس کا نتیجہ ملک کے لیے بھاری قرضوں کی صورت میں نکلے گا۔

انہوں نے اس بات کو چیلنج کرتے ہوئے کہ سی پیک پاکستان میں روزگار فراہم کر رہا ہے، کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باوجود سی پیک بنیادی طور پر چینی کارکنان پر انحصار کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک صرف چین کو فائدہ پہنچائے گا جبکہ امریکا نے ایک بہتر ماڈل کی پیشکش کی تھی اور اسلام آباد پر زور دیا تھا کہ معاشی اصلاحات کی جائیں تاکہ امریکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب ہوں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا سرکاری کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کی پیشکش نہیں کرسکتا لیکن امریکی نجی سرمایہ کاری اور امداد کی فراہمی پاکستان کی مسائل کا شکار معیشت کو بہتر بنا سکتی ہے۔

امریکی معاون خصوصی نے یہ بھی یاد دلایا کہ رواں سال جولائی میں وزیر اعظم عمران خان کے دورۂ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ امریکی تجارت میں بہت زیادہ اضافہ کرنے کی پیش کش بھی کی تھی۔

ایلس ویلز نے اعتراف کیا کہ امریکا سرکاری سطح پر چلنے والی کمپنیوں کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیش کش نہیں کرسکتا تاہم انہوں نے کہا کہ گرانٹ کے ساتھ نجی امریکی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت بہتر ہوگی۔