نیب کا شہباز شریف، رانا ثنااللہ، آغا سراج درانی کے خلاف انکوائری کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2019

ای میل

شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور سراج درانی کو پہلے ہی مقدمات کا سامنا ہے—فائل/فوٹو:ڈان
شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور سراج درانی کو پہلے ہی مقدمات کا سامنا ہے—فائل/فوٹو:ڈان

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی رانا ثنااللہ اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی سمیت 15 انکوائریوں اور 3 تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

نیب کی جانب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق سندھ کے سابق وزیر خوراک اور دیگر، سی ڈی اے کے افسران و عہدیداروں و دیگر اور بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانے کے سابق اکاؤنٹنٹ محمد طفیل قاضی اور دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سمیت دیگر اراکین اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے اراکین اور رہنماؤں کے علاوہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوارالحق سمیت دیگر کے خلاف 15 انکوائریاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:نیب کا شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

نیب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق رکن قومی اسمبلی بلیغ الرحمٰن، بہاولپور سے تعلق رکھنے والے چوہدری عمر محمود ایڈووکیٹ، چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران و اہلکاروں اور دیگر کے خلاف انکوائری شروع کی جائے۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور زیر حراست رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کے خلاف بھی انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو نے پی پی پی سے تعلق رکھنے والے نثار احمد کھوڑو کے خلاف تحقیقات کے علاوہ انکوائری کا بھی فیصلہ کیا ہے دیگر اراکین میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی بھی شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرانوارالحق، سابق رکن سندھ اسمبلی عبدالرووف کھوسو و دیگر اور چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ریونیو ڈپارٹمنٹ لیاقت پور کے افسران و عہدیداروں اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈویژن کے افسران و عہدیداروں سمیت دیگر انکوائریوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیب نے متعدد انکوائریوں کو عدم شواہد کی بنیاد قانون کے مطابق بند کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیب نے حمزہ شہباز کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا

ایگزیکٹیو بورڈ میں فیصلہ کیا گیا کہ دبئی میں پاکستانیوں کی جانب سے ڈیکلیئر کیے بغیر تقریباً 1.1 کھرب روپے کی منتقلی سے متعلق مزید کارروائی کے لیے معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیجا جائے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ خیبرپختونخوا (کے پی) کے افسران و اہلکاروں کے خلاف انکوائری کے سلسلے میں سرکاری فنڈز میں خرد برد کے الزام کی تحقیقات کے لیے آڈیٹر جنرل سے اسپیشل آڈٹ کروانے کی منظوری دی گئی ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی سید ناصر علی شاہ اور دیگر کے خلاف تحقیقات کارروائی کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ اور سابق رکن بلوچسان اسمبلی انیتہ عرفان اور دیگر کے خلاف تحقیقات اینٹی کرپشن بلوچستان کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ احتساب سب کے لیے کی پالیسی کے تحت گزشتہ 25 ماہ کے دوران 73 ارب روپے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروا دیے گئے ہیں۔