ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرض منظور کردیا

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2019

ای میل

آئی ایم ایف کے تعاون سے کئی اصلاحات اور اقدامات کے نفاذ کے بعد مذکورہ قرض کی منظوری دی گئی—فائل فوٹو: اے ایف پی
آئی ایم ایف کے تعاون سے کئی اصلاحات اور اقدامات کے نفاذ کے بعد مذکورہ قرض کی منظوری دی گئی—فائل فوٹو: اے ایف پی

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے ہنگامی قرض کی منظوری دے دی۔

اے ڈی بی کے جاری ایک اعلامیے کے مطابق پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کے ہنگامی قرض کی منظوری کا مقصد ملک کی معیشت کو فوری طور پر مدد فراہم کرنا اور زوال پذیر معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ قرض ملٹی ڈونر معاشی اصلاحات پروگرام کا حصہ ہے جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے زیر اہتمام ہے تاکہ معیشت کو استحکام ملے جو 2018 کے وسط میں بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

مزیدپڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو 2.7ارب ڈالر قرض دینے کا اعلان

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے کئی اصلاحات اور اقدامات کے نفاذ کے بعد مذکورہ قرض کی منظوری دی گئی۔

مذکورہ اعلامیے میں کہا گیا کہ قرض کا مقصد ملک کے 'کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور محصولات کو مضبوط بنانا اور معاشی بحران سے غریبوں کو محفوط کرنا ہے'۔

قرض پر تبصرہ کرتے ہوئے اے ڈی بی وسطی اور مغربی ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل ورنر لیپچ نے موقف اختیار کیا کہ بینک پاکستان کو مدد فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم کرسکے۔

انہوں نے کہا 'یہ فنڈز اہم منفی معاشرتی اور معاشی اثرات کو روکنے اور متوازن نمو کی واپسی کے لیے حکومت کی ضرورت کو پورا کرے گا'۔

توانائی کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے 30کروڑ ڈالر کا قرض

دوسری جانب ایک اور اعلامیے میں اے ڈی بی نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں پالیسی کے بنیادی ڈھانچے میں مالی استحکام، نظم و نسق اور رکاوٹوں سے نمٹنے میں حکومت کی مالی اعانت کے لیے 30 کروڑ ڈالر پر مبنی قرض کی منظوری دی۔

ساتھ ہی مزید کہا گیا کہ'یہ فنانسنگ شعبہ توانائی کی اصلاحات اور مالیاتی استحکام پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر پر مشتمل 3 ضمنی پروگراموں کی مدد کرے گا'۔

واضح رہے کہ مذکورہ پروگرام آئی ایم ایف کی سربراہی میں ایک جامع ملٹی ڈونر معاشی اصلاحات پروگرام کا ایک اہم جزو ہے۔

'ملکی معیشت سست روی کا شکار'

قبل ازیں ستمبر میں جاری ایک رپورٹ میں اے ڈی بی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ملکی معیشت گزشتہ سال کے مقابلے میں سست روی کا شکار رہے گی جبکہ مالی سال 2020 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.8 فیصد ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مالی سال 2019 کے دوران پاکستان میں معاشی نمو کم ہوئی ہے۔

اے ڈی بی کے مطابق 'پالیسی غیر یقینی صورتحال اور مستقل معاشی عدم توازن کے درمیان کم سرمایہ کاری کی عکاسی کرتی ہے'۔

مزیدپڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کا مالی امداد کے حکومتی دعوے سے اظہارِ لاتعلقی

رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی تھی کہ بڑھتی افراط زر 'بنیادی طور پر کرنسی کی گراوٹ اور گھریلو گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کی عکاسی کرتی ہے'۔

واضح رہے 9 اکتوبر کو اے ڈی بی نے پاکستان کو رواں سال 2 ارب 70 کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ حال ہی میں ملک کے کنٹری آپریشنز بزنس 2022-2020 کے منصوبے کے تحت منظور شدہ قرض میں اوسطاً سالانہ بنیادوں پر 2 ارب 40 کروڑ ڈالر تک اضافہ کرے گا اور 2015 سے 2018 کے درمیان اس میں 1ارب 40 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔