ریاست مدینہ کیلئے ذاتی مفاد کو قومی مفاد کے تابع کرنا ہوگا،چیئرمین نیب

اپ ڈیٹ 30 دسمبر 2019

ای میل

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی کوشش یہ تھی کہ ہم اپنا ادارہ ٹھیک کریں —تصویر: ڈان نیوز ٹی وی
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی کوشش یہ تھی کہ ہم اپنا ادارہ ٹھیک کریں —تصویر: ڈان نیوز ٹی وی

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو(نیب) نے ملک کی ترقی، بہتری کی راہ میں کچھ نہ بھی کیا ہو تب بھی اتنا ضرور کیا کہ بدعنونی کے خلاف پہلی اینٹ رکھ دی ہے تاکہ اس پر عمارت تعمیر کی جاسکے۔

راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کا خاتمہ نیب کی واحد منزل ہے لیکن نیب اکیلا 70 سال کی برائی کا جڑ سے خاتمہ نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا جس کے لیے ہر شخص خود احتسابی کرے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی کوشش یہ تھی کہ ہم اپنا ادارہ ٹھیک کریں اور میں نے اس سلسلے میں ادارے کی بہتری کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا متعدد انکوائریز بند، نئی تحقیقات شروع نہ کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ نیب میں کسی کی سفارش خاطر میں نہیں لائی جاتی بلکہ صرف میرٹ کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے اور اگر صرف میرٹ کو فوقیت دینے کا عمل ہی تمام اداروں میں شروع ہوجائے تو پاکستان تیزی سے ترقی کرنا شروع کردے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیب کی وفاداری صرف ملک کے ساتھ ہے، اس کے سوا کسی کے ساتھ نہیں اور جب وفاداری صرف ملک سے ہو تو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور نیب وہ قیمت ادا کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں انسداد بدعنوانی کے جتنےاقدامات کیے گئے اس سے قبل کبھی نہیں کیے گئے تھے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ہم ریاست مدینہ کا خواب دیکھ رہے ہیں جس کی تعبیر پانے کے لیے ہمیں محنت اور سچائی سے کام کرنا پڑے گا اور ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: بیوروکریسی کا نیب سے گلہ مسترد کرتا ہوں، چیئرمین جاوید اقبال

ان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کی تعبیر کے لیے قانونی حکمرانی ضروری ہے اور یہ صرف حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ ہر شخص کو محنت اور کام کرنا ہوگا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اگر قانون کی حکمرانی شخصیات دیکھ کر کی جائے گی تو بربادی ہوگی اس لیے نیب نے فیصلہ کیا تھا کہ کبھی ’فیس‘ کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ صرف اور صرف کیس کو دیکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے نیب وجود میں آیا ہے 3 کھرب 28 ارب روپے برآمد کیے گئے ہیں اس کے باوجود لوگ نیب پر تنقید کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیب قانون کی قلابازی اور ہمارے ادارے

ان کا کہنا تھا کہ میں کاروباری برادری کو ایک مرتبہ پھر یقین دلاتا ہوں کہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی لیکن اپنی زندگی کی جمع پونجی بلڈروں کے ہاتھوں کھو دینے والے افراد کے خوابوں کا بھی ہمیں خیال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2 سال کے عرصے میں ایک کھرب 53 ارب روپے کی وصولی ہوئی جس میں 71 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع کروائے گئے۔

تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت عدالتوں میں 1261 مقدمات زیِر سماعت ہیں جو 9 کھرب 43 ارب روپے کی رقم سے متعلق ہیں جس کا نصف بھی موصول ہونے کی صورت میں پاکستان کے غریب عوام کی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔