بھارت: شہریت بل سے مسلمانوں کو نکالنے پر ہزاروں افراد کا احتجاج

06 دسمبر 2019

ای میل

بل کے خلاف طلبہ اور سماجی کارکنان نعرے لگا رہے ہیں — فوٹو: اے پی
بل کے خلاف طلبہ اور سماجی کارکنان نعرے لگا رہے ہیں — فوٹو: اے پی

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک ہزار سے زائد طلبہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے صرف غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کے حوالے سے بل منظور کرنے پر احتجاج کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے بھارت کے تین مسلم اکثریتی والے پڑوسی ممالک کے غیر مسلم مہاجرین کو شہریت دینے سے متعلق بل کی منظوری دی تھی۔

بل کے خلاف آسام کے دارالحکومت گوہاٹی کی سڑکوں پر ایک ہزار سے زائد طلبہ اور سماجی کارکنان جمع ہوئے جنہوں نے بل کی مخالفت میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

یہ بل آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: 'غیر مسلم' تارکین وطن کو شہریت دینے کا ترمیمی بل منظور

— فوٹو: اے پی
— فوٹو: اے پی

آسام میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہجرت کرکے آنے والے افراد کی بڑی تعداد آباد ہے۔

بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ یہ بل امتیازی ہے کیونکہ اس کا مقصد مسلم تارکین وطن سے امتیاز برتتے ہوئے انہیں الگ کرنا ہے۔

بل کے تحت بھارت شہریت حاصل کرنے کا حق رکھنے والوں میں ہندو، سکھ، بدھ مت اور مسیحی شامل ہیں۔

مجوہ بل میں شہریت حاصل کرنے کے لیے بھارت میں قیام کی کم سے کم مدت 11 سال سے کم کر کے 6 سال کرنے کی بھی تجویز ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: شہریت سے محروم 19لاکھ افراد کیلئے حراستی مراکز قائم کرنے کا انکشاف

واضح رہے کہ مئی میں دوبارہ اقتدار میں آنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی پر طویل عرصے سے 'ہندوتوا' کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

مودی حکومت نے اپنے پہلے دور میں بھی اسی طرح کا قانون منظور کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم ایوان بالا میں وہ اس کے حق میں مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی، جبکہ اس بار بھی یہ غیر واضح ہے کہ وہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔

حکومت کے ناقدین نے شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کو مسلم مخالف قرار دیا ہے، جبکہ کئی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کو شہریت نہیں دی جاسکتی۔

یاد رہے کہ اگست میں ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے تحت 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم کردیے گئے تھے جس میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

بھارتی ریاست آسام کے دیہی علاقوں میں غربت کے سبب اکثر افراد بچوں کی پیدائش کی دستاویزات نہیں بنوا پاتے جس کے سبب خدشہ ہے کہ ان لوگوں کو مہاجرین قرار دے کر شہریت کا حق نہیں دیا جائے گا۔