ایف اے ٹی ایف کے تحت ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رپورٹ جمع

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2019

ای میل

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگست سے نومبر 2019کے دوران 29 مقدمات درج کیے گئے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگست سے نومبر 2019کے دوران 29 مقدمات درج کیے گئے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات کی رپورٹ جمع کرادی جس کے تحت چندہ جمع کرنے والوں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت 367مقدمات درج کیے گئے۔

ڈان نیوز کو موصول رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں 8 کالعدم تنظیموں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تحت مقدمات میں 400 اور سزاؤں میں 403فیصد تک اضافہ ہوا۔

مزیدپڑھیں: یورپی یونین کی ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے تکنیکی معاونت کی پیشکش

واضح رہے کہ ایکشن پلان کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا ہے۔

ایکشن پلان رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مجموعی طور پر 196افراد کو سزائیں ہوئی اور نومبر 2019تک چندہ جمع پر کرنے پر دہشت گردی ایکٹ کے367مقدمات درج کیے گئے۔

مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگست سے نومبر 2019کے دوران 29 مقدمات درج کیے گئے، اس کے علاوہ 8 کالعدم تنظیموں کے خلاف مجموعی طور پر دہشت گردی ایکٹ کے 196مقدمات درج کیے۔

رپورٹ کے مطابق نومبر 2019 تک دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف چندہ جمع کرنے کے17مقدمات رجسٹرڈ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کیا ہے؟

ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے تحت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف 25 اور القاعدہ کے خلاف 10 مقدمات درج کیے گئے۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیم جیش محمد کے خلاف فنڈز جمع کرنے پر 91 مقدمات درج ہوئے۔

اس ضمن میں رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نومبر2019 تک کالعدم جماعت الدعوۃ کے خلاف 47 اور کالعدم لشکر طیبہ کے خلاف چندہ جمع کرنے پر 2 مقدمات ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان افغانستان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت 4مقدمات درج ہوئے۔

اعداد و شمار میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ تنظیموں کے خلاف پنجاب میں چندہ جمع کرنے پر 133دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات درج کیے گئے جس میں خیبر پختونخوا سے 34، سندھ سے 17 اور بلوچستان سے 12مقدمات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان فروری تک ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عملدرآمد کرلے گا‘

اس حوالے سے بتایا گیا کہ تنظیموں کے خلاف کھالیں جمع کرنے پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت 4مقدمات بھی درج کیے گئے۔

مذکورہ رپورٹ میں داعش اور ٹی ٹی پی کے خلاف اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، حوالہ، بینک ڈکیتی، منشیات کے بالتریب 46 اور 205 مقدمات درج ہوئے۔

کالعدم جیش محمد اور جماعت الدعوۃ کے خلاف عطیہ جمع کرنے، این پی اوز کے غلط استعمال پر بالترتیب 97 اور 85 مقدمات درج کیے گئے۔

سزاؤں سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں دہشت گردوں کی مالی معاونت پر 145، کے پی میں 43، سندھ میں 7، بلوچستان میں ایک شخص کو سزا دی گئی۔

علاوہ ازیں ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے تحت داعش 13، ٹی ٹی پی کے 37، جماعت الدعوۃ کے 18اور لشکر طیبہ کے ایک شخص کو دہشت گردوں کی مالی معاونت پر سزا دی گئی۔

واضح رہے کہ نومبر کے وسط میں ایف اے ٹی ایف کے صدر شیالگمن لو نے میڈیا کو پاکستان کے بارے میں ٹاسک فورس کے فیصلوں پر مفصل بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘پاکستان جون 2018ء سے گرے لسٹ میں ہے، پاکستان ایک ایکشن پلان پر متفق ہوا تھا، تاہم اس کی پیش رفت ناکافی ہے، ایکشن کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا تھا۔

مزیدپڑھیں: ایف اے ٹی ایف کا 'دہشتگردی سے متعلق سفر' کی مالی معاونت کو جرم قرار دینے پر زور

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اعلیٰ سطح پر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکا ہے اور ایکشن پلان کی ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ موجودہ حکومت میں پاکستان نے اس معاملے پر کچھ ٹھوس پیش رفت ضرور کی ہے جس کا ایف اے ٹی ایف خیر مقدم کرتی ہے لیکن اب تک بیشتر نکات پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا تھا کہ ’پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی سطح مختلف ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’ایف اے ٹی ایف پاکستان کی جانب سے ان معیارات پر پورا نہ اترنے کو سنجیدگی سے لے رہا رہا ہے لہٰذا پاکستان کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ وہ فروری 2020ء تک اپنے مکمل ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے، اگر ٹھوس پیش رفت نہ کی گئی تو ایف اے ٹی ایف سخت ایکشن لے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے'۔