شیریں مزاری کی ڈان کے دفاتر کے باہر دھمکی آمیز مظاہروں کی مذمت

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2019

ای میل

میڈیا کی تنظیموں، نامور صحافیوں، قانون دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مظاہروں اور دھمکیوں کی شدید مذمت کی تھی —فائل فوٹو: اے پی پی
میڈیا کی تنظیموں، نامور صحافیوں، قانون دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مظاہروں اور دھمکیوں کی شدید مذمت کی تھی —فائل فوٹو: اے پی پی

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے حالیہ دنوں میں ڈان کے دفاتر کے باہر مظاہرین کی جانب سے ’ تشدد اور دھمکیوں‘ کے واقعات کی مذمت کردی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شیریں مزاری نے کہا کہ ’پُرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن دوسروں کو دھمکیاں دینا قابل قبول نہیں ہوسکتا‘۔

شیریں مزاری نے کہا کہ ’میں ڈان کی لائن سے اکثر اختلاف کرتی ہوں لیکن میں ڈان کے دفاتر کے باہر مظاہرین کی جانب سے تشدد اور دھمکیوں کی شدید مذمت کرتی ہوں‘۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ افسوس ہمارا معاشرہ ضیا کی عدم برداشت اور عداوت کی میراث سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکا‘۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے بھی ان واقعات پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اس وقت ڈان کے ساتھ کھڑے ہیں’۔

لندن میں موجود رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ‘ڈان وہ اخبار ہے جس کی بنیاد قائد اعظم نے رکھی تھی اور گزشتہ 7 دہائیوں سے انہوں نے پریس کی آزادی، آزادی اظہار اور صحافت کے اعلیٰ معیار کی روایت کو برقرار رکھا ہے’۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ‘پاکستان میں آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی ہے اور یہ پاکستان کی تخلیق کی بنیاد کی نفی ہے’۔

مظاہرین نے گزشتہ روز ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ روزنامہ ڈان اخبار کے اسلام آباد بیورو کا گھیراؤ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ڈان اسلام آباد کے دفتر کا گھیراؤ

ڈان اخبار کے اسلام آباد دفتر کے باہر گاڑیوں میں آئے تقریباً 100افراد نے دفتر کا محاصرہ کیا تھا اور اخبار کی کاپیاں بھی نذرِ آتش کی تھیں، پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی تھی لیکن مظاہرین 40 منٹ بعد خود ہی منتشر ہو گئے تھے۔

ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’اسلام آباد میں ڈان کے دفتر کے باہر ایک مرتبہ پھر منظم منصوبہ بندی کے تحت مظاہرہ کیا گیا، وہی لوگ، وہی یکساں لہجہ، تعداد میں زیادہ اور داخلی راستے کو بند کردیا، ہم نے پولیس کو مطلع کیا اور انہیں بتایا کہ ہمارے اسٹاف اور املاک کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے، امید ہے کہ حکومت میں سے کوئی مداخلت کرے گا‘۔

انہوں نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں کہا تھا کہ’ ڈان کی چند کاپیاں نذر آتش کرنے کے بعد یہ لوگ منتشر ہو گئے ہیں، ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے تاہم اس وقت تک جب تک وہ اشتعال نہ پھیلائیں‘۔

ڈان کے خلاف احتجاج اور دھمکیاں

واضح رہے کہ 2 دسمبر کو قبل اسلام آباد میں موجود ڈان کے دفتر کے باہر کچھ درجن افراد نے لندن برج پر 2 افراد کو چاقو مار کر قتل کرنے والے شخص کے پس منظر کے حوالے سے خبر شائع کرنے پر احتجاج کیا تھا۔

احتجاج کرنے والے مشتعل مظاہرین نے ڈان اخبار کے خلاف بیننرز اٹھا رکھے تھے جبکہ انہوں نے نعرے بازی بھی کی اور عملے کو عمارت کے اندر محصور کر کے 3 گھنٹے تک دفتر کے باہر موجود رہے۔

مظاہرین نے ملازمین کو عمارت کے اندر داخل ہونے اور باہر نکلنے سے بھی روک دیا تھا جبکہ دفتر آنے والے ڈان اخبار اور ڈان نیوز ٹی وی کے کچھ ملازمین کے ساتھ بد تمیزی بھی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایک ہفتے میں دوسری بار ڈان اخبار کے اسلام آباد بیورو کا گھیراؤ

منگل کو کراچی پریس کلب کے باہر بھی درجنوں افراد نے ڈان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

احتجاج کے شرکا میں سے چند نے وہ بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں تحریک تحفظ پاکستان کا نام بطور منتظم درج تھا۔

شرکا نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ 'اگر جھوٹی خبر شائع کرنے پر ڈان کی انتظامیہ کے خلاف فوری ایکشن نہیں لیا جاتا' تو وہ اس کے دفاتر کا گھیراؤ کریں گے۔

میڈیا کی تنظیموں، نامور صحافیوں، قانون دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مظاہروں اور دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

گلوبل میڈیا واچ ڈاگز، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) اور رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے پاکستانی حکام سے اسلام آباد میں ڈان کے دفاتر کے گھیراؤ کی مذمت کرنے اور اخبار کے خلاف مظاہروں کو پرتشدد ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سی پی جے بورڈ کی چیئرپرسن کیتھیلن کیرل نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا تھا کہ ’ پاکستانیوں کے پاس ڈان اخبار کی کوریج پر اعتراض کرنے اور اس کے خلاف مظاہرہ کرنے کا ہر حق حاصل ہے لیکن تشدد کی دھمکیاں اس حق سے باہر ہیں‘۔

انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ’ ہم پاکستانی حکام سے ڈان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام مناسب اقدامات لینے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیئل باسٹرڈ نے بھی واقعے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ’ طاقت کا یہ مظاہرہ پاکستان کے نامور اخبار کے خلاف دھمکی دینے کا ایک اور ناقابل قبول عمل ہے‘۔

مزید پڑھیں: ڈان دفتر کے گھیراؤ کےخلاف صحافیوں کا مختلف شہروں میں احتجاج

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ ہم وزیراعظم عمران خان سے عوامی سطح پر ان زیادتیوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ایسا کرنے میں ناکام ہونے کی صورت میں انہیں ذاتی طور پر آزادی صحافت کی خوفناک خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا‘۔

2 دسمبر کو اسلام آباد میں ڈان اخبار کے دفتر کے باہر مظاہرے کے دو روز بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے سوال کے جواب میں واقعے کی مذمت کی تھی۔

علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ڈان دفاتر کا دورہ کیا تھا اور ور نامعلوم افراد کے گھیراؤ کا شکار بننے والے ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔