نواز شریف کو علاج کیلئے 16 دسمبر کو امریکا منتقل کیے جانے کا امکان

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2019

ای میل

انہیں جس مرض کی تشخیص ہوئی اس کا علاج صرف امریکا کے بوسٹن میں ہوسکتا ہے—فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
انہیں جس مرض کی تشخیص ہوئی اس کا علاج صرف امریکا کے بوسٹن میں ہوسکتا ہے—فائل فوٹو: اسکرین شاٹ

لاہور: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو علاج کے لیے 16 دسمبر کو امریکا منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں خاندانی ذرائع نے بتایا کہ انہیں بلڈ پلیٹلیٹس کی کمی کے باعث قوت مدافعت کی خرابی کا مرض لاحق ہے، جس کا علاج لندن میں بھی موجود نہیں لہٰذا سابق وزیراعظم کو امریکا منتقل کیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ لندن میں کیے گئے نواز شریف کے میڈیکل ٹیسٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ پلیٹلیٹس کی کمی کے باعث ان کے دماغ کو خون کی فراہمی میں کچھ رکاوٹ ہے، جس کے لیے آپریشن کیا جائے گا اور اس کا علاج صرف امریکا کے شہر بوسٹن میں ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لندن میں نواز شریف کے مرض کی تشخیص کیلئے مختلف ٹیسٹ

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم گزشتہ ماہ اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ ایئر ایمبولینس میں علاج کے لندن پہنچے تھے۔

انہیں اکتوبر میں خرابی صحت کے باعث قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے پلیٹلیٹس میں مسلسل کمی کے باعث صحت پیچیدہ ہورہی تھی۔

ماہر امراض خون نے نواز شریف کو ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) نامی بیماری لاحق ہونے کی تشخیص کی تھی جو خون کے خلیات میں خرابی کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں: 'نواز شریف کو علاج کے لیے امریکا جانا چاہیے'

بعدازاں نواز شریف کے علاج کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ نے بتایا تھا کہ ان کے کچھ طبی ٹیسٹس اور علاج بیرونِ ملک میں ہی ممکن ہیں۔

جس پر العزیزیہ ریفرنس کیس میں قید کی سزا کاٹنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بیرونِ ملک روانگی کی اجازت کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جہاں لاہور ہائی کورٹ نے پہلے ان کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد اسلام آباد کورٹ نے ابتدائی طور پر العزیزیہ ریفرنس میں ان کو 3 دن کی ضمانت دی تھی، بعدازاں درخواست پر مزید سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا۔

8 نومبر کو شہباز شریف وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے تحت روانگی سے قبل انہیں 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز جمع کروانے تھے۔

تاہم انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے علاج کے بعد وطن واپسی کی ضمانت کے لیے 7 ارب روپے کے انڈیمیٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط پر بیرونِ ملک جانے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لندن: مرض کی تشخیص کیلئے نواز شریف کا پی ای ٹی اسکین

جس کے بعد ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت میں تحریری طور پر اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ نواز شریف کی صحت یابی کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے سفر کی اجازت ملنے پر ان کی وطن واپسی یقینی بنائیں گے جس پر عدالت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی.

چنانچہ وزارت داخلہ سے 18 نومبر کو بیرون ملک سفر کے لیے گرین سگنل ملنے کے بعد 19 نومبر کو قائد مسلم لیگ (ن) خصوصی طور پر بلائی گئی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لندن پہنچ گئے تھے۔