’آنے والا وقت حکومت اور سیاسی جماعتوں کے لیے آسان نہیں ہوگا‘

اپ ڈیٹ 17 دسمبر 2019

ای میل

’کیا واقعی؟ یہ تو بہت بڑا فیصلہ ہے۔ میں حیران ہوں، کیونکہ میرا نہیں خیال تھا کہ اس طرح کا کوئی فیصلہ آ بھی سکتا ہے۔ میں تو یہی سمجھ رہا تھا کہ جب تک ان کی زندگی ہے تب تک بس یہ کیس یونہی چلتا رہے گا۔‘

ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور پروگرام ’ذرا ہٹ کے‘ کے میزبان ضرار کھوڑو نے اس وقت کیا جب میں نے ان سے اس کیس پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا۔

چونکہ ضرار کھوڑو نے کیس کے بارے میں پڑھا نہیں تھا، اس لیے وہ زیادہ بات تو نہیں کرسکے لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اگرچہ مجھے یہ نہیں لگتا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد ہوسکے گا اور نہ میں اس بارے میں بات کرنا چاہوں گا کیونکہ کسی کی موت پر میں کبھی بھی خوش نہیں ہوسکتا، لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ اس طرح کا فیصلہ آنا واقعی بہت بڑا واقعہ ہے، کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔

مزید پڑھیے: سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سنادی

ویسے یہ حیرانی اور فیصلے پر یقین نہ کرنے کی کیفیت شاید صرف ضرار صاحب کی نہیں بلکہ یہ معاملہ تو ہر ایک پاکستانی کے ساتھ تھا۔

جب صبح ٹی وی چینلز پر یہ خبر نشر ہوئی کہ کچھ دیر بعد سنگین غداری کیس سے متعلق خصوصی عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی تو میری طرح پورے دفتر میں یہی تاثر تھا کہ کوئی ہومیوپیتھک طرز کا فیصلہ آئے گا جس سے نہ کسی کا فائدہ ہوگا اور نہ کسی کو نقصان ہوگا۔

بلکہ فیصلہ آنے سے بس کچھ لمحات پہلے ہی ہمارے ایک ساتھی دفتر میں موجود دیگر افراد کو فلم The Verdict - State vs Nanavati کی کہانی سناکر یہ بتانے کی کوشش کررہے تھے کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا۔

فلم کی کہانی کچھ ایسی ہے کہ ایک بحریہ کا افسر قتل کردیتا ہے۔ قتل کرنے کے بعد وہ تھانے جاتا ہے اور اپنا گناہ قبول کرلیتا ہے۔ لیکن پھر اس ادارے کے لوگ افسر سے رابطہ کرتے ہیں اور اسے سمجھاتے ہیں کہ آپ کو بالکل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہم آپ کا کیس لڑیں گے اور آپ کو کچھ نہیں ہونے دیں گے، اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی کہ وہ افسر باعزت بری ہوگیا۔

اب یہ سب کچھ کیسے ہوا، اس کے لیے تو آپ کو فلم دیکھنی ہوگی ۔

لیکن فلم کے برخلاف حقیقی زندگی میں معاملہ پلٹ گیا اور ایسا پلٹا کہ کچھ دیر تک تو اس بارے میں یقین بھی نہیں کیا جارہا تھا۔

معاملے کو سمجھنے کے لیے کوشش کی کہ ان لوگوں سے رابطہ کیا جائے جو اس کیس کو سمجھتے ہوں۔ اس حوالے سے پہلا رابطہ ہمارا سینئر صحافی اویس توحید سے ہوا اور انہوں نے بڑی تفصیل سے بات کی۔ اویس توحید نے کہا کہ پاکستان کی داغدار سیاسی تاریخ میں ان آمرانہ ادوار نے جو کاری ضرب لگائی، اس کی روشنی میں عدالت کی جانب سے سنایا جانے والا غیر معمولی فیصلہ تاریخی اور علامتی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ اور سابقہ حکومت کا اس فیصلے کو رکوائے جانے کے حوالے سے اہم کردار رہا ہے۔ موجودہ وزیرِ داخلہ کا بیان تو ریکارڈ پر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ ملتوی کردیا جائے۔ اس لیے ہمیں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ مشرف صاحب کے کیس سے متعلق بہت شدید رکاوٹ اور مزاحمت تھی، جو اس فیصلے کے بعد ہٹ گئیں۔

مزید پڑھیے: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس: کب کیا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بھی کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت کے لیے یہ فیصلہ کسی امتحان سے کم نہیں۔ کیونکہ ایکسٹینشن کے معاملے میں حکومت اور عدلیہ جس طرح سامنے آئے اور وہاں حکومت کے جس طرح چکر لگے، اب یہی سب کچھ پارلیمان میں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ قمر جاوید باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن سے متعلق پارلیمان کیا فیصلہ کرتی ہے، یہ آئینی ترمیم کی بنیاد پر ہوگا یا سادہ اکثریت کی بنیاد پر، اس حوالے سے حکومت کی مشکلات کم نہیں ہورہیں۔

اویس توحید نے اس حوالے سے بھی بات کی کہ اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے اچھے تعلقات ان کے سیاسی سفر کے حوالے سے کچھ اچھے نہیں، اس لیے آنے والے دن بہت اہم ہیں۔ لیکن یہ مشکل صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بھی آنے والے دن آسان نہیں لگ رہے، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے لیے۔ کیونکہ نواز شریف نے گزشتہ کچھ عرصے میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو پکڑا ہوا ہے اور ان کی سیاسی جانشین مریم نواز بھی اسی سفر پر گامزن ہیں۔ ایسے حالات میں شہباز شریف کے لیے یقیناً مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا آسان نہیں ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس بات کو سمجھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ فوج کو بطور ادارہ اپنی ساکھ بہت پسند ہے، اور مشرف صاحب کے کیس میں یہ ساکھ کہیں نہ کہیں متاثر ہوگی۔ اسی طرح اگر ایکسٹینشن کا معاملہ بھی پارلیمان میں زیرِ بحث آگیا تو وہاں بھی اس ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جب ہم نے پوچھا کہ اب کیا ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ پوری صورتحال نہ صرف غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی ہے بلکہ حکومت کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے لیے بڑا امتحان ثابت ہوگی کہ وہ ان حالات کو کس طرح سنبھالتے ہیں کیونکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی اور عسکری توازن کا بہت چرچہ رہا ہے، اور اس توازن میں بہت سارے عوامل اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اب انہی عوامل کو سیاسی تاریخ، سیاسی قوتوں اور موجودہ حکومت کے لیے اپنی سمت کو درست کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

اویس توحید نے اپنی بات کا اختتام اس شعر کے ساتھ کیا جس میں کچھ تبدیلی کی اور کہا کہ موجودہ حکومت اور عمران خان کے لیے اب یہی شعر صادر آتا ہے کہ

اداروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

اس تفصیلی گفتگو کے بعد سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجاہد بریلوی سے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی اور ان کا اس حوالے سے مؤقف تھا کہ ’جہاں تک میری معلومات ہے پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی سربراہِ مملکت کو سزائے موت نہیں سنائی گئی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کو جن الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ماضی میں تو اس سے بڑے بڑے گناہ کیے جاچکے ہیں، پھر چاہے وہ پہلا مارشل لا لگانے والے فیلڈ مارشل ایوب خان ہوں، چاہے یحیٰ خان ہو یا ضیاالحق، لہٰذا مجھے اس پورے فیصلے میں ایک خاص قسم کا تعصب نظر آرہا ہے‘۔

وہ کچھ دیر رکے اور پھر گویا ہوئے ’مجھے تو وکلا کی تحریک میں بھی یہ تعصب نظر آیا تھا کہ انہوں نے کس طرح مشرف کو نشانہ بنایا گیا تھا‘۔

انہوں نے اپنی بات کو سمجھانے کے لیے مزید کہا کہ دیکھیے جب مشرف اقتدار میں آئے تھے تو پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے ان کو خوش آمدید کہا تھا، تالیاں بجائی تھیں۔ پھر وہ افتخار چوہدری تھے جنہوں نے مشرف کو مزید 3 سال دیے تھے کہ آپ اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔ اس ملک میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ احتساب کا عمل بس آج سے کیا جائے، لیکن کیوں؟ مجھے یہ کہنے دیجیے کہ مشرف کو جن الزامات پر سزا سنائی گئی ان کے مرتکب ماضی میں جنرل بھی ہوئے ہیں، جج حضرات بھی ہوئے ہیں اور میڈیا اور وکلا بھی، میں اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ فیصلہ مجھے خاص تعصب کی بنیاد پر دیا جانے والا فیصلہ لگ رہا ہے۔

سوچا کیوں نہ مبشر زیدی کی رائے بھی جان لی جائے اور پھر جب ان سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا ’عدالت نے جو بھی فیصلہ دیا ہے وہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ہی دیا ہے۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ اس سزا پر کبھی عمل ہو بھی سکے گا یا نہیں، مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں کسی بھی فوجی آمر کا راستہ روکنے کے لیے کافی ہوگا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس فیصلے کے بہت دُور رس نتائج ہوں گے‘۔

مزید پڑھیے: ’سنگین غداری کیس فیصلہ تاریخی ہے، اس کے دور رس نتائج ہوں گے‘

ہمارے ایک سوال پر مبشر زیدی نے کہا کہ ’مجھے آرمی چیف کی ایکسٹینشن اور پرویز مشرف کے کیس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا، لیکن ہاں اگر عمومی حالات میں اس کیس کو دیکھا جائے تو یقینی طور پر فوج کے لیے بطور ادارہ یہ فیصلہ جھٹکا ضرور ثابت ہوگا، کیونکہ بہرحال پرویز مشرف سابق آرمی چیف اور ملک کے صدر رہے ہیں، اس لیے فوج شاید اس فیصلے کو اتنی آسانی سے نہیں مانے گی، اس لیے اب انحصار حکومت پر ہے کہ وہ اس معاملے میں کیا کرتی ہے‘۔

اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’حکومت اور فوج کا آپس میں جس طرح کا تعلق ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا تو یہی ہے کہ حکومت شاید اس فیصلے کو چیلنج کرے، لیکن اس کیس کے جتنے مضبوط پہلو ہیں ان کی روشنی میں یہ مشکل ہی نظر آتا ہے کہ کوئی بھی عدالت اس کیس پر نظر ثانی کرے‘