وفاقی حکومت کا جسٹس وقار سیٹھ کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2019

ای میل

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی آبزرویشن دینے کی جج کو کیا اتھارٹی تھی، فروغ نسیم
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی آبزرویشن دینے کی جج کو کیا اتھارٹی تھی، فروغ نسیم

وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ جاری کرنے والے خصوصی عدالت کے بینچ کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔

معاونین خصوصی فردوش عاشق اعوان اور شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ 'خصوصی عدالت آرٹیکل 6 کا ٹرائل کر رہی تھی، پہلے مختصر فیصلہ دیا گیا، آج جو تفصیلی جاری کیا گیا اس میں پیراگراف 66 بہت اہم ہے، یہ پیراگراف بینچ کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت سے قبل اگر پرویز مشرف انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لایا جائے اور تین روز تک وہاں لٹکایا جائے۔'

انہوں نے کہا کہ 'میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی آبزرویشن دینے کی جج کو کیا اتھارٹی تھی، کہیں پر بھی ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے جس میں کسی جج کو ایسی آبزرویشن دینے کا اختیار ہو، ایسے فیصلے کی کوئی نظیر نہیں ملتی، یہ انتہائی غلط آبزرویشن ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 1994 میں سپریم کورٹ کا سنایا گیا ایک فیصلہ ہے جسے نسیم حسن شاہ نے تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مقامات پر پھانسی کی سزا آئینی اور اسلام کے خلاف ہے اور کسی بھی جج کو آئین کے تحت اس طرح کا فیصلہ دینے کا اختیار نہیں۔

فروغ نسیم نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 'وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس دائر کیا جائے جس میں استدعا کی جائے گی کہ ایسے جج صاحب کو پاکستان کی کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج ہونے کا کوئی اختیار نہیں ہے کیونکہ وہ ان فٹ ہیں، اس قسم کی آبزرویشن دے کر مذکورہ شخص ناصرف عدالت کا استحقاق مجروح کرتا ہے بلکہ یہ انصاف کی فراہمی کے لیے بہت کڑا وقت ہے۔'

مزید پڑھیں: 'پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے'

ان کا کہنا تھا کہ 'جج صاحب نے اس طرح کا فیصلہ دے کر خود کو ذہنی طور پر غیر مستحکم ثابت کردیا ہے لہٰذا سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ جسٹس وقار کو فی الفور کام کرنے سے روک دیا جائے جبکہ عدالت عظمٰن کے سینئر ججز سے درخواست ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کا انتظامی اور عدالتی کام نہ دیا جائے۔

وزیر قانون نے کہا کہ 'جسٹس وقار نے غیر روایتی اور غلط آبزرویشن دی ہے اور اگر آرٹیکل 209 دیکھا جائے تو اس کے ایسی صورت میں دو پیرا ہیں، جس میں نااہلیت اور ذہنی حالت کے بارے میں بات کی گئی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ نااہلی کی بات کی جائے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے جو قوانین بنے ہیں ان میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں یہ بات ڈال گئی تھی کہ نااہلی کے لیے آرٹیکل 209 کو بنیاد بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جج اگر اس طرح کا کوئی فیصلہ دیتا ہے تو وہ نہ صرف آئین اور قانون کے خلاف ہے بلکہ یہ عدلیہ کے اعتماد کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

فیصلہ پڑھ کر سر شرم سے جھک گیا، شہزاد اکبر

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ 'خصوصی عدالت کا فیصلہ پڑھ کر سر شرم سے جھک گیا، فیصلے میں عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'فیصلے کے پیرا 66 پر شدید تحفظات ہیں، یہ پیرا پوری دنیا میں شرم کا باعث بن رہا ہے، وفاقی حکومت اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جبکہ فیصلے کے خلاف اپیل بھی کرنے جارہے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیں: پیرا 66 لکھنے والے جج کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، اٹارنی جنرل

ان کا کہنا تھا کہ 'کیس کے تمام محرکات کو دیکھنے کی ضرورت ہے، کسی بھی مقدمے میں شفاف ٹرائل آئینی تقاضا ہے، پرویز مشرف کے ٹرائل کو عجلت میں نمٹایا گیا اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، کیا ایسے اقدامات اٹھانے چاہیئں جس سے قومی اداروں میں ٹکراؤ کا احتمال ہو۔'

معاون خصوصی نے کہا کہ 'جسٹس وقار سیٹھ کے ہاتھوں اور بھی بہت سارے بے گناہ لوگوں کی زندگیاں ہیں، فیصلے سے کیس کو خراب کر کے کچھ لوگوں کو فائدہ دیا گیا ہے جبکہ اس طرح کا فیصلہ عدلیہ پر خودکش حملہ اور شرعی قوانین کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو تفصیلی فیصلے سے اور بھی تحفظات ہیں اور اس کے خلاف اپیل بھی کریں گے۔

سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ

خصوصی عدالت نے آج (بروز جمعرات) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں 2 ججز نے سابق صدر کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت دی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

مزید پڑھیں: مشرف نے سنگین غداری کیس سے بچنے کی مستقل کوشش اور ضد کی، تفصیلی فیصلہ

جس کے بعد آج اس کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا ہے اور اس میں ان کے ساتھ جسٹس شاہد کریم نے معاونت کی۔

تاہم جسٹس شاہد کریم نے سزا سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے فیصلے میں شامل پیراگراف 66 سے اختلاف کیا، جس میں مشرف کے سزا سے پہلے وفات پانے کی صورت میں 'ڈی چوک پر گھسیٹ کر لانے اور 3 دن تک لٹکانے' کا ذکر کیا گیا۔