پرویز مشرف کی سزائے موت پر عملدرآمد ہونا چاہیے، سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ

اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2019

ای میل

پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی—فائل فوٹو: اے پی
پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

جس میں 2 ججز نے سابق صدر کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 5 الزامات پر انہیں علیحدہ علیحدہ سزائے موت دینے کا حکم دیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر کو سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

عدالت کے 2 جج نے سزائے موت ایک نے بری کرنے کا حکم جاری کیا—فائل فوٹو: دی ایٹلانٹک
عدالت کے 2 جج نے سزائے موت ایک نے بری کرنے کا حکم جاری کیا—فائل فوٹو: دی ایٹلانٹک

جس کے بعد آج اس کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا ہے جبکہ انہوں نے اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا فیصلہ دیا۔

تاہم جسٹس شاہد کریم نے سزا سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے فیصلے میں شامل پیراگراف 66 سے اختلاف کیا، جس میں مشرف کے سزا سے پہلے وفات پانے کی صورت میں 'ڈی چوک پر گھسیٹ کر لانے اور 3 دن تک لٹکانے' کا ذکر کیا گیا۔

جسٹس شاہد کریم نے پیراگراف 66 پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میں جناب صدر (سربراہ بینچ) سے اختلاف کرتا ہوں کیونکہ اس کی قانون میں کوئی بنیاد نہیں اور ایسا کرنے سے اس عدالت کے لیے منفی تاثر جائے گا، میرے خیال میں یہ کافی ہے کہ مجرم کو سزائے موت دی جائے۔


فیصلے کے اہم نکات

  • تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کی سزائے موت کا فیصلہ دیا۔

  • عدالتی فیصلے میں سنگین غداری کیس میں جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور پرویز مشرف کو بری کردیا۔

  • اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔

  • فیصلے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے مشرف کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کو یقینی بنائیں۔

  • فیصلے میں کہا گیا کہ جمع کرائے گئے دستاویزات سے واضح ہے کہ ملزم نے جرم کیا، ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں۔

  • اس میں کہا گیا کہ ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزائے موت دی جاتی ہے۔

  • جسٹس وقار نے فیصلہ دیا کہ پھانسی سے قبل اگر مشرف فوت ہوجاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک لایا جائے اور وہاں 3 دن تک لٹکایا جائے۔

  • جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار کے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔

  • فیصلے کے مطابق پرویز مشرف کو فرار کرانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

  • فیصلے میں کہا گیا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

  • فیصلے میں پرویز مشرف پر 5 الزامات لگائے گئے، جن کے ثابت ہونے پر ہر الزام پر سزائے موت دینے کا حکم دیا گیا۔

  • عدالت نے کہا کہ سزائے موت کا فیصلہ ملزم کو مفرور قرار دینے کے بعد ان کی غیر حاضری میں سنایا۔

  • فیصلے کے مطابق پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا۔

  • عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت 20نومبر 2013 کو قائم کی گئی اور 31 مارچ 2014 کوعدالت نے مشرف پر فرد جرم عائد کی۔

  • تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت نے 19 جون 2016 کو مشرف کو مفرور قراردیا۔

  • فیصلے میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت کی 6مرتبہ تشکیلِ نو ہوئی اور یہ کیس 2013 میں شروع ہوکر 6 سال بعد ختم ہوا۔

  • تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کو ان کے حق سے بھی زیادہ شفاف ٹرائل کا موقع دیا گیا۔

  • عدالتی فیصلے کے مطابق استغاثہ کے شواہد کی روشنی میں ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے، عدالت ملزم کو پھانسی کی سزا سناتی ہے۔

  • فیصلے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ نے نظریہ ضرورت متعارف نہ کرایا ہوتا تو قوم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

  • تفصیلی فیصلے کے مطابق نظریہ ضرورت کے باعث باوردی افسر نے سنگین غداری کے جرم کا ارتکاب کیا۔

  • اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ ہم نتیجے پرپہنچے ہیں کہ جس جرم کا ارتکاب ہوا وہ آرٹیکل 6کےتحت سنگین غداری کےجرم میں آتا ہے۔

  • عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 6 آئین کا وہ محافظ ہے جو ریاست اور شہریوں کے درمیان عمرانی معاہدہ چیلنج کرنے والوں کا مقابلہ کرتا ہے۔

پرویز مشرف پر عائد 5 الزامات

  • پہلا یہ کہ 3نومبر 2007 کو راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثت سے آپ نے غیرآئینی اور غیرقانونی طریقے سے ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کا حکم نامہ 2007 جاری کیا، جس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 کو غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر معطل کردیا گیا اور اس کے نتیجے میں آپ آئین پر اثرانداز ہوئے اور نتیجتاً سنگین غداری کے جرم کے مرتکب ہوئے جو سنگین غداری(جرم) ایکٹ 1973 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔

  • دوسرا یہ کہ 3نومبر 2007 کو راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثت سے آپ نے 2007 کے عبوری آئینی حکم نمبر ایک کا غیرآئینی اور غیرقانونی حکم جاری کیا جس نے غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر صدر کو وقتاً فوقتاً اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 میں ترمیم کا اختیار دے دیا اور آئین کے آرٹیکل 9، 10، 15، 16، 17، 19 اور 25 کے بنیادی حقوق کو معطل کر کے آپ آئین پر اثرانداز ہوئے، نتیجتاً سنگین غداری کے جرم کے مرتکب ہوئے جو سنگین غداری(جرم) ایکٹ 1973 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔

پرویز مشرف صدر پاکستان بھی رہے ہیں—فائل فوٹو:پی آئی ڈی
پرویز مشرف صدر پاکستان بھی رہے ہیں—فائل فوٹو:پی آئی ڈی

  • تیسرا یہ کہ 3نومبر 2007 کو راولپنڈی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی حیثیت سے آپ نے ججوں سے حلف کا آرڈر 2007 جاری کیا جسے شیڈول میں غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر متعارف کرایا گیا جس کے تحت ججوں کو ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کی پابندی کرنی ہے کہ وہ اسی کے مطابق اقدامات کرتے ہوئے کام سر انجام دیں گے اور اس کے نتیجے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے متعدد ججوں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا لہٰذا آپ آئین پر اثرانداز ہوئے اور نتیجتاً سنگین غداری کے جرم کے مرتکب ہوئے جو سنگین غداری(جرم) ایکٹ 1973 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔

  • چوتھی بات یہ کہ 20نومبر 2007 کو راولپنڈی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی حیثت سے آپ نے آئینی ترمیم آرڈر 2007 کا غیرآئینی اور غیرقانونی آرڈر5 جاری کیا جس کے نتیجے میں آرٹیکل 175، 186(اے)، 198، 218، 270(بی) اور 270(سی) میں غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر ترمیم اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 میں آرٹیکل 270اے اے کا اضافہ کر کے آپ آئین پر اثرانداز ہوئے اور نتیجتاً سنگین غداری کے جرم کے مرتکب ہوئے جو سنگین غداری(جرم) ایکٹ 1973 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔

  • پانچویں بات یہ کہ 14دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی حیثت سے آپ نے آئینی ترمیمی آرڈر 2007 کا آرڈر6 (دوسری ترمیم) کا غیرآئینی اور غیر قانونی حکم نامہ جاری کر کے غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 میں ترمیم کی اور آپ آئین پر اثرانداز ہوئے اور نتیجتاً سنگین غداری کے جرم کے مرتکب ہوئے جو سنگین غداری(جرم) ایکٹ 1973 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ جو ثبوت پیش کیے گئے اس میں یہ ثابت ہوا کہ ملزم نے جرم کیا۔

عدالت نے اکثریتی فیصلے میں مشرف کو سزائے موت سنائی—فائل فوٹو: شٹراسٹاک
عدالت نے اکثریتی فیصلے میں مشرف کو سزائے موت سنائی—فائل فوٹو: شٹراسٹاک

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سنگین غداری کا ٹرائل ان لوگوں کے لیے آئین کی ضرورت ہے جو کسی بھی وجہ سے آئین کو کمزور کریں یا اسے کمزور کرنے کی کوشش کریں، لہٰذا یہ عدالت استغاثہ کی جانب سے ملزم کے خلاف پیش کیے گئے ناقابل تردید، ناقابل تلافی اور ناقابل اعتراض ثبوتوں کو دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ واقعی ملزم نے جرم کیا ہے اور وہ مثالی سزا کا مستحق ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے کا سامنا کرنے والے ملزم کے عمل اور برتاؤ سے یہ واضح ہے کہ اس مقدمے کی شروعات سے ہی ملزم نے اس میں تاخیر، پیچھے ہٹنے اور حقیقت میں اس سے بچنے کے لیے مستقل کوشش اور ضد کی، ساتھ ہی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ان کی درخواست رہی کہ وہ صحت کی خرابی یا سیکیورٹی کے خطرات کی وجہ سے مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے عدالت تک نہیں پہنچ سکتے۔

تفصیلی فیصلے کےمطابق اگر ایک لمحے کے لیے یہ تصور کیا جائے کہ کور کمانڈرز سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈ اس میں ملوث نہیں تو پھر کیوں وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کا دفاع اور تحفظ کرنے میں ناکام رہے اور ایک وردی میں موجود شخص کو نہ روکا، اس وقت کی کورکمانڈرز کمیٹی کے ساتھ تمام دیگر وردی والے افسران جنہوں نے انہیں ہر وقت تحفظ فراہم کیا وہ ملزم کے عمل اور اقدام میں مکمل اور برابر کے شریک ہیں۔

عدالتی فیصلے کا پیرا نمبر 66—اسکرین شاٹ
عدالتی فیصلے کا پیرا نمبر 66—اسکرین شاٹ

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ 'ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ مفرور/مجرم کو پکڑنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں اور اسے یقینی بنائیں کہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اگر وہ وفات پاجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے'۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ضروری منطقی نتیجہ کے طور پر ہم ملزم کو الزامات کے مطابق مجرم قرار دیتے ہیں، ساتھ ہی فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم کو ہر الزام پرتب تک گردن سے لٹکایا جائے جب تک وہ مر نہیں جاتے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ ایک آمر صرف اس وقت تک اقتدار میں رہ سکتا ہے جب تک وہ اپنے عوام کی مرضی کو تہہ وبالا نہیں کرے، آئین کے ذریعے قائم کردہ حکومت اور ریاست کے دیگر اداروں کے فرائض پر قبضہ کرنا آئین کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش (جیسا کہ انہیں کام کرنے سے روکنا/ یا ان سے اضافی آئینی حلف لینا) آئین کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق یقیناً سزائے موت اور فیصلے کے اس حصے کی کہیں بھی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں لیکن کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے اور ملزم کو مجرم قرار دے کر ان کی غیرموجودگی میں سزائے موت سنائی گئی ہے، لہٰذا سزا پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ انصاف کے حق میں بہتر ہوگا کہ مفرور ملزم کو فرار کرانے میں سہولیات فراہم کرنے میں (اگر کوئی)ملوث ہے تو انہیں بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے اور (اگر کوئی) مجرمانہ اقدامات ہیں تو ان کی بھی تحقیقات کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اختلافی نوٹ

فیصلے میں جسٹس نذر اکبر نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے لکھا کہ انصاف و قانون کے بارے میں عاجزانہ قانونی فہم کے ساتھ میں نے اپنے بھائی وقار احمد سیٹھ کی جانب سے لکھے گئے مجوزہ فیصلے کا انتہائی احترام کے ساتھ جائزہ لیا اور میں اپنے قابل بھائیوں کی اکثر آرا سے اختلاف کرتا ہوں۔

جسٹس نذر اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ 3 نومبر 2007 کو پرویز مشرف کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام کو مذکورہ تاریخ پر آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ وکیل یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ جب یہ جرم کیا گیا، اس وقت آئین کی منسوخی یا کسی ادارے کے اختیارات پر اثرانداز ہونے کے سوا کسی بھی فرد کے کسی بھی عمل پر آرٹیکل 6 لاگو نہیں ہوتا تھا۔

اس وقت آئین کی منسوخی یا کسی ادارے کے اختیارات پر اثرانداز ہونے کو ہی سنگین غداری تصور کیا جاتا تھا۔

ساتھ ہی اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ 20 اپریل 2010 تک آئین کے آرٹیکل 6 کی تعریف میں آئین کی معطلی اور عبوری معطلی کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے تھے اور انہیں سنگین غداری کے مبینہ جرم کے ارتکاب کے ڈھائی سال بعد 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں متعارف کرایا گیا۔

اختلافی نوٹ میں جسٹس نذر اکبر نے لکھا کہ سال 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سنگین غداری کی تعریف اپڈیٹ کی گئی تھی۔

انہوں نے لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 6 میں جرم کے طور پر سنگین غداری کو بتایا گیا ہے لہٰذا اس کے مفہوم کو سمجھے بغیر یہ عدالت ایک شفاف فیصلہ جاری نہیں کر سکتی۔

جسٹس نذر اکبر کے مطابق اس وجہ سے استغاثہ کے دونوں قابل وکلا اور میرے دونوں قابل بھائیوں نے سنگین غداری کے الفاظ کی تعریف کے لیے آکسفورڈ ڈکشنری کے 10ویں ایڈیشن میں دیے گئے 'سنگین غداری' کے معنی پر انحصار کیا ہے۔

پرویز مشرف نے عدالتی فیصلے پر کیا کہا؟

علاوہ ازیں 17 دسمبر کو دیے گئے مختصر عدالتی فیصلے پر سابق صدر کا ردعمل سامنے آیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خلاف کچھ لوگوں کی ذاتی عداوت کی وجہ سے کیس بنایا اور سنا گیا جس میں فرد واحد کو ٹارگٹ کیا گیا۔

عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے پرویز مشرف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ 'خصوصی عدالت نے میرے خلاف آرٹیکل 6 کا جو فیصلہ سنایا وہ میں نے ٹی وی پر پہلی بار سنا، یہ ایسا فیصلہ ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی کہ مدعا علیہ اور نہ اس کے وکیل کو اپنے دفاع میں بات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔'

انہوں نے کہا کہ 'میں نے یہ تک کہا تھا کہ اگر کوئی خصوصی کمیشن تشکیل دیا جائے جو یہاں آئے تو میں اسے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے تیار ہوں، اس کو بھی نظر انداز کیا گیا۔'

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ 'میں اس فیصلے کو مشکوک اس لیے کہتا ہوں کہ اس کیس کی سماعت میں شروع سے آخر تک قانون کی بالادستی کا خیال نہیں رکھا گیا، بلکہ یہ بھی کہوں گا کہ آئین کے مطابق اس کیس کو سننا ضروری نہیں ہے، اس کیس کو میرے خلاف صرف کچھ لوگوں کی ذاتی عداوت کی وجہ سے بنایا اور سنا گیا اور اس میں فرد واحد کو ٹارگٹ کیا گیا اور ان لوگوں نے ہدف بنایا جو اونچے عہدوں پر فائز ہیں اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'قانون کا مایوس کن استعمال، فرد واحد کو نشانہ بنانا اور واقعات کا اپنی منشا کے مطابق چناؤ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔'

انہوں نے کہا تھا کہ 'میں پاکستان کا عدلیہ کا بہت احترام کرتا ہوں، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جب کہا کہ وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور ہر شخص قانون کے لیے برابر ہوگا اس پر میں بھی یقین رکھتا ہوں، لیکن چیف جسٹس نے اپنے ارادے اور عزائم خود یہ کہہ کر ظاہر کر دیے کہ میں نے اس مقدمے کے چند فیصلوں کو یقینی بنایا۔'

ساتھ ہی سابق صدر نے کہا تھا کہ 'کیسے وہ جج جنہوں نے میرے دور میں اپنے لیے فوائد اٹھائے ہوں میرے خلاف فیصلہ دے سکتے ہیں، میں پاکستانی عوام اور مسلح افواج کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ملک کے لیے میری خدمات کو یاد رکھا، یہ میرے لیے سب سے بڑا تمغہ ہے اور میں اسے قبر میں ساتھ لے کر جاؤں گا۔'

انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے اگلے لائحہ عمل کا اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا، مجھے پاکستانی عدلیہ پر اعتماد ہے کہ وہ مجھے انصاف دے گی اور قانون کی بالادستی کو مدنظر رکھے گی

پاک فوج کا عدالتی فیصلے پر ردعمل

ادھر آج جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے آج سامنے آنے والے تفصیلی فیصلے نے ہمارے خدشات کو درست ثابت کردیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دی—فائل فوٹو: بشکریہ آئی ایس پی آر
میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دی—فائل فوٹو: بشکریہ آئی ایس پی آر

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ہمیں خطرات کے بارے میں معلوم ہے تو ہمارے پاس اس کا ردعمل بھی موجود ہے، اگر ہم بیرونی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں، اندرونی دہشت گردی کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو جو ملک دشمن قوتوں کا موجودہ ڈیزائن چل رہا ہے، اسے سمجھ کر اس کا بھی مقابلہ کریں گے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ 17 دسمبر کے مختصر فیصلے پر جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا وہ آج تفصیلی فیصلے میں صحیح ثابت ہوئے ہیں، آج کا فیصلہ کسی بھی تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے اور چند لوگ آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہم نے اس ملک کو استحکام دینے کے لیے بہت لمبا سفر کیا ہے اور عوام، اداروں اور افواج پاکستان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، ہم اس استحکام کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افواج پاکستان صرف ایک ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک خاندان ہے ہم عوام کی افواج ہیں اور جذبہ ایمانی کے بعد عوام کی حمایت سے مضبوط ہیں، ہم ملک کا دفاع بھی جانتے ہیں اور ادارے کی عزت اور وقار کا دفاع بھی بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ دیر قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وزیراعظم پاکستان عمران خان سے تفصیلی بات چیت ہوئی، پرویز مشرف کے خلاف کیس کے فیصلے کے بعد افواج پاکستان کے کیا جذبات ہیں اور اس معاملے کو آگے لے کر کیسے چلنا ہے اس پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

قبل ازیں 17 دسمبر کے مختصر عدالتی فیصلے پر پاک فوج کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ عدالتی فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور صدر مملکت رہے اور 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی۔'

مختصر فیصلے پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا تھا کہ 'جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی غدار نہیں ہو سکتے۔'

سنگین غداری کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 3 نومبر، 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے 1973 کے آئین کو معطل کردیا تھا جس کی وجہ سے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدالت کے 61 ججز فارغ ہوگئے تھے۔

اس دوران ملک کے تمام نجی چینلز کو بند کردیا گیا تھا اور صرف سرکاری نشریاتی ادارے 'پی ٹی وی' پر ایمرجنسی کے احکامات نشر کیے گئے جس میں 'انتہا پسندوں کی سرگرمیوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کو' ایمرجنسی کی وجہ بتایا گیا تھا۔

بعد ازاں 2013 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سنگین غداری کیس کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے خصوصی عدالت نے 13 دسمبر 2013 کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو اسی سال 24 دسمبر کو طلب کیا تھا۔

پرویز مشرف کے خلاف 6 سال تک کیس چلا—فائل فوٹو: شٹراسٹاک
پرویز مشرف کے خلاف 6 سال تک کیس چلا—فائل فوٹو: شٹراسٹاک

اس کیس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نومبر 2013 میں ایڈووکیٹ اکرم شیخ کو استغاثہ ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

ابتدائی طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کی قانونی ٹیم نے ایڈووکیٹ اکرم شیخ کی بطور چیف پراسیکیوٹر تعیناتی چیلنج کی گئی تھی لیکن غداری کیس کے لیے مختص خصوصی عدالت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس چیلنج کو مسترد کردیا تھا۔

فروری 2014 میں جنرل (ر) پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس کے بعد عدالت نے 18 فروری 2014 کو ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

مارچ 2014 میں خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی سال ستمبر میں پروسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے۔

عدالت نے 8 مارچ 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے 19 جولائی 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو مفرور قرار دے کر ان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔

تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے حکم کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 2018 کے آغاز میں خصوصی عدالت نے غداری کیس کی سماعتیں دوبارہ شروع کی تھی اور حکم دیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جائے، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے مئی میں عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا تھا۔

بعد ازاں 11 جون 2018 کو سپریم کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا قومی شناختی کارڈ (این آئی سی) اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی سال 20 جون کو مشرف نے کہا کہ وہ پاکستان واپس آنے کے لیے تیار تھے لیکن سپریم کورٹ کے حکام کو انہیں گرفتار کرنے کے احکامات کے باعث انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا ہے، جس کے بعد 30 جولائی 2018 کو سنگین غداری کیس میں پراسیکیوشن سربراہ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

جس کے بعد اگست میں پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کی وجہ سے رکنے والے ٹرائل کو 20 اگست سے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم ان کو خطرات لاحق ہونے کا حوالہ دے کر مشرف نے غداری کیس میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے صدارتی سیکیورٹی دینے کا مطالبہ کیا۔

2 اکتوبر 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود کو 'بہادر کمانڈو' کہنے والے مشرف کے واپس نہ آنے پر ان کے وکیل کی سرزنش کی تھی، جس کے بعد نومبر 2018 میں خصوصی عدالت نے مشرف کو حکم دیا تھا کہ وہ غداری کیس میں 2 مئی 2019 کو خصوصی عدالت کے روبرو پیش ہو ورنہ وہ اپنے دفاع کا حق کھو دیں گے۔

یکم اپریل 2019 کو چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے خصوصی عدالت کے لیے حکم جاری کیا تھا کہ پرویز مشرف اگر مقررہ تاریخ تک اپنا بیان ریکارڈ نہیں کراتے تو وہ غداری کیس کو ان کے بیان کے بغیر کی آگے بڑھائے۔

جون 2019 میں سپریم کورٹ نے نادرا کو پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا جس کے بعد جولائی 2019 میں غداری کیس میں پروسیکیوشن سربراہ نے استعفیٰ دیا۔

پرویز مشرف ہسپتال میں زیر علاج ہیں—فائل فوٹو: اے پی ایم ایل
پرویز مشرف ہسپتال میں زیر علاج ہیں—فائل فوٹو: اے پی ایم ایل

رواں برس اکتوبر میں خصوصی عدالت نے 24 اکتوبر سے غداری کیس کی سماعت روزانہ کرنے کا فیصلہ کیا، 19 نومبر کو سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے اپنی سماعت مکمل کرلی اور کہا کہ فیصلہ 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔

تاہم اس فیصلے کے سنانے سے قبل ہی پرویز مشرف نے اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصلہ روکنے کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔

وزارت داخلہ اور پرویز مشرف کی درخواست پر 27 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی عدالت کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا۔

بعدازاں 28 نومبر کو سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو 5 دسمبر تک اپنا بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی روزانہ بنیادوں پر سماعت کا فیصلہ کیا۔

5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں استغاثہ کو 17 دسمبر تک کی مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس تاریخ کو دلائل سن کر فیصلہ سنا دیں گے اور پھر 17 دسمبر کو کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔