عابد نے بتادیا ’میرٹ کی قدر کریں گے تو نتائج اچھے ہی نکلیں گے’

23 دسمبر 2019

ای میل

عابد علی کی بات بھلا کیوں نہ کی جائے؟ وہ ایسا ابلتا ہوا لاوا ہے، جسے گزشتہ کئی سالوں سے دبانے کی مستقل کوشش کی جارہی تھی، مگر جب تمام کوششیں ناکام ہوگئیں اور اس کو ون ڈے میں موقع دیا جاتا ہے تو وہ پہلے ہی میچ میں سنچری بنا ڈالتا ہے۔ ٹیسٹ میں موقع دیا جاتا ہے تو پہلے میچ میں سنچری کے بعد دوسرے میں ایک اور بڑی سنچری کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

عابد علی کو ٹیسٹ میں اپنی پہلی اننگ میں کسی خاص دباؤ کا سامنا نہیں تھا۔ میچ ڈرا کی طرف گامزن تھا، پچ بھی بیٹنگ کے لیے اچھی تھی۔ پہلے میچ کا دباؤ ضرور تھا لیکن عابد کو کھیلتے دیکھ کر ایک پل کے لیے بھی ایسا نہیں لگا کہ عابد کو اس کی کوئی پرواہ ہے۔ عابد ایسے کھیل رہا تھا جیسے یہ اس کے لیے قائدِاعظم ٹرافی کا ایک اور میچ ہو۔

لیکن ہاں، دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں جب عابد علی بیٹنگ کے لیے آتا ہے تو پاکستان پہلی اننگ میں 80 رنز کے خسارے میں تھا، اور اصل امتحان اس کھلاڑی کا اب تھا، مگر جوان نے ایک بار پھر کسی دباؤ کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ اس نے اس مشکل موقع پر صرف ایک بڑی سنچری ہی نہیں بنائی، بلکہ ایک خاص اعتماد کے ساتھ بنائی۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر اسے اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہی اتنا اعتماد، ایسا بھروسہ اور ایسا سکون آیا کہاں سے؟

دراصل عابد علی کے اس اعتماد کے پیچھے فرسٹ کلاس میں بتائے وہ سیکڑوں دنوں کی محنت ہے، اس سکون کے پیچھے قائدِاعظم ٹرافی کے کئی سیزنز میں بنائی گئی وہ سنچریاں تھیں جنہیں دیکھنے کے لیے شاید ہی کبھی کوئی تماشائی آیا ہو۔ عابد علی کی رنز بنانے کی اس پیاس سے اور اس کامیابی سے کیا نتیجہ نکالا جاسکتا ہے؟

یہی کہ عابد علی نے بہت واضح انداز میں بتادیا کہ ’میرٹ کی قدر کریں گے تو نتائج اچھے ہی نکلیں گے’۔ عابد نے یہ بھی راز فاش کردیا کہ اگر سلیکٹرز اور ٹیم منیجمنٹ ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی دکھانے والوں کو موقع دیں گے تو وہ بہترین نتائج دیں گے جو نہ صرف ان کھلاڑیوں بلکہ ٹیم، ٹیم منیجمنٹ اور سلیکٹرز کے لیے بھی بہت زبردست ثابت ہوگا۔

عابد علی جسے آج موقع مل رہا ہے اسے شاید کچھ سال پہلے ہی موقع مل جانا چائیے تھا لیکن کبھی اظہر علی کو اوپنر بنا دیا گیا تو کبھی حفیظ کو تقریباً ریٹائرمنٹ سے پہلے واپس بلا لیا گیا، کبھی امام کو اور کبھی فخر کو ٹیسٹ اوپنر بنا دیا گیا لیکن عابد علی کو موقع نہ مل سکا۔

عابد علی کو موقع مل گیا اور اس نے بہت عمدہ کارکردگی بھی دکھا دی، لیکن فواد عالم جو پچھلے 10 سال سے ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے، جو لمبے اسکور بنا رہا ہے، ہر سال سنچریوں کے ڈھیر لگا رہا ہے اور اس سب نتیجہ کیا ہے کہ ’ہاں فواد اچھا ہے پر یہ، یہ اور یہ بھی اچھے ہیں‘۔

ٹھیک ہے وہ بھی اچھے ہوں گے لیکن جو ان سب سے بہتر ہے اسے موقع کیوں نہ دیا جائے؟ جب بازار میں کوئی چیز لینے جاتے ہیں تو اپنے بجٹ کے مطابق سب سے بہتر چیز پسند کی جاتی ہے نا؟ تو پھر یہاں کیوں نہیں؟ فواد بجٹ سے باہر تو نہیں ہوسکتا لیکن پلان سے باہر ضرور ہے۔ نہ جانے ہماری ٹیسٹ ٹیم کے کون سے ایسے منصوبے ہیں جس میں فواد پچھلے 10 سال میں ایک بار بھی فٹ نہ بیٹھ سکا۔

کبھی نواز یا شاداب کو بطور آل راؤنڈر کھلا دیا جاتا ہے، کبھی رضوان کو بطورِ بیٹسمین تو کبھی عثمان صلاح الدین کو کھلا دیا جاتا ہے۔ مصباح الحق اور یونس خان کے جانے کے بعد فواد کو موقع ملنے کا امکان ہوتا ہے تو حارث سہیل کی جگہ بن جاتی ہے۔ نواز ہو یا شاداب، رضوان، عثمان اور حارث سب کے ٹیلنٹڈ ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن ان کا فواد سے کیا موازنہ بنتا ہے؟ فرق انیس، بیس کا بھی ہو تو مان لیا جائے لیکن جب فرق ہی پندرہ، بیس کا ہو تو اسے صرف زیادتی ہی کہا جاسکتا ہے۔ فواد سے، ٹیم سے اور سب سے بڑھ کر اپنے کام سے۔

بات عابد علی اور فواد عالم تک ہی ختم نہیں ہوجاتی، ایک نام تابش خان کا بھی ہے، ایک کاشف بھٹی کا بھی اور پھر صدف حسین بھی تو ہے۔ پاکستان میں فاسٹ باؤلنگ کا بہت ٹیلنٹ ہے لیکن ہمارے یہاں فاسٹ باؤلر کو موقع شاید صرف نوجوانی میں دیا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے اگر ایک نوجوان ٹیلنٹڈ ہے تو اسے موقع دینا بنتا ہے اور ضرور دینا چائیے، لیکن ان کا کیا قصور ہے جو سالوں سے فرسٹ کلاس میں سیکڑوں میل دوڑ چکے، ہزاروں گیندیں پھینک چکے اور بے شمار بیٹسمین کو پویلین کی راہ دکھا چکے؟

تابش خان فرسٹ کلاس میں 500 سے زائد اور صدف حسین 400 سے زائد وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ تابش کی باؤلنگ اوسط 23 اور صدف کی 19 کی ہے، اس کے باوجود ان دونوں کو کبھی ٹیسٹ ٹیم میں موقع ملنا تو دُور کی بات، شاید کبھی ان کا نام بھی زیرِ غور نہیں آیا۔

سعید اجمل کے بعد پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں یاسر شاہ تسلسل کے ساتھ کھیل رہے ہیں، اور انہوں نے یقینی طور پر ٹیسٹ میچوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بہت سے میچز جتوائے۔ لیکن یاسر شاہ ان فٹ بھی ہوئے، پاکستان نے ٹیم میں 2 اسپنرز بھی کھلائے لیکن 300 سے زائد وکٹیں لینے والے کاشف بھٹی کو ٹیم میں جگہ نہ مل سکی۔

ٹیم میں محمد نواز اور شاداب خان کو بطور باؤلنگ آل راؤنڈر کھلا دیا گیا لیکن فرسٹ کلاس میں بہترین بیٹنگ اور باؤلنگ کارکردگی کے حامل کاشف بھٹی کا خیال نہ آیا۔ ایک بار پھر کہوں گا کہ نواز، شاداب اور بلال آصف بہت اچھے ہیں پر کاشف بھٹی ان سے کہیں بہتر آپشن تھے اور ہیں۔

آسٹریلیا کے خلاف دونوں ٹیسٹ میں یاسر شاہ کی ناکامی کے باوجود کاشف کو موقع نہ مل سکا۔ سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 4 فاسٹ باؤلرز کھلا دیے گئے اور دوسرے ٹیسٹ میں یاسر شاہ ایک بار پھر سے واپس آگئے اور کاشف ایک بار پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ اب کون جانے کہ اگلی سیریز میں ایک اور موقع ملتا ہے یا کسی اور کو کھلا دیا جاتا ہے۔

کرکٹ ایک پروفیشنل کھیل ہے اور ٹیم سلیکشن میں سابقہ کارکردگی دیکھی جاتی ہے۔ پچھلی سیریز سے کچھ کھلاڑیوں کو باہر نکالنا ہو تو ان کی جگہ ڈومیسٹک میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو موقع دیا جانا چائیے۔ جس فارمیٹ کے لیے ٹیم کا انتخاب کیا جا رہا ہو، کھلاڑی کی اسی فارمیٹ میں کارکردگی کو مدنظر رکھا جانا چائیے۔

لیکن پاکستان میں اکثر ایک فارمیٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے کو دوسرے فارمیٹ میں کھلا دیا جاتا ہے اور ایک فارمیٹ میں ناکامی کی صورت میں دوسرے فارمیٹ میں بہترین کارکردگی کو بھی بھلا دیا جاتا ہے۔

حارث سہیل اور امام الحق کو ٹی20 اور افتخار کو ٹیسٹ میں جگہ دیے جانے کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ عابد علی کو موقع ملا اور وہ کامیاب ہوگئے۔ ان کی سلیکشن اور کامیابی واضح انداز میں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی دکھانے والوں کو اگر مناسب مواقع دیے جائیں تو نہ صرف یہ ان کے لیے بلکہ ٹیم اور کھلانے والے، سب کے لیے نیک شگون ثابت ہوگا۔