89 ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی کردی گئی

اپ ڈیٹ 08 جنوری 2020

ای میل

فیلڈ ٹیمز کو ادویات کی قیمتیں چیک کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
فیلڈ ٹیمز کو ادویات کی قیمتیں چیک کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزارت صحت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے 6 ماہ بعد انتہائی اہم 89 ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی کردی گئی۔

وزارت صحت کی جانب سے گزشتہ روز اعلان کیا گیا کہ قیمتوں میں کمی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے 24 دسمبر کو میڈیا کو بتایا تھا کہ وفاقی کابینہ نے پرائسسنگ پالیسی 2018 کے تحت 89 ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذکورہ پالیسی کے تحت انوویٹر ڈرگز کو مارکیٹ میں متعارف کروانے کے 3 سال ان کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی ہونا تھی تاہم تمام پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں 15 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ادویہ سازوں کا 395 انتہائی اہم ادویات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

واضح رہے کہ 26 دسمبر کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے الزام عائد کیا تھا کہ وزارت صحت کابینہ میں 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کر کے قوم کو گمراہ کررہی ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ یہ 6 ماہ پرانا فیصلہ ہے جسے کابینہ اجلاس کے بعد دوبارہ سنادیا گیا۔

ایسوسی ایشن نے وزارت کی جانب سے 19 جون کو جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی دکھایا جس میں ادویات ساز کمپنیوں کو 89 ادویات کی قیمتیں کم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جس کے بعد منگل کے روز وزارت صحت نے دعویٰ کیا کہ چونکہ نوٹیفکیشن گزٹ آف پاکستان میں شائع ہوچکا ہے اس لیے بالآخر ادویات کی قیمت کم کردی گئی۔

مزید پڑھیں: 'دواساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کےخلاف حکم امتناع حاصل کرلیا'

اس ضمن میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عاصم رؤف نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جون میں قیمتوں میں کمی کے حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی کیوں کہ تمام ادویات ساز کمپنیوں اور اسٹیک ہولڈرز کو پیشگی مطلع کرنا پڑتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم قیمتوں میں کمی سے قبل حکومت سے اجازت لینا ضروری ہوتی ہے اور ہمیں حکومت کی منظوری 24 دسمبر کو ملی جب یہ گزٹ آف پاکستان میں شائع ہوئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ وزارت نے شہریوں کو گمراہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس قسم کے فیصلوں سے قبل اسی قسم کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پر عمل کیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ادویات بنانے والوں کو پیشگی آگاہ کرنا ہوتا ہے کیوں کہ انہیں دوا کی پیکنگ پر نئی قیمت اور اجرا کا نمبر درج کرنا ہوتا ہے لہٰذا اس پر عملدرآمد کروانے کے لیے یہ ایڈوائزری جاری کی گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاصم رؤف کا کہنا تھا کہ فیلڈ ٹیمز کو ادویات کی قیمتیں چیک کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے جس پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔


یہ خبر 8 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔