اگلے 9 مہینے ’کے الیکٹرک‘ کراچی والوں کی جیب سے کتنے اضافی پیسے لے گی؟

11 جنوری 2020

ای میل

پاکستانی عوام کے لیے معاشی لحاط سے سال 2019ء مایوس کن رہا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی عوام دنیا کے دیگر لوگوں کی طرح سال 2019ء کو تلخ معاشی یادوں کے ساتھ الوداع کہنے اور سال 2020ء کو نیک خواہشات کے ساتھ خوش آمدید کہنے کو تیار تھے، ایسے میں نیپرا کی جانب سے کراچی کے شہریوں کے لیے نئے سال میں خوشی کے بجائے اضافی مالی بوجھ کا اعلامیہ جاری کرکے پریشانی کو بڑھانے کا کام کرے گا۔

نیپرا نے گزشتہ 36 ماہ سے زیرِ التوا ’کے الیکٹرک‘ کی سہ ماہی ٹیرف اور فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کو لاگو کردیا ہے۔

نیپرا کے جاری کردہ ان دونوں حکم ناموں کے مطابق ’کے الیکٹرک‘ کو سہ ماہی چارجز کی مد میں 6 ارب 19 کروڑ روپے کی رقم اور ایف سی اے کی مد میں 16 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کی رقم موصول کرنی ہے۔

سہ ماہی چارجز کے حوالے سے نیپرا نے حکم نامہ تو جاری کیا ہے مگر اس کے ساتھ وصولی کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ اس بارے میں ’کے الیکٹرک‘ کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ رقم حکومت بطورِ سبسڈی اپنے بجٹ میں جذب کرے گی کیونکہ گزشتہ 36 مہینوں میں ملک کی دیگر تمام ڈسکوز (بجلی فراہمی سے متعلق کمپنیاں) کے سہ ماہی ٹیرف کو حکومت نے اپنے بجٹ میں جذب کیا ہے۔

اگر ایف سی اے کی بات کی جائے تو اس مد میں صارفین سے وصول کرنے کے لیے نیپرا نے نوٹیفکیشن کے علاوہ وصولی کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔ جس کے بعد 16 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کی یہ رقم ’کے الیکٹرک‘ اپنے صارفین سے جنوری تا ستمبر 2020ء کے دوران وصول کرے گی۔

یہ سب اچانک کیوں ہوا؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر جب پورے ملک میں ہر مہینے صارفین سے مہینے کے مہینے رقم وصول کرلی جاتی تھی تو پھر ’کے الیکٹرک‘ میں یہ معاملہ کیوں رہا؟ اس کا جواب سادہ سا بھی اور پیچیدہ بھی۔

ہوا کچھ یوں کہ ’کے الیکٹرک‘ نے قوانین کے مطابق نیپرا سے آئندہ 10 سال کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف کے تعین کی درخواست کی۔ ‘کے الیکٹرک‘ نے یہ درخواست 2016ء میں دی تھی، مگر نیپرا کی جانب سے ملٹی ایئر ٹیرف میں اضافے کے بجائے کمی کردی گئی جس کو ’کے الیکٹرک‘ نے چیلنج کیا اور چند ماہ بعد نیپرا نے نظر ثانی شدہ ٹیرف جاری کیا۔

جس پر ’کے الیکٹرک‘ نے حکومت سے رابطہ کیا کہ اگر ملٹی ایئر ٹیرف کو اس قدر کم کردیا گیا تو اس کے ترقیاتی منصوبوں کو زک پہنچے گی، اس لیے نیپرا سے نظرثانی کروائی جائے۔ اس رابطے کے بعد نیپرا نے ملٹی ایئر ٹیرف پر نظرثانی کی اور جولائی 2019ء میں جاکر معاملہ سمیٹا۔

اب چونکہ اس پورے عرصے میں کوئی حتمی ٹیرف نہیں تھا اس لیے ’کے الیکٹرک‘ ایف سی اے اور سہ ماہی ٹیرف کے دیفرینشل کو کلیم نہیں کرسکتی تھی۔ یعنی اس بات کا تعین ہی نہیں ہو پا رہا تھا کہ ان میں کتنا فرق ہوگا اور کس ریٹ کے تحت صارفین سے رقم لی جائے۔ لہٰذا اب جب سارے معاملات واضح ہوگئے تو نیپرا نے 36 ماہ سے رُکے ہوئے چارجز کے حکم نامے جاری کردیے ہیں۔

اہم اور ضروری بات

یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ وہ تمام صارفین جو 50 یونٹس ماہانہ استعمال کرتے ہیں ان پر ایف سی اے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ جو افراد ماہانہ 300 یونٹس تک استعمال کرتے ہیں یا پھر زرعی صارفین قیمتوں کی کمی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے کیونکہ انہیں حکومت کی جانب سے پہلے ہی بھاری سبسڈی دی جاتی ہے۔

ماہانہ بلوں پر کتنا فرق پڑے گا؟

نیپرا نے اپنے حکم نامے کے ساتھ جو وصولی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس میں انتہائی پیچیدہ ادائیگی کا شیڈول دیا گیا ہے۔ لیکن ہاں اس حوالے سے یہ کوشش ضرور کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ وصولی ان ماہ میں کی جائے جب بجلی کا استعمال کم ہوتا ہے۔

نیپرا نے نوٹیفکیشن میں 36 مہینوں کے ایف سی اے کو وصول کرنے کے لیے 9 ماہ کا شیڈول دیا ہے۔ اس عمل کو قارئین کے لیے آسان اور سہل بنانے کی خاطر ماہانہ اوسط 300 اور 500 یونٹس کے بل پر اضافی بوجھ کے تخمینے کا میزانیہ بنایا گیا ہے۔

جنوری 2020ء

نیپرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جنوری 2020ء میں سال 2016ء جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر اور دسمبر کے ایف سی اے کو شامل کیا جانا ہے۔ ان 5 مہینوں میں سے 2 میں ایندھن کے چارجز منفی جبکہ 3 میں مثبت ہیں۔

اب اگر اوسط ماہانہ 300 یونٹ استعمال ہوں تو اضافی 438 روپے اور اوسط ماہانہ 500 یونٹ کے استعمال پر 730 روپے کا اضافی بل ادا کرنا ہوگا۔

فروری 2020ء

فروری کے لیے نیپرا کے دیے گئے شیڈول میں 6 ماہ کے ایف سی اے کو شامل کیا گیا ہے۔ جس میں سال 2017ء کے جنوری، فروری اور مارچ کے ایسے مہینے بھی شامل ہیں جہاں ایندھن کی قیمت کم ہوئی ہے اور صارفین کو رقم واپس ہوگی، مگر اس پر خوش نہ ہوں کیونکہ نیپرا نے فروری 2020ء میں سال 2017ء کے مہینے اگست، اکتوبر اور 2018ء مارچ کو بھی حصہ بنادیا ہے۔

اب اگر فروری 2020ء میں 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کی بات کی جائے تو انہیں 460 روپے اور 500 یونٹ والوں کو ایف سی اے کی مد میں 766 روپے اضافی دینے ہوں گے۔

مارچ 2020ء

اسی طرح مارچ 2020ء میں 7 مہینوں کا ایف سی اے جمع کیا جائے گا، جس میں جولائی، ستمبر، نومبر اور دسمبر 2017ء اور جنوری، اپریل اور جون 2018ء شامل ہیں۔

نیپرا کے شیڈول میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ہر مہینے اوسط 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 495 روپے اور 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 825 روپے زائد ادا کرنا پڑیں گے۔

اپریل 2020ء

نیپرا کے دیے گئے شیڈول کے مطابق اپریل 2020ء میں صارفین کو 2017ء کے اپریل، مئی، جون اور 2018ء کے فروری اور مئی کے ایف سی اے کی ادائیگی کرنا ہوگی۔

تو ان 5 مہینوں میں ماہانہ اوسط 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 335 روپے اور 500 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 559 روپے زیادہ ادا کرنے ہوں گے۔

مئی 2020ء

مئی میں چونکہ گرمی بڑھ جاتی ہے اور بجلی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے نیپرا نے مئی 2020ء میں 3 مہنیوں کے ایندھن کی اضافی قیمت کو شامل کیا ہے۔ ستمبر اور اکتوبر 2018ء کے ساتھ فروری 2019ء کو شامل کیا گیا ہے۔

اس اعتبار سے ماہانہ اوسط 300 یونٹ والے صارفین کو 422 یونٹس اور 500 یونٹ والے صارفین کو 703روپے تک اضافی بل ادا کرنا ہوں گے۔

جون 2020ء

جون 2020ء میں ایندھن ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے مارچ، اپریل اور مئی کی رقم وصول کی جارہی ہے۔ اس طرح ماہانہ اوسط 300 یونٹ استعمال پر 261 روپے اور 500 یونٹ والوں کو 436 روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔

جولائی 2020ء

جولائی 2020ء میں جولائی اور اگست 2018ء کے فیول چارجز وصول کیے جائیں گے۔ جو ماہانہ اوسط 300 یونٹ کے لیے 350 روپے اور 500 یونٹ والوں کے لیے 583 روپے بوجھ کا سبب بنے گا۔

اگست 2020ء

اگست 2020ء کے مہینے میں صارفین کو سال 2018ء کے نومبر، دسمبر اور 2019ء جنوری کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ ماہانہ اوسط 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 360 روپے جبکہ 500 ماہانہ یونٹس استعمال کرنے والوں کو 600 روپے کا اضافی بوجھ اٹھانا ہوگا۔

ستمبر 2020ء

ستمبر 2020ء میں صارفین کو جون 2019ء کے چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ اس طرح جون 2019ء میں 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 442 روپے اور 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفیں کو 737 روپے سے زائد کی اضافی ادائیگی کرنا ہوگی۔

اب ان تمام اعداد و شمار کو یکجا کیا جائے تو جنوری سے ستمبر تک اوسط ماہانہ 300 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو مجموعی طور پر 3 ہزار 564 روپے اور 500 یونٹس اوسط بجلی استعمال کرنے والوں کو 5 ہزار 940 روپے کی اضافی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ اس حوالے سے ’کے الیکٹرک‘ نے بھی ہر صارف کے لیے ماہانہ اضافی بل کا ایک چارٹ اپنی ویب پر لگادیا ہے۔ صارفین وہاں بھی اپنا اضافی بل معلوم کرسکتے ہیں۔

اضافی ایندھن کے چارجز کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اب سوال یہ ہے کہ ’کے الیکٹرک‘ کو یہ اضافی ایندھن کے چارجز کی وصولی کی ضرورت کیوں ہے؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ’کے الیکٹرک‘ مختلف ذرائع سے بجلی حاصل کرتی ہے جیسے تھرمل، پن، شمسی، ایٹمی اور دیگر ذرائع۔

تھرمل بجلی مہنگی ہوتی ہے مگر کراچی میں پن بجلی کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر انحصار تھرمل بجلی پر کرنا پڑتا ہے۔ ’کے الیکٹرک‘ اپنے ذرائع سے کوئلے، فرنس آئل، مقامی قدرتی گیس اور آر ایل این جی سے بجلی تیار کرتی ہے۔ طلب و رسد کے فرق کے پیشِ نظر حکومت نے پاور پلانٹس چلانے کے لیے ایک ترجیحی فہرست مرتب کی ہوئی ہے، جس میں سب سے سستے ایندھن کے پلانٹس کو زیادہ چلایا جائے گا جبکہ مہنگے ایندھن جیسے فرنس آئل کے پاور پلانٹس کو چلانا آخری ترجیح ہوگی۔

اب یہ بجلی جس ذرائع سے بھی پیدا ہوتی ہے اسی حساب سے نیپرا پاور یوٹیلیٹی کو ایندھن کی اضافی قیمت ٹیرف میں جذب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس بڑی رقم کی وصولی پر جب ’کے الیکٹرک‘ کے حکام سے بات کی تو انہوں نے دکھڑا رونا شروع کردیا جس کا مختصر احوال کچھ یوں تھا کہ ’انہیں ٹیرف کی تاخیر سے ایڈجسٹمنٹ میں نقصان ہوا کیونکہ 2016ء سے 2019ء کے دوران روپے کی قدر میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور ملک میں مہنگائی بڑھی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے نظام میں موجود ترسیلی نقصانات، گیس کی ریفرنس قیمت 613 روپے سے بڑھا کر 936 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہونا اور فرنس آئل کی قیمت 27 ہزار سے بڑھا کر 70 ہزار روپے فی ٹن کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاور یوٹیلیٹی کے آپریشن اور مینٹیننس کا خرچہ بھی بڑھ گیا ہے‘۔

کے الیکٹرک کی قابلِ وصول اور واجب الادا رقم

’کے الیکٹرک‘ کا کہنا ہے کہ اس کو حکومتی اداروں سے تقریباً 225 ارب روپے کی رقم وصول کرنی ہے۔ جس میں سے ٹیرف ڈیفرینشل کلیم کی مد میں 159 ارب روپے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے 32 ارب روپے، حکومت سندھ، بلدیہ کراچی اور ڈی ایم سیز سے 19 ارب روپے اور وفاقی حکومت کے مختلف اداروں سے 14 ارب روپے کی رقم شامل ہے۔

اسی طرح ’کے الیکٹرک‘ نے سوئی سدرن گیس کمپنی کو 14 ارب روپے، این ٹی ڈی سی کو 102 ارب روپے اور دیگر مدات میں 7 ارب روپے دینے ہیں۔ یوں ’کے الیکٹرک‘ کے ذمے واجب الادا کُل رقم 123 ارب روپے ہے۔ اگر ’کے الیکٹرک‘ کی قابلِ وصول اور قابلِ ادا رقم کو یکجا کیا جائے تب بھی ’کے الیکٹرک‘ کو 102 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔

ادائیگیوں کا معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچا جہاں پر حکومتِ سندھ نے اس بات کا وعدہ کیا کہ وہ جاری بلوں کی بروقت ادائیگی کرے گی۔ اگرچہ جنوری 2016ء کے بعد سے تو ہر ماہ جنریٹ ہونے والے بلوں کی ادائیگی کردی جاتی ہے مگر سپریم کورٹ میں اقرار اور آمادگی کے باوجود بھی حکومتِ سندھ نے کراچی الیکٹرک کے ساتھ سابقہ واجبات کی ادائیگی کا کوئی شیڈول مرتب نہیں کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کے ایم سی کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کے الیکٹرک کے بل بروقت ادا کرے ۔

جدید طرزِ زندگی میں بجلی کو بنیادی حیثیت حاصل ہوچکی ہے، اگر بجلی کی بروقت اور تسلسل کے ساتھ فراہمی نہ ہو تو صنعت کے علاوہ روزمرہ زندگی گزارنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کا بجلی پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بجلی کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں مہنگائی، بے روزگاری اور عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ میں نیپرا کی جانب سے ’کے الیکٹرک‘ کو اربوں روپے کی وصولی کا ٹاسک کراچی کے شہریوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

اگر یہ وصولی بہت ضروری تھی، تب بھی ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ جتنے ماہ کا بل عوام پر ڈالا گیا ہے، اس کی وصولی کا عرصہ بھی اتنے ماہ تک ہی محیط ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو بھی یوٹیلیٹی کے ساتھ اپنے معاملات کو جلد از جلد طے کرلینا چاہیئے تاکہ واجب الادا رقوم کا حساب کتاب ختم ہوسکے۔