حکومت کو نیا دھچکا، مسلم لیگ (ق) کے رکن بھی کابینہ اجلاس سے غیرحاضر

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

حکومتی ٹیم بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کرے گی—تصویر: پی آئی ڈی
حکومتی ٹیم بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کرے گی—تصویر: پی آئی ڈی

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی کے کابینہ میں شمولیت نہ اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ق) کے وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے بھی اجلاس میں شرکت نہ کر کے کابینہ سے راہیں جدا کرنے کا عندیہ دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار آج (بروز بدھ) مسلم لیگ (ق) کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کریں گے تا کہ حکومت کی اتحادی جماعت کی شکایات دور کی جاسکیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں اپنی جماعت کے رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ناراض اتحادیوں سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات دور کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم اور ہم ایک جماعت نہیں، انہیں اختلاف کا پورا حق ہے

اس کے ساتھ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج (بروز بدھ) حکومتی ٹیم بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کرے گی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’ایم کیو ایم نے کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے لیکن وہ حکومت کی اتحادی رہے گی‘ تاہم مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ کابینہ اجلاس میں شامل کیوں نہیں ہوئے اس حوالے سے معاون خصوصی نے خاموشی اختیار کی۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے انفارمیشن سیکریٹری کامل علی آغا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ کی کابینہ اجلاس سے غیر حاضری کی وجہ بتائی۔

مزید پڑھیں: حکومت، ایم کیو ایم وفود کی 'ملاقات': خالد مقبول وزارت چھوڑنے کے فیصلے پر قائم

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے کچھ حقیقی، قانونی اور آئینی مطالبات ہیں جو وزیراعظم عمران خان نظر انداز کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الٰہی نے 2 ہفتوں قبل وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور انہیں اپنی جماعت کی شکایات سے آگاہ کیا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ ’ہمیں 10 ماہ قبل ایک وفاقی وزارت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن ہم نے اس سے انکار کر کے حکومت سے عوام کے مسائل حل کرنے اور فیصلہ سازی میں مسلم لیگ (ق) کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری ساکھ داؤ پر ہے کیوں کہ جب ہم لوگوں سے ملتے ہیں تو مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی میں اضافے کے حوالے سے ان کی شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: کیا تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کو خطرہ ہے؟

مسلم لیگ (ق) کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باجود ہمارے مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) حکومت سے اپنی راہیں جدا نہیں کرے گی جس کے لیے مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

اس ضمن میں وفاقی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی فنڈز نہ ملنا مسلم لیگ (ق) کی شکایات میں شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مالیت کا حجم 3 کھرب 42 ارب روپے ہے جس میں سے اب تک صرف 70 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔