سینیٹ سے 7 بلز کی منظوری میں اپوزیشن رکاوٹ بن گئی

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما مشاہد اللہ خان نے زینب الرٹ بل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھیجنے پر زور دیا۔ — فائل فوٹو/اے پی پی
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما مشاہد اللہ خان نے زینب الرٹ بل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھیجنے پر زور دیا۔ — فائل فوٹو/اے پی پی

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اپوزیشن سینیٹرز 7 بلز کی فوری منظوری کی راہ میں رکاوٹ بن گئے جبکہ وزیر قانون فروغ نسیم نے اپوزیشن پر حومت سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت قومی اسمبلی سے پہلے سے منظور شدہ زینب الرٹ بل، آئی سی ٹی حقوق برائے معذور افراد بل، انتظامی لیٹر اینڈ صداقت کے سرٹیفکیٹس کا بل، قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی بل، خواتین کے جائیداد کی ملکیت نافذ کرنے کے بل، عدالتی لباس کے حوالے سے بل اور سول پروسیجر ترمیمی بل کو فوری طور پر منظوری کے لیے بحث کا حصہ بنانا چاہتی تھی لیکن اپوزیشن نے اصرار کیا کہ بلز کو پہلے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھیجا جانا چاہیے۔

سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے بلز کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیا ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں گاڑیوں کی صنعت شدید تنقید کی زد میں

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے زینب الرٹ بل اور آئی سی ٹی حقوق برائے معذور افراد بل کو پیش کیا تھا جبکہ وزیر قانون نے دیگر 5 بل پیش کیے تھے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما مشاہد اللہ خان نے زینب الرٹ بل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھیجنے پر زور دیا تو وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے اعتراض کیا کہ بل پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر راجا ظفر الحق کا کہنا تھا کہ ایوان بالا کی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

جب مشاہداللہ خان نے اپنا مؤقف تبدیل کرنے سے انکار کیا تو وزیر قانون نے ان سے کہا کہ ' آپ نے جو کہا ہے مستقبل میں اسے یاد رکھیے گا'۔

سینیٹ میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل کو سینیٹ میں منظور کر لیا گیا جہاں مسلم لیگ (ن) کے جاوید عباسی اپنی جانب سے پیش کردہ ترامیم سے حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد دستبردار ہو گئے تھے کہ وہ بعد میں ان ترامیم کو پیش کر سکتے ہیں۔

جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ بل پر ترمیم کو متعلقہ قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف 3 دن کے نوٹس کی ضرورت ہوتی ہے جو انہوں نے دے دی تھی تاہم وہ اپنی ترمیم سے دستبردار ہوگئے۔

جماعت اسلامی کے مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے 9 ترامیم پیش کی تھی جنہیں نہ ہی کمیٹی نے منظور کیا اور اور نہ ہی ایوان نے۔

راجا ظفر الحق کا کہنا تھا کہ سود کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ 'ریاست مدینہ' کے نظریے کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں بھی آرمی، نیوی، ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز کثرت رائے سے منظور

سینیٹ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر انسانی حقوق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'آج بدقسمتی سے سینیٹ میں اپوزیشن نے ہمارے زینب الرٹ بل اور معذوروں کے حوالے سے بل کو منظور کرنے کے بجائے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق بھیجنے کا فیصلہ کیا، سن کر مایوسی ہوئی'۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ 'مجھے سمجھ نہیں آئی کہ بل کا قائمہ کمیٹی جانا آپ کے لیے مایوسی کا سبب کیوں بنا، جب بل ایک ایوان سے منظور ہوتا ہے تو اسے دوسرے ایوان کی قائمہ کمیٹی سے گزرنا پڑتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ دونوں ایوان کی کارروائی کا طریقہ کار ہے، اسے ختم کیوں کیا جائے'۔