خیبرپختونخوا میں پولیو سے ایک اور بچہ متاثر، مجموعی تعداد 136 ہوگئی

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

قومی پولیو پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق 2019 میں 136 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے —فائل فوٹو: اے پی
قومی پولیو پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق 2019 میں 136 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے —فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایک اور پولیو کیس سامنے آنے کے بعد سال 2019 کے پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 136 تک جا پہنچی۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کے کووآرڈنیٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ ’نیا کیس ضلع لکی مروت کی یونین کونسل تجازئی میں رپورٹ ہوا جہاں 2 سال ایک ماہ کی عمر کا بچہ اس بیماری کا شکار ہوا اور اس کا پاؤں مفلوج ہوگیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کو معمول کے مدافعتی مہم کے دوران پولیو ویکسین کی ایک خوراک بھی نہیں پلائی گئی تھی۔

رانا صفدر کا مزید کہنا تھا کہ ’حالانکہ سال 2020 شروع ہوچکا ہے لیکن چونکہ بچے کے نمونے گزشتہ ماہ لیے گئے تھے اس لیے اس کیس کو 2019 کے پولیو کیسز میں شامل کیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2019 کے پولیو کیسز کی تعداد 135 تک پہنچ گئی

قومی پولیو پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق 2019 میں 136 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سال 2018 میں یہ تعداد 12 اور 2017 میں محض 7 تھی۔

صوبائی اعداد و شمار کے مطابق صرف خیبرپختونخوا میں پولیو کے 92 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 25 کیسز سندھ، 11 کیسز بلوچستان اور 8 پولیو کیسز پنجاب میں سامنے آئے۔

اس ضمن میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر قیصر سجاد نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ویکسینیشن کے 100 ادوار کے باوجود پولیو کی بیماری ملک میں موجود ہے۔

ایک بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ 2018 میں پولیو پروگرام وائرس کے خاتمے کی نہج پر تھا لیکن ایک سال کے دوران ہمارا پولیو پروگرام بگڑ گیا ہے، یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ باڈی نے پولیو پروگرام کو ملک میں ’سیاسی رسہ کشی‘ قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ ملک میں پولیو میں دوبارہ اضافے کی وجہ سیاسی اتحاد نہ ہونا ہے‘۔

مزید پڑھیں: ملک میں سال 2019 کے پولیو کیسز کی تعداد 134 تک پہنچ گئی

انہوں نے کہا کہ پی ایم اے کا ماننا ہے کہ سوشل، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے اور لوگوں کو پولیو اور اس کے اثرات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے حکومت کو ایک مربوط مہم چلانی پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عوام کو پولیو ویکسین کی اہمیت کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے اور انہیں خاص کر یہ سمجھانا چاہیے کہ ویکسین پولیو کے خاتمے کے لیے موثر ہے اور کسی طرح بھی نقصان دہ نہیں، اس کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں سے پولیو کے بارے میں تمام غلط تصورات دور کیے جانے چاہیے‘۔

واضح رہے کہ پولیو، وائرس کے ذریعے ہونے والی انتہائی متعدی بیماری ہے جو زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچوں کو اپنا شکار بناتی ہے۔

یہ وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر اسے مفلوج کردیتا ہے حتیٰ کے موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر سے مزید 5 پولیو کیسز کی تصدیق

وہیں یہ بات بھی اہم ہے کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں صرف ویکسین ہی سب سے موثر طریقہ ہے جس سے بچوں کو اپاہج کرنے والی اس بیماری سے بچایا جاسکتا ہے اور جب بھی بچے کو ویکسین پلائی جاتی ہے اس کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔

اس طرح بارہا حفاظتی ویکسین سے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ بنایا جاچکا ہے جبکہ دنیا تقریباً پولیو سے پاک ہوچکی ہے تاہم پاکستان اور افغانستان وہ 2 ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو کیسز سامنے آرہے ہیں۔


یہ خبر 15 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔