انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید افسران کے نام منظر عام پر لائے جائیں، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

وزیراعظم نے بی آئی ایس پی میں بے ضابطگیوں پر ناراضی کا اظہار کیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی
وزیراعظم نے بی آئی ایس پی میں بے ضابطگیوں پر ناراضی کا اظہار کیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے حکام کو ان تمام سرکاری افسران کے نام منظر عام پر لانے کی ہدایت کردی جنہوں نے اپنا اندراج مستحق اور غریب افراد کی مالی معانت کے پروگرام میں کروا کر مالی فوائد حاصل کیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بی آئی ایس پی حکام نے وزیراعظم کو ان افسران کی فہرست پیش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم غریبوں کا حق مارنے والے افراد کو معاف نہیں کرسکتے، ان لٹیروں کےنام عوام کے سامنے آنے چاہئیں‘۔

وزیراعظم نےبے ضابطگیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان ’بدعنوان عہدیداروں‘ کے نام سامنے لانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کی سزا یہی ہے کہ ان کے نام عوام کے سامنے لائے جائیں‘۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت ان عہدیداروں سے کوئی رعایت نہیں برتے گی جنہوں نے غریبوں کے حق پر ڈاکا مارا‘۔

یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز

یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مستحق افراد کے سماجی تحفظ کے پروگرام کے تحت مالی وظیفہ حاصل کرنے والے افراد کا دوبارہ سروے کروانے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ آخری سروے 9 سال قبل کیا گیا تھا اور اس عرصے میں لوگوں کی مالی حیثیت میں تبدیلی آسکتی ہے۔

دسمبر 2019 کے اواخر میں حکومت نے ینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے 8 لاکھ 20 ہزار 165 افراد کو 'غیرمستحق' قرار دیتے ہوئے ڈیٹابیس سے ان کا نام نکالنے کی منظوری دی تھی۔

اس حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ اس پروگرام سے مستفید ہونے والے جن 8 لاکھ افراد کو خارج کیا گیا ان میں سے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد ایسے تھے جو خود یا ان کے شریک حیات سرکاری ملازم تھے۔

مزید پڑھیں: بی آئی ایس پی سے ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین کے مستفید ہونے کا انکشاف

بی آئی ایس پی سے خارج کیے گئے کُل 8 لاکھ 20 ہزار ایک سو 65 افراد میں سے 14 ہزار 730 سرکاری ملازمین یا محکمہ ریلوے، ڈاک کے ملازمین تھے جبکہ انکم سپورٹ پروگرام سرکاری ملازمین کے لیے نہیں تھا۔

مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ 27 ہزار 826 افراد وہ ہیں جن کے شریک حیات سرکاری یا مذکورہ بالا محکموں کے ملازم ہیں۔

جس کے بعد حکومت نے اس پروگرام سے وظیفہ لینے والے گریڈ 17 اور اس سے زائد کے افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ حاصل کرنے والے سرکاری افسران میں سب سے زیادہ تعداد سندھ سے تعلق رکھتی ہے اور گریڈ 17 یا اس سے زائد کے ایک ہزار ایک سو 22 افسران بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار افراد کا نام نکالنے کا فیصلہ

سرکاری افسران کی دوسری بڑی تعداد بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے جہاں 7 سو 41 افسران نے خود کو غربت مٹاؤ پروگرام کے لیے درج کروا رکھا تھا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کے 403 جبکہ پنجاب کے 137 افسران انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ حاصل کرتے تھے۔

اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں وفاقی حکومت کے 62 افسران، پاکستان ریلویز کا ایک افسر، آزاد کشمیر کے 22، گلگت بلتستان کے 49 افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو مستحق ظاہر کر رکھا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ خود بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 6 افسران بھی اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔