یو اے ای میں گھریلو ملازمہ رکھنے والے خاندان کی ماہانہ کمائی 11 لاکھ روپے لازمی قرار

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

حکومت نے ملازمین کی تنخواہ میں 5 ہزار درہم کا اضافہ کردیا—فوٹو: ہوم ایڈوائیزر
حکومت نے ملازمین کی تنخواہ میں 5 ہزار درہم کا اضافہ کردیا—فوٹو: ہوم ایڈوائیزر

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے گھریلو خواتین ملازمین رکھنے کے خواہش مند خاندان کی ماہانہ کمائی کی حد بڑھا کر تقریبا پاکستانی 11 لاکھ روپے مقرر کردی۔

گلف نیوز کے مطابق یو اے ای کی وزارت انسانی وسائل کے حکام کے مطابق اب کوئی بھی اماراتی خاندان خاتون ملازم کو ملازمت پر اس وقت ہی رکھ سکے گا جب مذکورہ خاندان کی کمائی ماہانہ 25 ہزار درہم یعنی پاکستانی 10 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد ہوگی۔

وزارت انسانی وسائل نے جہاں گھریلو ملازمہ کو نوکری دینے والے خاندان کی کمائی کی حد مقرر کی ہے وہیں حکومت نے ملازمین کی بھرتی کے لیے بھی نئے اور سخت قوانین متعارف کرادیے۔

نئے قوانین کے تحت اب کوئی بھی اماراتی خاندان کسی غیر شادی شدہ خاتون کو گھریلو ملازمہ کے طور پر بھرتی نہیں کر سکے گا۔

نئے قوانین کے تحت حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی خاندان کی ماہانہ کمائی 25 ہزار درہم نہیں ہے تو بھی وہ گھریلو ملازمہ رکھ سکتا ہے تاہم اسے بھی ملازمہ کو وہی سہولیات فراہم کرنا پڑیں گی جو 25 ہزار درہم کمانے والا خاندان ملازمہ کو دے گا۔

یو اے ای میں لاکھوں گھریلو ملازمین کام کرتے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
یو اے ای میں لاکھوں گھریلو ملازمین کام کرتے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اماراتی خاندان کی جانب سے شادی شدہ بھرتی کی گئی ملازمہ کو جہاں ماہانہ تنخواہ ادا کرنا پڑے گی وہیں خاندان ملازمہ کو اچھی رہائش اور صحت مند غذا سمیت اسے میڈیکل کی سہولیات بھی فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔

اماراتی قوانین کے مطابق ملازمہ یومیہ محض 8 گھنٹے کام کرنے کی پابند ہوگی اور اسے 12 گھنٹے ہر حال میں آرام دیا جائے گا۔

گھریلو ملازمہ کو ہفتہ وار ایک چھٹی جب کہ سالانہ 30 چھٹیاں بھی دی جائیں گی اور ملازمت دینے والا خاندان یا کمپنی ملازمہ کو سالانہ 30 میڈیکل چھٹیاں دینے کی بھی پابند ہوگی۔

حکومت نے خواتین ملازمین کے نئے قوائد و ضوابط بناتے ہوئے اماراتی خاندانوں اور کمپنیوں کو یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو خواتین ملازمین کو فی گھنٹہ یا یومیہ کے حساب سے بھی ملازمت پر رکھ سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں کمپنی نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر کوئی خاندان کسی خاتون کو مستقل ملازمت پر رکھنا چاہتا ہے تو خاندان کو کم سے کم 2 سال تک خاتون کو ملازمت فراہم کرنا ہوگی۔

خواتین ملازمین کی جرائم میں ملوث ہونے کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
خواتین ملازمین کی جرائم میں ملوث ہونے کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

حکومت کے مطابق اگر کوئی خاندان کسی بھی خاتون کو بہت زیادہ عرصے تک ملازمت پر رکھنا چاہتا ہے تو مذکورہ خاندان ملازمہ کو ہر 2 سال بعد اپنے گھر (بیرون ملک) جانے کی اجازت دینے سمیت ان کے آنے جانے کے ایئر ٹکٹ کا بھی بندوبست کرے گا۔

حکومتی قوانین کے مطابق اگر کوئی خاندان بیرون ممالک سے خاتون ملازم چاہتا ہے تو مذکورہ خاندان کو ملازمہ کے تمام ویزا اور فضائی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔

حکومت نے اماراتی خاندانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رجسٹرڈ کمپنیوں کے ذریعے ہی گھریلو خواتین ملازمین رکھیں دوسری صورت میں خلاف ورزی کرنے والے خاندان پر 50 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں گھریلو خواتین ملازمین زیادہ تر بیرون ممالک سے بلوائی جاتی ہیں۔

یو اے ای میں زیادہ تر ایشیائی خواتین، جن میں بھارتی اور بنگلہ دیشی سرفہرست ہیں، وہ بطور گھریلو ملازم کام کرتی ہیں، علاوہ ازیں پاکستان، افغانستان، تھائی لینڈ، سری لنکا اور نیپال کی خواتین بھی وہاں گھریلو ملازمت کرتی ہیں۔

سعودی عرب، بحرین، کویت اور قطر کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی بہت زیادہ خواتین گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتی ہیں۔

عام طور پر گھریلو ملازمت کے لیے یو اے ای میں 30 سال سے زائد عمر خواتین کو رکھا جاتا ہے تاہم اچھی تنخواہ کے لالچ میں کئی ممالک کی کم عمر لڑکیاں شادی کے فوری بعد وہاں گھریلو ملازمت کے لیے منتقل ہوتی ہیں۔

فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنامی خواتین بھی یو اے ای میں زیادہ تعداد میں ملازمت کرتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنامی خواتین بھی یو اے ای میں زیادہ تعداد میں ملازمت کرتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی