پتھراؤ کرنے والے کشمیری پیلٹ گنز سے زیادہ خطرناک ہیں، بھارتی جنرل

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2020

ای میل

ہم پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تحت بلیک لسٹ کرنے جارہے ہیں، بھارتی جنرل کی ہرزہ سرائی — فائل فوٹو / اے ایف پی
ہم پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تحت بلیک لسٹ کرنے جارہے ہیں، بھارتی جنرل کی ہرزہ سرائی — فائل فوٹو / اے ایف پی

بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے کا الزام بھارتی سیکیورٹی فورسز پر عائد نہیں ہوتا کیونکہ پتھراؤ کرنے والے کشمیری پیلٹ گنز سے 'زیادہ خطرناک' ہیں۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے کہا کہ 'پیلٹ گن غیر مہلک ہتھیار ہے جو اب بہت شاذ و نادر ہی استعمال ہوتی ہے'۔

واضح رہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ مظاہروں کو قابو کرنے کے لیے پیلٹ گنز کے ایسے کارتوس استعمال کیے جا رہے ہیں جس میں ایک وقت میں 300 سے 600 چھرے بھرے جاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا پیلٹ گنز سے متاثر کشمیریوں کی بینائی لوٹ سکے گی؟

2014 میں 20 ایسے لوگوں پر تحقیق کی گئی جن کی آنکھیں کشمیر میں پیلٹ چھروں کی وجہ سے زخمی ہوئی تھیں، اس تحقیق کے مطابق ان افراد میں سے 33 فیصد دوبارہ اپنی آنکھوں کی بینائی حاصل نہیں کر پائے تھے۔

بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے مزید کہا کہ 'پیلٹ گنز سے مقبوضہ کشمیر کے نوجوان مظاہرین کے صرف پیروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز بدترین طریقہ اپنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب ہمیں 1990 کی دہائی میں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا تو ہمیں سختی سے پیش آنا پڑا'۔

جنرل بپن راوت نے بتایا کہ دہشت گردی سے سیکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ایک کے مقابلے میں 3 اہلکاروں کا تھا۔

بین راوت نے اقرار کیا کہ 'اگر ہم سختی رکھتے تو ہمیں یہ جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کی پیلٹ گن کا نشانہ بننے والی کشمیری بچی کی آنکھ کا آپریشن

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں دہشت گردی کے خلاف ایسا ہی طرز عمل اپنانا ہوگا جس طرح امریکا نے نائن الیون کے بعد شروع کیا۔

خیال رہے کہ بھارت نے ہمالیہ خطے میں 12 بور کی پیلٹ شاٹ گن 2010 میں بھارت مخالف مظاہرین اور حکومتی فورسز کی جھڑپ میں متعارف کرائی تھی جس میں تقریباً 100 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ہمالیہ کے متنازع خطے سے قابل اعتماد معلومات کا ملنا مشکل ہے تاہم سرکاری ڈیٹا کے مطابق 2017 میں صرف 8 ماہ میں اس ہتھیار سے 13 افراد ہلاک اور 6 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں سے 8 سو افراد کی آنکھیں متاثر ہوئی تھیں۔

1989 سے متعدد مسلح گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیری نوجوانوں پر چھروں کا قہر

اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

بھارتی جنرل کا پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'ہم پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تحت بلیک لسٹ کرنے جارہے ہیں، اگر ایسا نہیں ہوا تو ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی ہوگی'۔

انہوں نے افغانستان میں طالبان اور امریکا کے مابین امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ہتھیار چھوڑ دیں اور سیاسی دھارے میں آئیں۔

انہوں نے کہا کہ 'طالبان سمیت کوئی بھی تنظیم جو دہشت پھیلا رہی ہے اسے اسلحہ چھوڑنا ہوگا، انہیں سیاسی دھارے میں آنا چاہیے۔