ملک میں آٹے کا بحران، 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2020

ای میل

ملک میں آٹے کے بحران کو دیکھتے ہوئے گندم درآمد کرنے کی منظوری دی گئی — فائل فوٹو: رائٹرز
ملک میں آٹے کے بحران کو دیکھتے ہوئے گندم درآمد کرنے کی منظوری دی گئی — فائل فوٹو: رائٹرز

ملک میں آٹے کے بحران اور قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بغیر ریگولیٹری ڈیوٹی کے 3 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دے دی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں 31 مارچ تک گندم کی درآمد کی اجازت دی گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت اور پاکستان ایگری کلچرل اسٹوریج اور سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو ہدایت کی گئی ہے ملک بھر میں جاری قلت کو ختم کرنے کے لیے ذخیرہ کی گئی گندم کو جاری کریں۔

مزید پڑھیں: بدھ سے آٹا 45 روپے کلو میں دستیاب ہوگا، وزیر زراعت سندھ

واضح رہے کہ وزارت خزانہ کے مطابق پنجاب اور پاسکو کے پاس تقریباً 41 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ ملک میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور مختلف صوبوں میں کہیں آٹا دستیاب نہیں اور کہیں اس کی قیمت عوام کی قوت خرید سے باہر ہے اور رپورٹس کے مطابق 70 روپے کلو تک آٹا فروخت کیا جارہا۔

بحران جلد ختم ہونے کا دعویٰ

قبل ازیں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی خوراک اور ریسرچ مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ منگل تک گندم کا بحران ختم ہوجائے گا اور قیمتیں معمول پر آجائیں گی۔

وفاقی وزیر نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی اور کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال کو سندھ اور خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کی اہم وجہ قرار دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں مطلوبہ ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گندم کا ذخیرہ موجود ہے، ساتھ ہی انہوں نے ذخیرہ اندوزی، منافع کمانے یا 'مصنوعی' بحران پیدا کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عزم کیا تھا۔

حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

تاہم جہاں ایک جانب حکومت نے بحران ختم ہونے کے دعوے کیے ہیں تو وہیں حکومت اور اپوزیشن کا ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں آٹے کا شدید بحران، ارباب اختیار ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے لگے

گزشتہ روز جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ میں آٹے کے بحران کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیا گیا تو وہی سندھ حکومت نے بھی معاملے میں الزام تراشی کرتے ہوئے وزیراعظم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) نے الزام لگایا تھا کہ گندم کی قلت کے باوجود اسے برآمد کیا گیا۔

مزید برآں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔