افریقی ارب پتی خاتون لوٹی ہوئی دولت سے عیاشیاں کرتی رہیں، لواندا لیکس

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2020

ای میل

افریقی ارب پتی خاتون کی پارٹی میں پیرس ہلٹن و دیگر معروف شخصیات شامل ہوتی رہی ہیں — فائل فوٹو: پیور پیپل
افریقی ارب پتی خاتون کی پارٹی میں پیرس ہلٹن و دیگر معروف شخصیات شامل ہوتی رہی ہیں — فائل فوٹو: پیور پیپل

کم سے کم 3 درجن صحافتی اداروں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وسطی افریقہ کے ملک انگولیا کے سابق صدر جوس اڈارڈو ڈاس سینٹوس کی ارب پتی بیٹی ملک سے لوٹی ہوئی دولت کے پیسوں سے یورپی ممالک و امریکا میں عیاشیاں کرتی رہی ہیں۔

یہ دعویٰ چند سال قبل دنیا بھر میں ’پاناما لیکس‘ کو سامنے لانے والی صحافیوں کی عالمی تنظیم ’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹس‘ (آئی سی جے) اور برطانوی اخبار دی گارجین سمیت 37 صحافتی اداروں کی جانب سے کی جانی والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

مذکورہ 37 صحافتی اداروں نے انگولا کے سابق صدر کی 46 سالہ بیٹی ازابیل ڈاس سینٹوس کی جانب سے کرپشن اور غیر قانونی طریقے سے جمع کی گئی دولت کے الزامات کی تفتیش کی اور اس تفتیش میں کئی ہفتے لگے۔

’آئی سی جے‘ نے اس اسکینڈل کو ’لواندا لیکس‘ کا نام دیا ہے کیوں کہ ’لواندا‘ انگولا کے دارالحکومت کا نام ہے اور سابق صدر کی 46 سالہ بیٹی ازابیل ڈاس سینٹوس نے محض 26 سال کی عمر سے اسی شہر سے ملکی و حکومتی معاملات میں مداخلت کرکے اپنی دولت بنانا شروع کی۔

ازابیل کو انگولا کی بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا رہا ہے—فوٹو: پورٹل ڈی انگولا
ازابیل کو انگولا کی بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا رہا ہے—فوٹو: پورٹل ڈی انگولا

آئی سی جے کے مطابق مذکورہ تفتیش کے دوران 7 لاکھ سے زائد دستاویزات کا جائرہ لیا گیا جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ازابیل ڈاس سینٹوس نے اپنے والد کے دور میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر نہ صرف اربوں روپے کے ٹھیکے حاصل کیے بلکہ کمیشن کے عوض ٹھیکے فروخت بھی کیے۔

تحقیقاتی صحافتی تنظیم نے افریقی اور برطانوی اداروں سمیت یورپی اداروں کے ساتھ مل کر مذکورہ معاملے کی تفتیش کی اور رپورٹ میں بار بار اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ سابق صدر کی ارب پتی بیٹی نے غریبوں کے ٹیکس کی لوٹی ہوئی دولت سے برطانیہ، امریکا اور دیگر یورپی ممالک میں پرتعیش پارٹیاں منعقد کیں اور ان پارٹیوں میں امیر ترین افراد کو مدعو کیا جاتا رہا۔

اسی رپورٹ کے حوالے سے برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ نے بتایا کہ 37 اداروں کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نہ صرف 46 سالہ ازابیل ڈاس سینٹوس بلکہ ان کے شوہر بھی انگولا سے دولت کو جمع کرنے میں شریک مجرم پائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ازابیل ڈاس سینٹوس کے امیر بننے اور ان کی جانب سے دولت جمع کرنے کا سلسلہ 1999 سے شروع ہوتا ہے جب انگولا میں پہلی بار ٹیلی کمیونی کیشن کا ٹھیکا دیا جانے لگا۔

ارب پتی خاتون دنیا کے مہنگے ترین علاقوں میں پارٹیاں کرتی رہی ہیں—فوٹو: وائر امیج
ارب پتی خاتون دنیا کے مہنگے ترین علاقوں میں پارٹیاں کرتی رہی ہیں—فوٹو: وائر امیج

اس وقت ازابیل کی عمر محض 25 یا 26 برس تھی اور انہوں نے ٹیلی کام کمپنی کو ٹھیکا دینے کے بدلے ان سے 25 فیصد شیئر خریدے اور اب مذکورہ ٹیلی کام کمپنی انگولا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ہے اور اس کی مالیت تقریبا 2 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی طرح ازابیل ڈاس سینٹوس والد کے دور صدارت میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ٹھیکوں پر کمیشن لینے سمیت کئی طرح کی کمپنیوں کے شیئر خرید کر مذکورہ کمپنیوں کو ٹھیکے دلواتی رہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق صدر کی بیٹی نے نہ ٹیلی کام، تیل، ہیروں، بینکنگ اور ریئل اسٹیٹ سمیت کئی طرح کے کاروبار میں والد کی رضامندی سے کئی غیر قانونی معاہدے کرکے دولت بنائی۔

رپورٹ میں امریکی اقتصادی جریدے ’فوربز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ازابیل ڈاس سینٹوس کی 2019 تک 4 ارب ڈالر کی دولت تھی اور انہیں افریقہ کی امیر ترین خاتون کا اعزاز حاصل تھا۔

ازابیل ڈاس ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن اور لنزے لوہان سے بھی ملتی رہی ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام
ازابیل ڈاس ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن اور لنزے لوہان سے بھی ملتی رہی ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام

گارجین کے مطابق ازابیل ڈاس سینٹوس نے تیل، بینک، میڈیا، ٹیلی کام، ہیرے اور سونے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے سمیت شاپنگ سینٹرز میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ان کی لندن، دبئی اور لزبن سمیت کئی شہروں میں اربوں روپے کی جائدادیں ہیں۔

افریقہ کی ارب پتی خاتون کی دنیا کے امیر ترین اور کم آبادی والے یورپی ملک مناکو میں بھی جائدادیں ہیں جب کہ وہ افریقہ کی سب سے بڑی آرٹ گیلری کی مالک بھی ہیں۔

انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں شاپنگ سینٹرز سمیت ریزورٹس اور ہوٹلوں میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

گارجین کے مطابق ’لواندا لیکس‘ سامنے آنے کے بعد ازابیل ڈاس سینٹوس نے خود پر لگے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قانون کے تحت دولت جمع کی۔

ازابیل کے شوہر پر بھی خورد برد کے الزامات ہیں—فوٹو: پیور پیپل/ وائر امیج
ازابیل کے شوہر پر بھی خورد برد کے الزامات ہیں—فوٹو: پیور پیپل/ وائر امیج

’لواندا لیکس‘ میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ ازابیل ڈاس نے ایک طرح سے قدرتی وسائل سے مالا مال اپنے ملک کو لوٹ کر غریب عوام کا استحصال کرکے ان کی رقم پر عیاشیاں کرتی رہیں۔

خیال رہے کہ ازابیل ڈاس سینٹوس کے والد 38 سال تک ملک کے صدر رہے اور انہیں 2017 میں عہدے سے استعفٰی دینے پر مجبور کیا گیا۔

والد کے عہدہ صدارت سے ہٹنے کے بعد ازابیل ڈاس سینٹوس کی طاقت اور اختیارات میں بھی کمی ہوئی اور انہیں کئی عہدوں اور معاہدوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

ازابیل ڈاس سینٹوس زیادہ تر لندن، نیویارک، میامی بیچ، دبئی اور مناکو جیسے شہروں میں زندگی گزارتی اور معروف و امیر ترین شخصیات کے ساتھ پرتعیش پارٹیاں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

ازابیل ڈاس سینٹوس کی پارٹیوں میں نامور ہولی وڈ اداکارائیں، اداکار، گلوکار و فیشن شخصیات شامل ہوتی رہتی ہیں۔

ازابیل کے والد 2017 تک 38 سال تک صدر رہے—فوٹو: ٹیٹلر
ازابیل کے والد 2017 تک 38 سال تک صدر رہے—فوٹو: ٹیٹلر