سیہون: 'عدالتی چیمبر میں لڑکی سے زیادتی'، سول جج کے خلاف مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2020

ای میل

مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات  376 اور 506 کے تحت سیہون تھانے میں درج  کیا گیا — فوٹو: شٹر اسٹاک
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376 اور 506 کے تحت سیہون تھانے میں درج کیا گیا — فوٹو: شٹر اسٹاک

صوبہ سندھ کے علاقے سیہون شریف میں عدالت میں انصاف مانگنے کے لیے آئی لڑکی سلمیٰ بروہی سے چیمبر میں مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے پر پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سیہون مظہر نائچ کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں سول جج امتیاز بھٹو کو نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376 (زیادتی) اور 506 (ہراساں) کے تحت سیہون تھانے میں درج کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی ایس پی سیہون، بشیر کونہارو نے لاڑکانہ کے دارالامان میں لڑکی سلمیٰ بروہی کا بیان ریکارڈ کرکے رپورٹ اعلی حکام کے حوالے کی تھی، جس کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات ملے اور پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔

مزید پڑھیں: سیہون: خاتون کے جسم پر کسی تشدد یا خراش کا نشان نہیں، طبی رپورٹ

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے سیہون میں تعینات جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے مبینہ طور پر شکایت گزار خاتون کی جانب سے ان پر لگائے گئے ریپ کے الزامات کے تحت انہیں معطل کردیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جوڈیشل مجسٹریٹ کو معطل کر کے فوری طور پر ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ گھر چھوڑ کر پسند کی شادی کے خواہشمند جوڑے کو پولیس نے 13 جنوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ سیہون پولیس میں شکایت درج کرانے والی لڑکی کو مجسٹریٹ نے اپنے چیمبر میں بلا کر وہاں موجود تمام اسٹاف اور خواتین پولیس اہلکاروں کو جانے کا کہا اور پھر لڑکی کا ریپ کیا۔

ذرائع کے مطابق لڑکی کو طبی جانچ کے لیے سیہون میں سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لایا گیا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں جامشورو کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے معاملے کی ابتدائی تحقیقات کیں اور اس بارے میں ہائی کورٹ کو رپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سیہون: چیمبر میں لڑکی کا 'ریپ' کرنے والا جوڈیشل مجسٹریٹ معطل

گزشتہ روز خاتون کی ابتدائی طبی رپورٹ سیہون پولیس کو موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خاتون کے جسم پر کسی تشدد یا خراش کا نشان موجود نہیں تھا تاہم کیمیکل معائنہ کے بعد ہی زیادتی کی تصدیق ہوسکے گی۔

سیہون پولیس کو موصول طبی رپورٹ میں کہا گیا کہ '18 سالہ لڑکی کے جسم پر کسی تشدد یا خراش کا کوئی نشانہ نہیں ملا'۔

طبی رپورٹ میں کہا گیا کہ 'لڑکی کنواری نہیں تھی تاہم طبی معائنے میں یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ لڑکی کو (عدالت میں) ریپ کیا گیا یا نہیں'۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ 'کراچی میں کیمیکل معائنے کے بعد ہی اس امر کی تصدیق ہوسکے گی'۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 'ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں'۔