پاکستان 11سال بعد ہوم گراؤنڈ پر بنگلہ دیش کی میزبانی کیلئے تیار

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

بنگلہ دیش کے کپتان محمد محموداللہ اور ان کے پاکستانی ہم منصب بابراعظم ٹی20 سیریز کی ٹرافی کے ہمراہ — فوٹو: اے پی
بنگلہ دیش کے کپتان محمد محموداللہ اور ان کے پاکستانی ہم منصب بابراعظم ٹی20 سیریز کی ٹرافی کے ہمراہ — فوٹو: اے پی

اسلام آباد: پاکستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ آج کچھ دیر بعد لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں پاکستانی ٹیم کو سیریز میں عالمی نمبر ایک پوزیشن بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔

ٹی20 کرکٹ میں گزشتہ سال مسلسل ناکامیوں کے سبب پاکستانی ٹیم اب عالمی نمبر ایک پوزیشن بچانے کی فکر میں ہے اور سیریز میں کلین سوئپ نہ کرنے کی صورت میں قومی ٹیم پہلی پوزیشن گنوا بیٹھے گی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش سے ٹی20 سیریز: پاکستانی ٹیم سے 7 کھلاڑی ڈراپ

سیریز میں 1-2 سے فتح کی صورت میں بھی آسٹریلیا کی ٹیم عالمی نمبر ایک بن جائے گی لہٰذا پاکستان کو ہر حال میں سیریز میں کلین سوئپ کرنا ہو گا۔

قومی ٹیم کے کپتان بھی بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کی اہمیت سے واقف ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم عالمی نمبر ایک پوزیشن بچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے مارو یا مرو والی صورتحال ہے اور ہم نے اسی کی مناسبت سے تیاری کی ہے، ہم نے کھلاڑیوں سے بات کی ہے کہ عالمی نمبر ایک پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے انہیں 110 فیصد کارکردگی دکھانا ہو گی۔

پاکستان نے سری لنکا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف ٹی20 سیریز میں کلین سوئپ کے بعد مڈل آرڈر میں بیٹنگ لائن کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ کو اسکواڈ میں واپس طلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دورہ پاکستان کیلئے بنگلہ دیش کے ٹی20اسکواڈ کا اعلان، تمیم کی واپسی

قومی ٹیم میں تبدیلیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سیریز میں شریک 7کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ڈراپ کر کے نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ تشکیل دیا گیا ہے۔

اسکواڈ میں احسن علی اور حارث رؤف بھی پہلی مرتبہ جگہ بنانے میں کامیاب رہے اور دونوں کھلاڑیوں کا پہلے میچ میں ڈیبیو متوقع ہے۔

بنگلہ دیش کی ٹیم دو مرحلوں میں پاکستان کا دورہ کر رہی ہے جہاں پہلے مرحلے میں 3 ٹی20 میچز اور ایک ٹیسٹ میچ کھیلا جائے گا اور پاکستان سپر لیگ کے بعد دورے کے دوسرے مرحلے میں بنگلہ دیشی ٹیم ایک ون ڈے اور ایک ٹیسٹ میچ کراچی میں کھیلے گی۔

سیکیورٹی خدشات کے سبب تجربہ کار مشفیق الرحیم نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا تاہم اس کے علاوہ بنگلہ دیش کا مکمل اسکواڈ پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جس کی قیادت محمد محموداللہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مشفیق اور بنگلہ دیش کوچنگ اسٹاف کے 5اراکین دورہ پاکستان سے دستبردار

جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے کپتان محموداللہ نے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے طیارے میں سوار ہوتے ہوئے ہی ہم نے سیکیورٹی خدشات کو پس پشت ڈال دیا تھا، ہم صرف پاکستان میں اچھی کرکٹ کھیلنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، ہمیں یہاں واپس آ کر اچھا لگ رہا ہے اور ہم اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے آخری مرتبہ 2008 میں پاکستان کا دورہ کیا اور اس کے بعد 11 سال تک سیکیورٹی خدشات اور دونوں ملکوں کے بورڈز کے درمیان کشیدگی کے سبب بنگلہ دیش نے دوبارہ پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

عالمی نمبر ایک پاکستان سے مقابلے کے سوال پر محموداللہ نے کہا کہ وہ رینکنگ پر یقین نہیں رکھتے اور بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے بعد ان کے کھلاڑی اچھی فارم میں ہیں اور انہیں ان تمام کھلاڑیوں سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔

'اگر آپ رینکنگ کے بارے میں سوچیں گے تو اس سے ہمارا کھیل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ایک مضبوط ٹیم ہے لیکن اگر آپ ٹی20 میں ہماری کارکردگی کا گراف دیکھیں تو گزشتہ چند سیریز سے ہم بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیسوں کیلئے بھارت کی تعریف کرنے کا طعنہ دینے پر شعیب کا سہواگ کو جواب

بنگلہ دیشی کپتان نے خود کو پاکستان میں بالکل محفوظ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں اچھی کارکردگی دکھانا چاہتا ہیں۔

دونوں ٹیموں کے درمیان میچ کے لیے بیٹنگ وکٹ تیار کی گئی ہے جس کو دیکھتے ہوئے میچ میں بڑے اسکور کی توقع ہے اور شائقین کرکٹ کو چھکے چوکوں کی بارش دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

ون ڈے اور ٹیسٹ کی طرح ٹی20 میں بھی پاکستان کا بنگلہ دیش کے خلاف پلڑا بھاری ہے۔

دونوں ٹیمیں اب تک 10 ٹی ٹوئنٹی میچز میں مدمقابل آئی ہیں جس میں پاکستان کا پلہ بھاری ہے جس نے 8 میچوں میں فتح حاصل کی اور دو میں فتح نے بنگلہ دیشی ٹیم کے قدم چومے۔

تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی آخری دو طرفہ سیریز میں پاکستانی ٹیم کو 1-2 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

مزید پڑھیں: عدنان صدیقی کے ساتھ تصویر شیئر کرنا زینب عباس کو مہنگا پڑ گیا

پاکستان میں دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ 2008 میں ٹی ٹوئنٹی میں ٹکرائیں جس میں فتح شاہینوں کے نام رہی جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ٹی20 میچ 2016 میں کھیلا گیا تھا۔

یہ دنووں ٹیموں کے درمیان قذافی اسٹیڈیم میں پہلا ٹی20 میچ ہوگا جو اب تک 9انٹرنیشنل ٹی20 میچوں کی میزبانی کا اعزاز رکھتا ہے۔

اس گراؤنڈ پر کھیلے گئے 9 ٹی20 میچوں میں سے 5 میں پاکستان ٹیم کو فتح نصیب ہوئی جبکہ 4 میں شکست سے دوچار ہوئی۔

3 ٹی 20 میچوں کی سیریز میں رنجن مدوگالے کو میچ ریفری مقرر کیا ہے جبکہ احسن رضا اور شوزاب رضا امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے، احمد شہاب کو تھرڈ اور طارق رشید کو فورتھ امپائر مقرر کیا گیا ہے۔

میچ کے لیے دونوں ٹیموں کا انتخاب ان کھلاڑیوں میں سے کیا جائے گا۔

پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، احسن علی، عماد بٹ، حارث رؤف، افتخار احمد، عماد وسیم، خوشدل شاہ، شعیب ملک، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد رضوان، موسیٰ خان، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی اور عثمان قادر۔

بنگلہ دیش: محمد محموداللہ (کپتان)، تمیم اقبال، سومیا سرکار، محمد نعیم، نجم الحسن شانتو، لٹن داس، محمد متھن، عفیف حسین، مہدی حسن، امین الاسلام، مستفیض الرحمان، شفیع الاسلام، الامین حسین، روبیل حسین اور حسن محمود۔

میچ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے قذافی اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔