حکومت کا یومِ کشمیر کے حوالے سے 8 روزہ مہم کا اعلان

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

پروگرام کی سرگرمیوں کا آغاز 25 جنوری سے ہوگا جو یومِ یکجہتی کشمیر 5 فروری تک جاری رہیں گی—تصویر: اے پی پی
پروگرام کی سرگرمیوں کا آغاز 25 جنوری سے ہوگا جو یومِ یکجہتی کشمیر 5 فروری تک جاری رہیں گی—تصویر: اے پی پی

اسلام آباد: حکومت نے یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تفصیلی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ وادی میں جدو جہد آزادی کو ’موثر طریقے سے‘ فروغ دے رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ پروگرام کا اعلان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، جس میں ان کے ہمراہ وزیر مواصلات مراد سعید، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور سینیٹر فیصل جاوید موجود تھے۔

8 روزہ پروگرام کی سرگرمیوں کا آغاز 25 جنوری سے ہوگا اور یومِ یکجہتی کشمیر 5 فروری تک جاری رہیں گی، وزیر خارجہ کے مطابق اس کا مقصد عوام بالخصوص نوجوانوں میں کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی جدو جہد اور بھارتی فورسز کے مظالم کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ

خیال رہے کہ بھارتی تسلط کے تحت زندگیاں گزارنے والے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔

اس سال اس دن کی اہمیت اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ برس اگست میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کے یکطرفہ الحاق کے بعد یہ پہلا یوم کشمیر ہے۔

8 روزہ سرگرمیوں کا اختتام 5 فروری کو مظفرآباد میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی وزیراعظم عمران خان کے خطاب سے ہوگا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی 'غیر قانونی' تقسیم مسترد کردی

اس دوران جو تقاریب ہوں گی ان میں 25 جنوری سے میڈیا مہم کا آغاز، 27 جنوری کو اسلام آباد کے نیشنل کونسل آف آرٹس میں ثقافتی شو، 28 جنوری کو ملک بھر کی بڑی آرٹ گیلریوں اور بیرونِ ملک پاکستانی مشنز میں کشمیریوں کی جدوجہد پر تصویری نمائش، 30 جنوری کو اسلام آباد میں کشمیر پر سیمینار، 31 جنوری کو قائمہ کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین سید فخر امام کی پریس کانفرنس، 3 فروری کو اسلام آباد کے کنوینشن سینٹر میں نوجوانوں کے لیے تقریب، 4 فروری کو کشمیری مہاجر کیمپ میں راشن کی تقسیم اور ایوانِ صدر میں یومِ کشمیر، 5 فروری کو آزاد کشمیر میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر اور صوبائی دارالحکومتوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔

اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم عالمی رہنماؤں کو خط لکھ کر کشمیریوں کی حالت زار سے آگاہ کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے بھارتی حکام کی جانب سے یورپی پارلیمینٹیرینز اور دہلی میں موجود سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کروانے کے بارے میں کہا کہ بھارت دنیا کو یہ کہہ کر کہ وادی میں صورتحال معمول کے مطابق دنیا کو دھوکا دینے کی کشش کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ

انہوں نے کہا کہ ’کیا ایسا نہیں ہے کہ قابض فوجوں کے لاک ڈاؤن کو ایک سو 75 واں روز ہے، کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق غصب ہیں‘۔

کشمیر پر پاکستان کی مہم موثر نہ ہونے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیر جیسا پیچیدہ مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہوسکتا اور سفارتی عمل سست روی سے آگے بڑھتا ہے۔